
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے اسرائیل پر جوابی حملے کے بعد ردعمل دیتے ہوئےکہا ہے کہ ایران کو مشورہ دوں گا، آپ نے اپنے میزائل داغ دیے بس اتنا کافی ہے، امید ہے اسرائیل جوابی کارروائی نہیں کرے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافی بارک راوڈ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران میز پر واپس آئے اور معاہدہ کرے، امریکی فوج الرٹ ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے بیروت پر آج کے حملے پر خوش نہیں ہوں، میں ابھی نیتن یاہو کو فون کرنے جا رہا ہوں، اسرائیلی وزیر اعظم سے کہوں گا کہ جوابی حملہ نہ کرے۔
ٹرمپ نے کہا کہ نیتن یاہو جوابی حملہ کرے گا تو یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہے گاجیسے 47 سال سے چل رہاہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ہم ایران کے ساتھ ایک حتمی معاہدے کے بہت قریب ہیں، نہیں چاہتا کہ اس صورتحال کی وجہ سے یہ ختم ہو جائے، معاہدے پر پیر، منگل یا بدھ کو دستخط ہونے تھے اور اب یہ سب کچھ ہوگیا۔
واضح رہے کہ ایران نے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر حملوں کے جواب میں اسرائیل پر میزائل داغ دیے ہیں۔
اسرائیلئ فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل فائر کیے گئے ہیں اور فضائی دفاع نظام میزائل حملوں کوناکام بنا رہا ہے
ایران کے اسرائیل پر جوابی میزائل حملے کے بعد ایرانی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل پر حملہ ایک وارننگ تھا، جارحیت دہرائی گئی تو جواب مزید وسیع ہوگا۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کے رامات ڈیوڈ ائیر بیس کو آئی آر جی سی ایروسپیس فورس کے بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی قبولیت اس شرط پر تھی کہ تمام محاذوں پر فائرنگ بند ہو، امریکا اور اسرائیل نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا







