حد ۔۔۔۔۔۔ بے حد
حد ۔۔۔۔۔۔ بے حد
تحریر : صفدر علی حیدری
انسان کی زندگی لکیروں کے درمیان گزرتی ہے۔ کچھ لکیریں نظر آتی ہیں، کچھ محسوس ہوتی ہیں، اور کچھ ایسی ہوتی ہیں جو نہ دکھائی دیتی ہیں نہ سکھائی جاتی ہیں، مگر سب سے زیادہ اثر انہی کا ہوتا ہے۔ انہی میں ایک باریک، خطرناک اور الجھی ہوئی لکیر ہے: تہذیب اور گوار پن کے درمیان حد فاصل۔
یہ وہ حد ہے جسے ہم ساری عمر چھوتے رہتے ہیں، مگر پہچان نہیں پاتے۔
ہم مہذب بننے کی کوشش میں کہیں گوار نہ ہو جائیں، اور بے تکلفی کے نام پر کہیں اپنی تہذیب نہ کھو بیٹھیں، یہ کشمکش ہماری شخصیت کے اندر خاموشی سے چلتی رہتی ہے۔
سنگ ریزے کے زیر عنوان کبھی لکھا تھا ’’ ہمیں اپنی حد کا بے حد خیال رکھنا چاہیے‘‘، یہ جملہ شاید انسانی رویّے، اخلاق، اور تعلقات کا نچوڑ ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ حد کیا ہے؟
حد وہ باریک لکیر ہے جو انسان کو انسان بناتی ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو تہذیب اور بدتہذیبی، خودداری اور تکبر، محبت اور وابستگی کے بوجھ کے درمیان قائم رہتا ہے۔ جب انسان اپنی حد پہچان لیتا ہے تو وہ نہ خود کو گراتا ہے اور نہ دوسروں کو گرانے کی کوشش کرتا ہے۔
’’ بے حد خیال‘‘ رکھنے کا مطلب کیا ہے؟
یہ محض احتیاط نہیں، بلکہ شعور کی انتہا ہے۔ یعنی انسان صرف یہ نہ جانے کہ کہاں رکنا ہے، بلکہ یہ بھی سمجھے کہ کیوں رکنا ہے، کب رکنا ہے، اور کس کے لیے رکنا ہے۔ کیوں کہ اکثر خرابی ’’ حد توڑنے‘‘ سے نہیں،’’ حد کو معمولی سمجھنے‘‘ سے شروع ہوتی ہے۔ جب حد ختم ہوتی ہے تو: احترام، بے تکلفی میں بدل جاتا ہے، سچ، بدتمیزی بن جاتا ہے، خود اعتمادی، غرور میں ڈھل جاتی ہے، محبت، مداخلت بن جاتی ہے اور انسان یہ سمجھ بھی نہیں پاتا کہ وہ کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔
اصل کمال کیا ہے؟
یہ نہیں کہ انسان طاقتور ہو، بے باک ہو، یا منہ پھٹ ۔۔ اصل کمال یہ ہے کہ انسان اپنی حد میں رہ کر بھی اپنا مقام بنا لے۔ کیوں کہ ’’ حد میں رہنے والا انسان چھوٹا نہیں ہوتا بلکہ وہ بکھرنے سے بچ جاتا ہے‘‘۔ آخر میں یہی بات سنگِ میل بن جاتی ہے۔ ہمیں اپنی حد کا بے حد خیال رکھنا چاہیے، کیوں کہ یہی حد ہمیں گرنے سے بچاتی ہے حد درجہ بچاتی ہے۔ تہذیب کو عام طور پر اچھے رویے، نرم لہجے، اور سماجی اصولوں کی پاسداری کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ بچپن سے ہمیں سکھایا جاتا ہے۔ آہستہ بولو، بڑوں کا احترام کرو، بات کاٹنا بدتمیزی ہے، اپنی باری کا انتظار کرو۔ مگر ایک سوال یہاں پیدا ہوتا ہے: یا تہذیب واقعی اندر سے پیدا ہوتی ہے، یا یہ صرف ایک سماجی لباس ہے جو ہم نے پہن رکھا ہے؟۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم باہر سے مہذب ہوتے ہیں، مگر اندر سے بکھرے ہوئے۔ ہم مسکرا رہے ہوتے ہیں، مگر دل میں نفرت ہوتی ہے۔ ہم خاموش رہتے ہیں، مگر اندر چیخ رہے ہوتے ہیں۔
یہاں تہذیب ایک خوبی نہیں رہتی، یہ ایک نقاب بن جاتی ہے۔ اور جب تہذیب نقاب بن جائے، تو وہ انسان کو بہتر نہیں بناتی، بلکہ اسے مصنوعی بنا دیتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں جب تہذیب محض نقاب رہ جائے، تو انسان سنورتا نہیں، بس اداکاری سیکھ لیتا ہے۔ دوسری طرف گوار پن ہے، جسے ہم عام طور پر بدتمیزی، بے ادبی، یا غیر مہذب رویہ سمجھتے ہیں۔
مگر کیا ہر گوار پن واقعی غلط ہوتا ہے؟ کبھی کبھی ایک سیدھی، کڑوی، اور بے لاگ بات، جو سننے میں گوار لگتی ہے، اصل میں سچ ہوتی ہے۔ اور کبھی ایک نرم، شائستہ، اور مہذب جملہ، صرف جھوٹ کا خوبصورت ورژن ہوتا ہے۔
یہاں مسئلہ پیچیدہ ہو جاتا ہے: اگر سچ گوار ہو، اور جھوٹ مہذب، تو انسان کس طرف جائے؟
اکثر لوگ تہذیب کا انتخاب کرتے ہیں، کیونکہ وہ محفوظ ہے۔
سچ کا انتخاب خطرناک ہے، کیونکہ وہ تعلقات توڑ سکتا ہے، نظام کو ہلا سکتا ہے، اور انسان کو تنہا کر سکتا ہے۔تہذیب اور گوار پن کے درمیان جو لکیر ہے، وہ سیدھی نہیں، وہ حرکت کرتی ہے۔
کبھی وہ تہذیب کے قریب آ جاتی ہے، کبھی گوار پن کے۔ یہ لکیر وقت، جگہ، اور حالات کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ایک بات جو ایک ماحول میں تہذیب سمجھی جاتی ہے، وہی دوسرے ماحول میں منافقت بن جاتی ہے۔
ایک سچ جو ایک جگہ بہادری کہلاتا ہے، وہی دوسری جگہ گستاخی سمجھا جاتا ہے۔
تو پھر اصل حد کیا ہے؟
اصل حد باہر نہیں، یہ اندر ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان خود سے سوال کرتا ہے: ’’ میں یہ بات کیوں کہہ رہا ہوں؟ سچ کے لیے، یا انا کے لیے؟ خاموشی احترام ہے، یا خوف؟‘‘، ہمیں سکھایا گیا ہے کہ ہر بات کہنا ضروری نہیں۔ یہ بات درست ہے، مگر ادھوری ہے۔ کیوں کہ کبھی کبھی خاموشی تہذیب نہیں ہوتی، یہ صرف خوف ہوتی ہے۔
ہم سچ اس لیے نہیں کہتے کہ کہیں برا نہ لگ جائے۔ ہم ظلم کے خلاف اس لیے نہیں بولتے کہ کہیں نقصان نہ ہو جائے۔ہم اپنی رائے اس لیے نہیں دیتے کہ کہیں تعلق نہ ٹوٹ جائے۔ یہ تہذیب نہیں، یہ ایک نرم قید ہے۔
