زرداری کے بخار میں مبتلا یو ٹیوبر

زرداری کے بخار میں مبتلا یو ٹیوبر
تحریر : روشن لعل
ان دنوں سوشل میڈیا پر ایسے یو ٹیوبرز کا سیلاب آیا ہوا ہے جو بری طرح سے صدر پاکستان آصف علی زرداری کے بخار میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ یہ یوٹیوبر ، اپنے سوشل میڈیا چینلز پر جس قسم کی سرخیاں لگا کر پروگرام پیش کر رہے ہیں وہ کچھ یوں ہیں : زرداری اپنے بیٹے،بلاول بھٹو کو وزیر اعظم بنانے کے لیے ایک بڑی گیم کھیل رہے ہیں، زرداری اور جنرل عاصم منیر کی لڑائی، سندھ سے پی پی پی کو فارغ کرنے کا فیصلہ،آصف علی زرداری کی چھٹی ، عاصم منیر اگلے صدر، اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے زرداری 28ویں ترمیم کو ووٹ دیں جبکہ زرداری چاہتے ہیں پہلے بلاول بھٹو کو وزیر اعظم بنایا جائے۔ 9جون ڈیڈ لائن مقرر، اسٹیبلشمنٹ اور زرداری آمنے سامنے، بلاول بھٹو، وزیر اعظم کیوں بننا چاہتا ہے جبکہ یہ عہدہ ختم ہونے پر سابق وزیراعظموں کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک کیے جانے کی مثالیں موجود ہیں، وغیر وغیرہ۔
مذکورہ یو ٹیوبر، کچھ عرصہ پہلے تک جو کام کسی نہ کسی نجی ٹی وی چینل کا اینکر پرسن بن کر کر تے تھے اب وہی کام وہ اپنا ذاتی یو ٹیوب چینل بنا کرکر رہے ہیں۔ یہ بات محض اتفاق نہیں ہے کہ ان حالیہ یو ٹیوبرز کے تبصروں اور خبروں کا آمیزہ پہلے بھی زیادہ تر آصف علی زرداری سے متعلق ہوا کرتا تھا اور اب بھی وہ جو کچھ کہتے ہیں اس کا محوراکثر زرداری صاحب کی ذات ہوتی ہے۔ گو کہ ان یوٹیوبرز کی زرداری صاحب کے متعلق کہی گئی باتوں کے درست ہونے کا ریکارڈ ہر دور میں بہت برا رہا لیکن پھر بھی وہ ہمیشہ اپنے برے ریکارڈ کے مطابق کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان لوگوں کی ماضی میں زرداری صاحب کے متعلق کہی ہوئی جو باتیں غلط ثابت ہوئیں ، انہیںمحض ایک کالم میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ آصف علی زرداری کے متعلق ماضی میں کہی گئی جو باتیں غلط ثابت ہو چکی ہیں ان کی یہاں تفصیل بیان کرنے کی بجائے یہ دیکھا جائے گا کہ اس وقت یوٹیوبرز صدر پاکستان کے ساتھ جو باتیں منسوب کر رہے ہیں ، انہیں خبر سمجھا جائے، تبصرہ تصور کیا جائے یا پھر صحافت کے نام پر ان غیر ذمہ دارانہ رویوں کا تسلسل مان لیا جائے۔ عام فہم لفظوں میں خبر ایسی اطلاع کو کہا جاتا ہے جسے، کوئی غیر معمولی واقعہ رونما ہونے کے فوراً بعد پرنٹ یا الیکٹرانک وسیلوں کے ذریعے عوام تک پہنچایا جائے۔ اس کے علاوہ پہلے سے نشر ہو چکی کسی خبر کے ماخذ واقعہ، کے تسلسل میں اگر کوئی مزید پیش رفت ہوئی ہو تو اس کی اطلاع کو بھی خبر ہی کہا جاتا ہے۔ ابلاغ کی دنیا میں تجزیے یا تبصرے کی ضمن میں جو کچھ بھی بیان کیا جاتا ہے ، وہ ہوتا تو پہلے سے نشر ہو چکی کسی خبر کا تسلسل ہی ، لیکن اسے خبر نہیں بلکہ رائے کا نام دیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ جو واقعہ رونما ہو چکا ہو ، اس کی اطلاع کو تو خبر کہا جاتا لیکن کسی واقعہ کے رونما ہونے کے بارے میں کی گئی پیش گوئی کو کسی طرح بھی خبر تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ اگرچہ کوئی واقعہ رونما ہونے کی پیش گوئی کو خبر تسلیم نہیں کیا جاسکتا لیکن اس کا اظہار ، ابلاغ کی دنیا میں شجر ممنوع ہر گز نہیں ہے۔ کسی خبر بن چکے واقعہ کے تسلسل میں ، آنے والے وقت کے دوران مزید پیش رفت کے متعلق مختلف مبصر اپنے طور پر ایک دوسرے سے مختلف پیش گوئیاں کر سکتے ہیں، ایسی پیش گوئیاں ، خبروں میں دلچسپی رکھنے والے لوگوں کے لیے خاص اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔ بعد ازاں ، اس طرح کی پیش گوئیاں جزوی طور پر یا کوئی ایک کلی طور پر درست ثابت ہو کر خبر کے طور پر نشر بھی کی جاسکتی ہیں۔
