آنکھ مچولی

آنکھ مچولی
تحریر: محمد مبشر انوار (ریاض)
مشرق وسطیٰ کا بحران بظاہر سکون کی چادر اوڑھے دکھائی دیتا ہے مگر اس چادر کے نیچے کیا طوفان ہے، اس سے واقفان بخوبی واقف ہیں اور بصیرت والے مسلسل اس طوفان سے آگاہ کر رہے ہیں کہ اس چادر کے ہٹتے ہی دنیا کے لئے ایک خوفناک طوفان تیار ہے۔ اس طوفان کی تباہ کاریوں سے ہر ذی فہم آگاہ ہے اور ہر لمحہ اس کے ٹلنے کی پرخلوص دعائیں کر رہا ہے ماسوائے ان شر پسندوں کے جو اس طوفان کو اپنے مذموم مقاصد کی خاطر بپا کرنا چاہتے ہیں۔ امریکہ جو اس طوفان کا ایک فریق ہے، اس کے متعلق یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ درپردہ وہ ٹوٹ چکا ہے اور ہر صورت اس جنگ سے نکلنا چاہتا ہے مگر جس کے ایماء اور خواہشات کی تکمیل کی خاطر امریکہ اس جنگ میں کودا ہے، وہ فریق کسی بھی صورت امریکہ کو اس جنگ سے نکلنے نہیں دے رہا اور مسلسل ایسے اقدامات کر رہا ہے کہ جس سے امریکہ نہ صرف اس خطے میں موجود رہے بلکہ اس جنگ کا حصہ بھی رہے۔ وہ دانشور جن کے نزدیک امریکہ اس جنگ سے نکلنے کے لئے پر تول رہا ہے، دلیل یہ رکھتے ہیں کہ اس جنگ میں امریکہ کا حد سے زیادہ مالی نقصان ہو چکا ہے اور بات صرف مالی نقصان کی نہیں بلکہ اس کی اپنی ساکھ بھی اس جنگ میں انتہائی بری طرح متاثر ہوچکی ہے، جس کے باعث امریکہ ہر صورت اس جنگ سے نکلنے کے لئے آمادہ نظر آتا ہے۔ اس دلیل میں یقینی طور پر کچھ وزن ہے مگر سوال یہ ہے کہ ایسی کوئی بھی جنگ نہیں، جس میں مالی نقصان نہ ہو، البتہ امریکہ کی بطور عالمی طاقت ضرور متاثر ہوئی ہے، جو بہرطور اس سے پہلے بھی مختلف جنگوں میں ہو چکی ہے کہ امریکہ کہ متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ امریکہ نے ماضی قریب میں کوئی جنگ جیتی ہی نہیں، خواہ ویتنام جنگ ہو یا افغانستان جنگ ہو، امریکہ واضح فتح نہیں حاصل کر پایا۔ افغانستان تو ابھی کل کی بات ہے کہ جہاں امریکہ، خانہ بدوشوں کی سی زندگی گزارنے والے طالبان سے بری طرح ہار کر نکلا تھا گو کہ اپنے تئیں امریکہ نے کابل میں اپنی کٹھ پتلی حکومت بٹھا رکھی تھی، جس کی رٹ کے متعلق ممکنہ طور پر امریکہ فاش غلطی کر بیٹھا تھا یا اس کا افغان حکومت کے متعلق اندازے مکمل طور پر غلط ثابت ہو گئے تھے، اور امریکہ کے نکلتے ہیں، طالبان نے اس کٹھ پتلی حکومت کو جڑ سے اکھاڑ دیا تھا۔ حتی کہ وہ فوج، جو امریکہ نے بزعم خود، افغانستان میں تیار کی تھی، اس کی تربیت کی تھی، وہ فوج بھی ہوائوں کا رخ بدلتے ہی افغان طالبان کے ساتھ جا ملی اور ممکنہ طور پر امریکی منصوبے کہ افغان باہمی طور پر دست و گریباں ہو جائیں گے اور داخلی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر، غیر مستحکم رہیں گے، مکمل طور پر ناکام ہو چکا۔ گو کہ اس وقت افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف تقریبا چار سال کے بعد، مختلف افغان گروپس کی جانب سے مخالفت دیکھنے کو مل رہی ہے لیکن یہ مخالفت اس نہج تک پہنچتی ہے یا نہیں کہ یہ گروہ باہم برسر پیکار دکھائی دیں اور اندرونی طور پر خود کو کمزور کریں یا کوئی طالبان مخالف دھڑا مکمل طور پر افغانستان پر غالب آتا ہے؟ اس کے متعلق یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ افغانستان کے معاملات انتہائی مشکل اور پیچیدہ رہے ہیں اور نہیں کہا جا سکتا کہ مستقبل قریب میں، افغانوں نے ماضی سے کچھ سیکھا یا نہیں اور وہ باہمی معاملات کو کس طرح حل کرتے ہیں، آیا وہ مل بیٹھ کر معاملات کو حل کر پاتے ہیں یا باہم دست و گریباں ہوتے ہیں کہ ماضی میں بھی اقتدار کی خاطر وار لارڈز آپس میں لڑتے رہے ہیں۔
بہرحال امریکہ ایران میں اور مشرق وسطی میں بھی اپنے اسی کھیل کے آگے بڑھاتا ہوا نظر آ رہا ہے اور اس مقصد میں جزوی طور پر کامیاب بھی ہو چکا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے نہ صرف اوپیک سے علیحدہ ہوچکا ہے بلکہ اپنی سرزمین پر اسرائیلی آئرن ڈوم و آئرن بیم جیسے دفاعی نظام بھی نصب کر چکا ہے۔ بات اگر صرف دفاعی نظام کی حد تک ہوتی تو بھی کچھ سوچا جا سکتا تھا لیکن متحدہ عرب امارات اس سے دو قدم آگے جا چکا ہے اور یہ خبریں اب میڈیا کی زینت بن چکی ہیں کہ یو اے ای کی سرزمین پر یہودی /اسرائیلی فوج بھی موجود ہے، جو اس کی حفاظت میں بروئے کار آئیگی۔ اسرائیل اور اسرائیلی فوج جو دنیا بھر میں مسلمانوں کے خون کے پیاسے ہیں، کیسے اور کیونکر یو اے ای کی حفاظت کریں گے،سمجھ سے بالاتر ہے مگر یہ انتظامات یو اے ای میں ہو چکے ہیں۔ یو اے ای جو بھی کرتا ہے، یقینی طور پر اس میں ان کی بھی کوئی نہ کوئی منصوبہ بندی بھی ہو گی اور رضامندی تو خیر واضح ہے کہ اس کے بغیر اتنے بڑے اقدامات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا البتہ اس کے پس پردہ اگر کوئی دباؤ بھی ہے، تو ان اقدامات کے لئے جانے کے بعد، یہ کہا جا سکتا ہے کہ یو ای ای اس دبائو کا سامنا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ خیر ان انکشافات کے بعد، یو اے ای نے اپنے تیل کی ترسیل کے لئے فجیرہ بندرگاہ کا انتخاب کیا اور کوشش کی کہ آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے، اپنے آئل ٹینکر کو عالمی پانیوں میں بھج سکے لیکن ایران نے آبنائے ہرمز کا نیا نقشہ جاری کرکے، فجیرہ بندرگاہ کو بھی آبنائے ہرمز کا حصہ دکھاتے ہوئے، اپنے زیر کنٹرول ظاہر کیا اور یو اے ای کے آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا۔ اس کے جواب میں، یو اے ای کی فجیرہ آئل ریفائنری پر میزائلوں اور ڈرونز کا حملہ ہوا اور اس ریفائنری میں آگ لگ گئی، جس کو ایرانی حملہ قرار دیا گیا جبکہ ایران کی جانب سے اس کی تردید کی گئی لیکن اصل حملے کس نے کئے، اس کے متعلق یو اے ای کے پاس کوئی حتمی اطلاعات نہیں کہ شنید یہ ہے کہ یو اے ای کا تمام تر کنٹرول اسرائیلیوں کے قبضہ میں ہے اور ایسی کسی بھی شرانگیزی پر ،جو اسرائیلی کہیں گے، اسی کو تسلیم کیا جائیگا۔ دیگر غیر جانبداروں کی جانب سے اسے فالس فلیگ حملہ کہا جارہا ہے اور اس میں پس پردہ یہودیوں کے ملوث ہونے کا کہا جارہا ہے بعینہ جیسے اڑتیس روزہ جنگ میں سعودی عرب کے سول انفرا سٹرکچر پر ایسے کئی ایک فالس فلیگ آپریشن کرکے، سعودی عرب کو جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن سعودی عرب نے تحمل کا مظاہرہ کیا تھا۔ ان حملوں کے بعد، یو اے ای کے اوپیک سے علیحدہ ہونے کے باوجود، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے یو اے ای کے بادشاہ محمد بن زید کو فون پر تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا گیا۔