اور سب سے خطرناک قید وہ ہوتی ہے جس میں انسان خود کو مہذب سمجھ رہا ہو۔
اب اگر کوئی شخص یہ سب دیکھ کر فیصلہ کرے کہ وہ ’’ سچ بولے گا، چاہے جیسے بھی لگے‘‘ تو کیا وہ درست ہوگا؟یہاں ایک اور خطرہ پیدا ہوتا ہے۔
بے باکی اگر شعور کے بغیر ہو، تو وہ صرف خود غرضی بن جاتی ہے۔
ہر بات منہ پر کہہ دینا، ہر احساس کو بے لگام چھوڑ دینا، یہ آزادی نہیں، یہ انتشار ہے۔
ایسا شخص خود کو سچا سمجھتا ہے، مگر دوسروں کے لیے وہ ایک بوجھ بن جاتا ہے۔
یہاں گوار پن سچائی کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے۔
تو پھر حل کیا ہے؟
نہ مکمل تہذیب، نہ مکمل گوار پن، بلکہ ایک توازن۔ مگر یہ توازن کوئی سادہ چیز نہیں۔ یہ سیکھا نہیں جاتا، یہ کمایا جاتا ہے۔
یہ ہر دن، ہر بات، ہر تعلق میں نئے سرے سے طے ہوتا ہے۔ کب بولنا ہے، کب چپ رہنا ہے، کیسے کہنا ہے، اور کیوں کہنا ہے، یہ سب سوالات اس توازن کا حصہ ہیں۔
معاشرہ ہمیں واضح حدیں نہیں دیتا، وہ ہمیں صرف اصول دیتا ہے، جو اکثر مبہم ہوتے ہیں۔ ’’ مہذب بنو‘‘، ’’ بدتمیز نہ بنو‘‘، مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ مہذب ہونے اور مصنوعی ہونے میں کیا فرق ہے، اور سچ بولنے اور بدتمیزی کرنے میں کیا حد ہے۔
نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر شخص اپنی اپنی حد بنا لیتا ہے۔ اور جب ہر شخص کی حد الگ ہو، تو ٹکرائو لازمی ہے۔
آخر میں بات آ کر نیت پر ٹھہرتی ہے۔ اگر آپ کی نیت کسی کو نیچا دکھانا ہے، تو آپ کی تہذیب بھی گوار ہے۔اور اگر آپ کی نیت سچ کو سامنے لانا ہے، تو آپ کا گوار پن بھی ایک درجہ رکھتا ہے۔ یہی وہ باریک فرق ہے جو نظر نہیں آتا، مگر سب کچھ بدل دیتا ہے۔
انسان دوسروں کو پرکھنے میں ماہر ہوتا ہے، مگر خود کو دیکھنے سے کتراتا ہے۔ دوسروں کے لیے جج ہوتا ہے تو اپنا وکیل ہم فوراً فیصلہ کر لیتے ہیں: ’’ یہ شخص بدتمیز ہے‘‘، ’’ یہ بہت مہذب ہے‘‘، مگر ہم یہ نہیں دیکھتے کہ ہم خود کہاں کھڑے ہیں۔
کب ہم نے تہذیب کے نام پر سچ چھپایا، اور کب ہم نے سچ کے نام پر کسی کو زخمی کیا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اصل حد بندی ہوتی ہے، باہر نہیں، اندر۔
تہذیب اور گوار پن کے درمیان جو حد ہے، وہ کوئی مقررہ لکیر نہیں۔
یہ ایک زندہ چیز ہے، جو ہر انسان کے ساتھ بدلتی ہے، ہر تجربے کے ساتھ گہری ہوتی ہے، اور ہر غلطی کے بعد تھوڑی واضح ہوتی ہے۔