یہ واضح ہونے کے بعد کہ کس قسم کے ابلاغ کو خبر مانا جاسکتا ہے اور کس کو خبر تسلیم نہیں کیا جاسکتا، اب یہ بات آسانی سے سمجھی جاسکتی ہے کہ اس ملک کے یو ٹیوبر اس وقت جو کچھ زرداری صاحب کے حوالے نشر کر رہے ہیں اسے نہ خبر اور نہ ہی تبصرہ کہا جا سکتا ہے۔ ان یوٹیوبرز کی حالیہ کارستانیوں کو ، ان کے غیر ذمہ دارانہ رویوں کے حجم میں مزید اضافہ کرنے کی کوششوں کے علاوہ کچھ اور نہیں سمجھا جاسکتا۔
کسی واقعہ کے خبر بن جانے کے بعد، اس کے محرکات سامنے لانے کے لیے جاری تحقیقی عمل کے دوران اگر کچھ ایسے ذرائع کی طرف سے اطلاعات فراہم کی گئی ہوں جو خود کو سامنے نہیں لانا چاہتے ہوں تومحقق صحافی پر یہ فرض عائد ہو جاتا ہے کہ وہ ہر قسم کا دبائو برداشت کرتے ہوئے انہیں خفیہ رکھے۔ اس کے برعکس آنے والے وقت میں کسی واقعہ کی پیشگوئی کا وسیلہ بننے والے ذرائع کو خفیہ رکھنا نہ صرف لازم نہیں ہوتا بلکہ بعض معاملات میں ایسے ذرائع کا نام سامنے لانے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرنے والے صحافی کے رویہ کو اس کی پیشہ ورانہ بد دیانتی سمجھا جاتا ہے۔ اب ہمارے ہاں بارش کی کھمبیوں کی طرح اگے ہوئے یوٹیوبرز جن خفیہ ذرائع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آصف علی زرداری کی صدارت ختم ہونے، ان کی فیلڈ مارشل کے ساتھ مبینہ کشمکش اور بلاول کو وزیراعظم بنانے کے لیے ان کی مبینہ سازشوں کی پیش گوئیاں کر رہے ، وہ خفیہ ذرائع ان یو ٹیوبرز کے مطابق محض اطلاع کنندہ نہیں بلکہ اس معاملے سے اس حد تک وابستہ ہیں کہ زرداری صاحب کی مبینہ خواہشوں کوپورا ہونے سے روکنا انہوں نے اپنے فرض کفایہ کا حصہ بنایا ہوا ہے۔ اب ایسے یوٹیوبرز کی کارستانیوں کو ان کی پیشہ ورانہ بددیانتی کیوں نہ سمجھا جائے جو صدر پاکستان آصف علی زرداری کے متعلق تو کچھ بھی آزادی سے بول رہے ہیں مگر ان ذرائع کا نام لینے کی جرات نہیں کر رہے جو انہیں زرداری صاحب کے متعلق پیش گوئیاں کرنے کے لیے اطلاعات دینے والی فیکٹریاں بنے ہوئے ہیں۔ ان یوٹیوبرز کے متعلق یہ بات بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کہی جاسکتی ہے کہ انہیں وہ مبینہ خفیہ ذرائع ٹشو پیپر کی طرح استعمال کر رہے ہیں جو ماضی کے کئی نام نہاد جغادری صحافیوںکو اپنے ہاتھ صاف کر نے کے بعد ردی کی ٹوکری میں پھینک چکے ہیں۔
پاکستانی عوام کے لیے یہ خیال عام ہے کہ روٹی اور روزگار کے معاملات ان کی ترجیح ہونے کی وجہ سے سیاست کیونکہ، ان کے لیے ثانوی حیثیت کی حامل ہے لہذا ، سیاسی معاملات پر غور و فکر کرتے ہوئے وہ خود کسی نتیجے پر پہنچنے کی بجائے میڈیا پر نشر ہونیوالی جھوٹی سچی، خبروں ،تبصروں اور مباحث سے متاثر ہو کر کوئی رائے قائم کرتے ہیں۔ اسی لیے یہاں مختلف لوگوں کے ذریعے کیا گیا ایک ہی طرح کا پراپیگنڈا نشر کر کے پاکستانیوں کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔کوئی شک نہیں کہ پرائیویٹ ٹی وی چینلوں کے آغازکے بعد میڈیا کی نام نہاد آزادی کے پراپیگنڈے سے متاثر ہو کر پاکستانی عوام نے میڈیا پرسنز کے بیانیہ پر آنکھیں بند کر کے یقین کرنا شروع کر دیا تھا ۔مگر یاد رہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران کئی نامور میڈیا پرسنز کے ایک سے زیادہ بھیانک چہرے سامنے آنے کے بعد ا اب یہ ممکن نہیں رہا کہ پیشہ ورانہ بد دیانتی کا مرتکب کوئی یو ٹیوبر ،نام نہاد خفیہ ذرائع کا آلہ کار بن کر پراپیگنڈہا کرتے ہوئے ماضی کی طرح عوام کو گمراہ کر سکے۔







