Column

سرکاری ملازمین اور پنشنرز کی خاموش چیخیں

سرکاری ملازمین اور پنشنرز کی خاموش چیخیں

تحریر : رفیع صحرائی

ملک میں مہنگائی اب محض ایک معاشی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ ایک ایسی بے رحم حقیقت بن چکی ہے جس نے متوسط اور سفید پوش طبقے کی سانسیں تک گروی رکھ دی ہیں۔ بازاروں میں اشیائے خورونوش کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر بدلتی ہیں، بجلی اور گیس کے بل ہر ماہ نئے ریکارڈ قائم کرتے ہیں، پٹرول کی قیمتیں عوام کے حوصلے پست کرتی جا رہی ہیں اور روپے کی بے قدری نے زندگی کو عذاب بنا دیا ہے۔ ان تمام حالات میں سب سے زیادہ پسنے والا طبقہ اگر کوئی ہے تو وہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کا طبقہ ہے۔

وہ طبقہ جو کبھی محدود آمدنی کے باوجود عزت اور وقار کے ساتھ زندگی گزار لیتا تھا، آج اپنی سفید پوشی بچانے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ ایک وقت تھا جب محلے کی کریانے کی دکان پر سرکاری ملازم کا کھاتہ چل جاتا تھا۔ دکاندار جانتے تھے کہ مہینے کے آخر میں تنخواہ آئے گی اور ادھار چُک جائے گا۔ مگر اب حالات یہ ہیں کہ دکاندار بھی ہاتھ جوڑنے لگے ہیں کیونکہ مہنگائی نے روپے کی قدر کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔ آج ہزار روپے کی چیز اگلے ماہ تیرہ سو میں ملتی ہے، اس لیے کوئی بھی ادھار دینے کو تیار نہیں کہ ایک ماہ انتظار کرنے کے بعد وصول ہونے والی رقم کی ولیو 25سے 30فیصد کم ہو چکی ہو گی۔

سرکاری ملازمین کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنی آمدنی میں خود اضافہ نہیں کر سکتے۔ ایک مزدور اپنی مزدوری بڑھا لیتا ہے، رکشہ چلانے والا کرایہ بڑھا دیتا ہے، دکاندار اپنی اشیا مہنگی کر دیتا ہے، تاجر اپنا منافع بڑھا لیتا ہے، مگر سرکاری ملازم اپنی تنخواہ کے لیے ہر سال بجٹ کا محتاج ہوتا ہے۔ وہ حکومتی فیصلوں کے رحم و کرم پر زندہ رہتا ہے۔حالات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آج بھی ہزاروں سرکاری ملازمین 2008ء کے پے اسکیل کے مطابق ہائوس رینٹ وصول کر رہے ہیں۔ انہیں دو ہزار، تین ہزار یا چار ہزار روپے ہائوس رینٹ کے نام پر دئیے جاتے ہیں جبکہ بڑے شہروں میں ایک کمرے کا کرایہ بھی اس رقم سے کئی گنا زیادہ ہو چکا ہے۔ یہ ریلیف نہیں بلکہ سرکاری ملازمین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔

اسی طرح میڈیکل الائونس کی صورتحال بھی انتہائی افسوسناک ہے۔ سرکاری ملازم کو جس قدر میڈیکل الائونس ملتا ہے وہ رقم پرائیویٹ ڈاکٹر کے ایک وزٹ کی فیس سے بھی کم ہوتی ہے۔ سرکاری ملازم اپنی تنخواہ سے بچوں کی فیسیں دے، گھر کا راشن خریدے، بجلی کے بل ادا کرے یا بیماری کا علاج کروائے؟ ادویات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ایک عام پرائیویٹ ڈاکٹر کی فیس ہی میڈیکل الانس کو نگل جاتی ہے۔ ایسے میں بیمار ہونا غریب آدمی کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں رہا۔

سرکاری پنشنرز کی حالت اس سے بھی زیادہ دگرگوں ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے اپنی جوانیاں سرکاری خدمت میں گزار دیں، اپنی زندگی کے 35سے 40سال سرکاری مشینری کا پرزہ بن کر گزار دیئے، آج بڑھاپے میں دو وقت کی روٹی اور علاج کے لیے ترس رہے ہیں۔ مہنگائی نے ان کی پنشن کی حیثیت ختم کر دی ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ ہر بجٹ میں حاضر سروس ملازمین کے مقابلے میں پنشنرز کو نصف تناسب سے اضافہ دیا جاتا ہے، گویا بڑھاپا کسی رعایت کا نہیں بلکہ سزا کا نام ہے۔

حکومتیں بدلتی رہیں مگر سرکاری ملازمین کی مشکلات میں کمی نہ آ سکی۔ کبھی معاشی اصلاحات کے نام پر قربانی مانگی گئی، کبھی آئی ایم ایف کی شرائط کا بہانہ بنایا گیا، اور کبھی قومی مفاد کا درس دے کر عوام کو خاموش رہنے کا مشورہ دیا گیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ قومی مفاد ہمیشہ غریب ملازم ہی سے کیوں وصول کیا جاتا ہے؟ کیا ایوانوں میں بیٹھے مقتدر طبقات نے کبھی اپنی مراعات کم کیں؟ کیا لگعری گاڑیوں، پروٹوکول، سرکاری اخراجات اور شاہانہ طرزِ زندگی پر بھی کبھی کٹ لگایا گیا؟۔ ہمیشہ یہی دیکھا گیا ہے کہ اپنی تنخواہ بڑھانے کا معاملہ آئے تو ایوان میں بیٹھے عوامی نمائندگان چار پانچ سو فیصد اس میں اضافہ کر لیتے ہیں۔ تب آئی ایم ایف کو اعتراض ہوتا ہے نہ ملکی خزانے پر اس کا اثر پڑتا ہے۔

آج ایک سرکاری ملازم اپنی تنخواہ کے ساتھ مہینے کے پہلے پندرہ دن بھی پورے نہیں کر پاتا۔ بچوں کی تعلیم، شادی بیاہ، بیماری، کرایہ، بجلی، گیس اور روزمرہ اخراجات نے اس کی کمر توڑ دی ہے۔ بے شمار ملازمین قرضوں کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔ بہت سی بیٹیاں صرف اس لیے والدین کے گھروں میں بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہیں کہ باپ کے پاس ان کی شادی کے اخراجات پورے کرنے کی سکت نہیں رہی۔

یہ وقت صرف اعداد و شمار کی بحث کا نہیں بلکہ انسانوں کی چیخیں سننے کا ہے۔ اگلے ہفتے پیش ہونے والا وفاقی بجٹ حکومت کے لیے ایک امتحان ہے۔ اگر واقعی ریاست اپنے ملازمین کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو محض نمائشی اعلانات سے بات نہیں بنے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مہنگائی کے حقیقی تناسب کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں معقول اضافہ کیا جائے، پنشنرز کی پنشن کم از کم دوگنی کی جائے، ہائوس رینٹ کو موجودہ کرایوں کے مطابق ازسرِنو مقرر کیا جائے اور میڈیکل الائونس میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے تاکہ سفید پوش طبقہ عزت کے ساتھ زندگی گزار سکے۔

حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ ریاستیں صرف سڑکوں اور عمارتوں سے نہیں بلکہ انسانوں کے سکون، وقار اور اعتماد سے مضبوط ہوتی ہیں۔ اگر سرکاری ملازم ہی معاشی طور پر ٹوٹ گیا تو نظام کے ستون بھی زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکیں گے۔

جواب دیں

Back to top button