Column

پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی کمی

پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی کمی

وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا فیصلہ بلاشبہ ایک ایسا اقدام ہے جسے عوامی سطح پر قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ عید کے تیسرے دن سامنے آنے والا یہ اعلان نہ صرف معاشی ریلیف کا باعث بنا ہے بلکہ اس نے عام شہری کے روزمرہ اخراجات پر بھی براہِ راست مثبت اثر ڈالا ہے۔ موجودہ مہنگائی کے دور میں جب ہر طبقہ فکر بالخصوص متوسط اور کم آمدن والے افراد شدید مالی دبا کا شکار ہیں، ایسے میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی ایک خوش آئند اور عوام دوست اقدام ہے۔ حکومت کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 22، 22روپے فی لٹر کمی جب کہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 41روپے سے زائد کمی ایک غیر معمولی ریلیف پیکیج کے طور پر سامنے آئی ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت عوامی مشکلات سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور معاشی پالیسیوں میں اس پہلو کو مسلسل مدنظر رکھا جارہا ہے کہ عوام پر بوجھ کم سے کم ہو۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اثر محض ایندھن تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات مجموعی معیشت پر بھی پڑتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم ہونے سے اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے، صنعتی شعبے کی پیداواری لاگت میں کمی آتی ہے اور مجموعی طور پر مہنگائی کے دبائو میں کمی واقع ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس فیصلے کو معاشی لحاظ سے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھائو کے باوجود حکومت نے مقامی سطح پر عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی ہے۔ عام طور پر ایسے حالات میں حکومتیں اضافی مالی دبا کا بہانہ بناکر قیمتیں برقرار رکھتی یا بڑھا دیتی ہیں، مگر اس مرتبہ حکومتی پالیسی میں عوامی ریلیف کو ترجیح دی گئی ہی، جو ایک حوصلہ افزا رجحان ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے یہ بیان کہ عوام کو ریلیف دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس فیصلے کی سیاسی اور انتظامی سمت کو مزید واضح کرتا ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ گزشتہ ہفتوں میں بھی قیمتوں میں کمی کا تسلسل جاری رہا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت ایک مستقل حکمتِ عملی کے تحت عوامی بوجھ کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا سب سے بڑا فائدہ ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے شعبے کو ہوتا ہے۔ جب ایندھن سستا ہوتا ہے تو اشیاء کی ترسیل کے اخراجات کم ہوجاتے ہیں، جس کا بالواسطہ فائدہ عام صارف تک پہنچتا ہے۔ اسی طرح زرعی شعبے میں بھی ڈیزل کی قیمت کم ہونے سے کاشت کاری کے اخراجات میں کمی آتی ہے، جو دیہی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پٹرولیم لیوی میں رد و بدل ایک پیچیدہ مالیاتی حکمتِ عملی کا حصہ ہوتا ہے۔ حکومت نے جہاں پٹرول پر لیوی میں کمی کی ہے، وہیں ڈیزل پر اس میں اضافہ کیا گیا ہے، جو اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ مالیاتی توازن برقرار رکھنے کی کوشش بھی ساتھ ساتھ جاری ہے۔ اس طرح کے فیصلے عام طور پر بجٹ خسارے اور آمدن کے اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جاتے ہیں تاکہ ایک طرف عوام کو ریلیف بھی ملے اور دوسری جانب ریاستی آمدن بھی متاثر نہ ہو۔ عوامی سطح پر دیکھا جائے تو یہ فیصلہ ایک مثبت تاثر پیدا کر رہا ہے۔ مہنگائی سے پریشان عوام کے لیے یہ ریلیف کسی حد تک سکون کا باعث بنا ہے۔ خاص طور پر وہ طبقہ جو روزانہ کی بنیاد پر سفر کرتا ہے، رکشہ، موٹر سائیکل یا پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتا ہے، اس فیصلے سے براہِ راست مستفید ہوگا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ معاشی استحکام صرف قیمتوں میں کمی سے نہیں بلکہ طویل المدتی پالیسی اصلاحات سے حاصل ہوتا ہے۔ اگر حکومت اس طرح کے ریلیف اقدامات کے ساتھ ساتھ معیشت کی بنیادی ساخت کو بہتر بنانے، ٹیکس نظام کو موثر کرنے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات لانے پر توجہ دے تو اس کے دوررس اثرات زیادہ مثبت ہوں گے۔ موجودہ اقدام کو ایک ’’ ریلیف سگنل‘‘ کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے جو حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کے تعلق کو مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے۔ عوامی فلاح پر مبنی فیصلے نہ صرف معاشی دبائو کم کرتے بلکہ سیاسی استحکام کا باعث بھی بنتے ہیں۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فیصلہ ایک خوش آئند، عوام دوست اور بروقت اقدام ہے۔ یہ قدم اس بات کی علامت ہے کہ حکومت عوامی مشکلات کو سمجھتی ہے اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کرنے کی خواہاں ہے۔ اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو نہ صرف عوامی ریلیف میں اضافہ ہوگا بلکہ معاشی اعتماد بھی بحال ہوگا، جو کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس حساس گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری عالمی معیشت کے لیے تشویش کا باعث بنتی ہے۔ حال ہی میں امریکا اور ایران کے درمیان اس اہم بحری راستے کے حوالے سے سامنے

آنے والی پیش رفت کو بین الاقوامی سطح پر ایک مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ اعلان کہ آبنائے ہرمز میں جاری تنا کے خاتمے اور بحری آمدورفت کی بحالی کے لیے ایران کے ساتھ پیش رفت ہوئی ہے، ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطہ مختلف سیاسی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ اگر یہ پیش رفت عملی شکل اختیار کرتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف عالمی تجارت بلکہ توانائی کی منڈیوں پر بھی مثبت مرتب ہوں گے۔ عالمی معیشت کا ایک بڑا حصہ تیل اور گیس کی مسلسل فراہمی پر منحصر ہے۔ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ یا کشیدگی کی صورت میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی منڈیوں میں بے یقینی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے۔ ایسے میں بحری راستوں کی بحالی اور جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت کا امکان عالمی سطح پر اعتماد کی بحالی کا سبب بن سکتا ہے۔ اس پیش رفت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ فریقین نے بحری ٹریفک کی بلاتعطل روانی کو یقینی بنانے کی ضرورت کو تسلیم کیا ہے۔ موجودہ دور میں عالمی تجارت کے تسلسل کے لیے محفوظ بحری راستوں کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ اگر تمام متعلقہ ممالک اس معاملے پر تعاون کا مظاہرہ کریں تو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور اعتماد سازی کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔ دوسری جانب ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکی موقف بھی عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے شفافیت اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری نہ صرف علاقائی استحکام بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ضروری سمجھی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں بین الاقوامی اداروں کا کردار اہمیت رکھتا ہے اور سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل کو ترجیح دینا وقت کی ضرورت ہے۔ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ کشیدگی اور محاذ آرائی کسی بھی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام ہی پائیدار امن کی بنیاد بنتے ہیں۔ اگر امریکا اور ایران اپنے اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک مثبت مثال ثابت ہو سکتی ہے۔ موجودہ حالات میں عالمی برادری کی خواہش یہی ہے کہ کشیدگی میں کمی آئے، توانائی کی سپلائی محفوظ رہے اور خطہ کسی نئے تنازع کی طرف نہ بڑھے۔ آبنائے ہرمز میں استحکام درحقیقت عالمی استحکام سے جڑا ہوا ہے، اس لیے تمام فریقوں کو دانشمندی، تحمل اور سفارتی حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن اور تعاون کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔

جواب دیں

Back to top button