اس وقت بھی، ایک طرف مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی ہے لیکن دوسری طرف ایران کی جانب سے خلیج فارس اتھارٹی کے قیام اور تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لئے ایران کے نئے نافذ العمل نظام پر عمل درآمد اور ایران کی رہنمائی میں آبنائے ہرمز سے محفوظ گزارنے کی یقین دہانی کروائی گئی ہے تو دوسری طرف امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بیرونی ناکہ بندی بھی جاری ہے اور کسی بھی جہاز کو ایران کے نافذ العمل قوانین کے بعد کھلے پانیوں میں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یوں معاملہ بری طرح پھنس چکا ہے اور آبنائے ہرمز نقل و حرکت کے لئے عملا بند ہے۔ فریقین آبنائے ہرمز کو مستقل جنگ بندی کے لئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں، امریکی خواہش ہے کہ ایران، امریکہ کی شرائط کے مطابق معاہدہ کرکے آبنائے ہرمز کھولے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ امریکی ناکہ بندی ختم کریں تا کہ مذاکرات کی میز سجائی جا سکے اور دیگر معاملات میز پر طے کئے جائیں۔ بغور دیکھیں تو فریقین کے مطالبات بیک وقت ممکن ہی نہیں کہ امریکہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کو ایران کے گھٹنے ٹیکنے کے لئے اہم تصور کرتا ہے تو دوسری طرف ایران سمجھتا ہے کہ میدان جنگ میں جیتی ہوئی باتیں مذاکرات کی میز پر کیسے ہار دے۔ امریکی صدر کی جانب سے امریکی شرائط کے مطابق معاہدہ طے کرنے کے لئے ناکہ بندی ضروری ہے بصورت دیگر امریکہ سخت کارروائی کرنے کی دھمکی بھی ساتھ لگا رہا ہے کہ کسی طرح ایران کے بازو مروڑ سکے جس میں تاحال امریکہ ناکام دکھائی دیتا ہے۔ پراجیکٹ فریڈم بھی، جلد بازی میں اعلان کیا گیا دکھائی دیتا ہے اور امریکہ نے اس کو بھی پاکستانی درخواست پر فی الوقت روک رکھا ہے لیکن آج امریکی نیوی نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کی جانب پیش قدمی کی ہے، جسے امریکہ کی جانب سے کامیاب قرار دیا گیا ہے اور بعد ازاں امریکی نیوی کے تین جہاز کارروائی کے بعد پھر ناکہ بندی میں شامل ہو چکے ہیں جبکہ ایران کی جانب سے کہا گیا ہے کہ امریکی جہازوں کی پیشقدمی پر فوری اور سخت جواب دیتے ہوئے بیلسٹک، اینٹی شب میزائل اور خود کش ڈرونز سے کارروائی کی گئی، جس پر امریکی جہاز فرار ہو گئے۔ ایر ان کی بندرگاہ بندر عباس پر بھی دو ڈرون مار گرانے کا دعوی کیا گیا ہے ، یوں ایک طرف جنگ بندی کے امریکی دعوے بھی ہیں اور دوسر ی طرف ہلکے و دھیمے سروں میں جنگی تیاریوں کو بھی چیک کر کے، جنگ بندی کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلی جارہی ہے۔