ہم ساری عمر اس حد کو نہیں پہچان پاتے، کیونکہ یہ کوئی سبق نہیں، یہ ایک سفر ہے۔
اور شاید یہی اس کی خوبصورتی بھی ہے، اور خطرہ بھی۔
انسان کی اصل تہذیب یہ نہیں کہ وہ کبھی گوار نہ ہو، بلکہ یہ ہے کہ وہ جانتا ہو کہ وہ کب گوار ہو رہا ہے، اور کیوں۔کیوں کہ جو اپنی حد کو نہیں پہچانتا، وہ یا تو دوسروں کو تکلیف دیتا ہے، یا خود کو مٹا دیتا ہے۔
اور حد بندی کا اصل مقصد نہ دوسروں کو قابو کرنا ہے، نہ خود کو قید کرنا، بلکہ خود کو سمجھنا ہے۔
اچھا فیصلہ ہے، ایک نہیں، پوری بارشِ سنگریزہ۔ مگر ترتیب بہت اہم ہے، ورنہ اثر بکھر جائے گا۔ انہیں اس طرح رکھیں کہ ہر اگلا جملہ پچھلے سے زیادہ گہرا وار کرے: آخر میں کچھ سنگ ریزے
ہمیں بدتمیز لوگوں سے کم، مہذب منافقوں سے زیادہ ڈرنا چاہیے۔
کچھ لوگ بدتمیز ہو کر سچ بولتے ہیں، اور کچھ مہذب ہو کر سچ کو چھپا دیتے ہیں۔
تہذیب کی آڑ میں چھپا خوف، گوار پن سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔
د وہ نہیں جو ہم دوسروں کے لیے کھینچتے ہیں، حد وہ ہے جہاں ہم خود سے جھوٹ بولنے لگتے ہیں۔
تہذیب اور گوار پن کے درمیان۔ اصل حد زبان میں نہیں، نیت میں ہوتی ہے۔
ہمیں اپنی حد کا خیال رکھنا چاہیے، مگر اتنا نہیں کہ وہی حد ہماری قید بن جائے۔
اپنی حد کا خیال ضروری ہے، مگر جب یہی خیال حد سے بڑھ جائے تو انسان خود اپنی سرحد بن جاتا ہے۔
حد کا خیال رکھو، مگر خیال کو حد نہ بننے دو۔
حد کا بے حد خیال، انسان کو مہذب نہیں، محدود بنا دیتا ہے۔
اب میرا ایک افسانچہ ملاحظہ فرمائیں
۔۔۔ حد ۔۔۔
وہ ہمیشہ مہذب رہا۔
دفتر میں، گھر میں، دوستوں کے درمیان اس کی پہچان ہی اس کی شائستگی تھی۔
وہ کبھی اونچی آواز میں نہیں بولا، کبھی کسی کو ٹوکا نہیں، کبھی کسی کی بات کاٹنے کی جرات نہیں کی۔
لوگ کہتے تھے’’ کیا بااخلاق انسان ہے!‘‘ ، وہ مسکرا دیتا۔
مگر ایک دن، اس کے بیٹے نے پوچھ لیا’’ ابو‘‘ آپ کبھی سچ کیوں نہیں بولتے؟‘‘
وہ چونکا’’ میں ہمیشہ سچ بولتا ہوں‘‘۔
’’ نہیں‘‘ آپ صرف وہ سچ بولتے ہیں ، جو کسی کو برا نہ لگے‘‘۔
کمرے میں خاموشی پھیل گئی۔
اس نے پہلی بار سوچا، کیا وہ واقعی مہذب تھا، یا صرف محتاط؟
اسی شام دفتر میں، جب باس نے ایک غلط فیصلہ کیا تو بول پڑا’’ سر، یہ فیصلہ درست نہیں ہے‘‘۔
کمرہ سن ہو گیا۔
کسی نے اسے پہلی بار’’ بدتمیز‘‘ کہا۔
وہ خاموش کھڑا رہا۔
آج پہلی بار اسے احساس ہوا کہ اس کی تہذیب ٹوٹی نہیں ، اس کا خوف ٹوٹا ہے۔
صفدر علی حیدری







