جلتی وادی میں خون کا شور

جلتی وادی میں خون کا شور
تحریر : عابد ضمیر ہاشمی
دُنیا میں ہر طرف اُمت ِ مسلمہ پریشانی سے دوچار ہے۔ کہیں جنگ، کہیں خون کی ہولی اور کہیں معاشی، معاشرتی، عدم برداشت، عدم مساوات، بے روزگاری اور دیگر مسائل دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں۔ ہم اپنے وطن ِ عزیز کی بات کریں تو پاکستان دُنیا کے ان خوش نصیب ممالک میں شامل ہے جہاں نوجوانوں کی آبادی سب سے زیادہ ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، ملک کی کل آبادی کا تقریبا 60فیصد سے 65۔70فیصد تک نوجوانوں (30سال سے کم عمر افراد) پر مشتمل ہے۔ یہ آبادی ملک کی ایک بڑی طاقت ہونے کے ساتھ ساتھ روزگار اور تعلیم کے چیلنجز کا بھی سامنا کر رہی ہے۔ کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے نوجوانوں سے وابستہ ہوتا ہے۔ نوجوان وہ تازہ کونپلیں ہیں جو کل کے درخت کو سایہ دار بناتی ہیں۔ مگر جب انہی کونپلوں کے ذہنوں میں نفرت کے بیج بو دئیے جائیں، تو آنے والا کل خوشبو کے بجاءے کانٹوں سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ نوجوان نسل میں نفرتوں کا فروغ دراصل ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی علامت ہے جہاں برداشت کم اور تصادم زیادہ ہو جاتا ہے۔
آج کے دور میں سوشل میڈیا، تعصبات اور عدم برداشت نوجوان ذہنوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ نوجوان جو علم، تحقیق اور مثبت سوچ کے ذریعے معاشرے کی تعمیر کر سکتے ہیں، انہیں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کیا جا رہا ہے۔ یہ نفرتیں پہلے لفظوں میں جنم لیتی ہیں، پھر رویوں میں ڈھلتی ہیں اور آخرکار معاشرتی تقسیم کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ آج دُنیا کے ساتھ چلنے کے لئے نوجوان نسل کو بہترین راہنما کی ضرورت ہے۔ آج انہی نوجوانوں کو آپس میں نفرت کے بجائے محبت کا سفیر بنایا جانا وقت کا تقاضا ہے۔ وہ لوگ جو نوجوانوں کی غلط سمت رہنمائی کرتے وہ اپنے مفاد کی خاطر قوم کا مستقبل تاریک کرتے ہیں۔ کیوں کہ نفرت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ انسان کو انسان سے دور کر دیتی ہے۔ جب نوجوان ایک دوسرے کو دشمن سمجھنے لگیں تو مکالمہ ختم ہو جاتا ہے، اختلاف دشمنی بن جاتا ہے اور ترقی کی راہیں مسدود ہو جاتی ہیں۔ ایسی فضا میں تخلیقی سوچ دم توڑ دیتی ہے اور معاشرہ جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔ معاشرے کے ذمہ دار افراد پر لازم ہے کہ وہ نوجوانوں کو محبت، برداشت اور اختلافِ رائے کا سلیقہ سکھائیں۔ نوجوانوں کو یہ باور کرانا ضروری ہے کہ تنوع کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہے۔
یہ ہماری دنیاوی ذمہ داری کے ساتھ ہی اسلامی نقطہ نظر سے بھی بہت اہم ہے کیوں کہ انسان اس دُنیا میں چند روزہ مہمان ہے، مگر اس کے اعمال کی بازگشت اس کے جانے کے بعد بھی باقی رہتی ہے۔ کچھ لوگ اپنی زندگی ایسے کاموں میں گزارتے ہیں جو ان کے جانے کے بعد بھی خیر و بھلائی کا ذریعہ بنتے رہتے ہیں، جبکہ کچھ افراد انجانے میں ایسے نقوش چھوڑ جاتے ہیں جو دوسروں کے لیے اذیت اور خود ان کے لیے عذاب کا سبب بن جاتے ہیں۔ یہی فرق صدقہ جاریہ اور عذاب جاریہ کے درمیان ہے۔
صدقہ جاریہ وہ نیکی ہے جو انسان کے دُنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی جاری رہتی ہے۔ کسی کی تعلیم میں مدد دینا، کسی ضرورت مند کی کفالت کرنا یا علم کی روشنی پھیلانا، کسی سفید پوش کی بنا تشہیر دل جوئی کرنا، یہ سب ایسے اعمال ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ بڑھتے ہیں اور انسان کے لیے اجر کا ذریعہ بنتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگ معاشرے میں خاموشی سے خیر کے چراغ جلاتے ہیں اور ان کی زندگی دوسروں کے لیے آسانی کا سبب بنتی ہے۔ اس کے برعکس عذاب جاریہ وہ رویے ہیں جو نفرت، ناانصافی اور دوسروں کو تکلیف پہنچانے پر مبنی ہوتے ہیں۔ اگر کوئی شخص معاشرے میں تعصب کو ہوا دے، جھوٹ کو فروغ دے، یا ایسے راستے چھوڑ جائے جن سے لوگ گمراہ ہوں، تو یہ سب اعمال اس کے بعد بھی نقصان پہنچاتے رہتے ہیں۔ اس طرح انسان اپنی زندگی کو خیر کے بجائے بوجھ بنا دیتا ہے۔
ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم اپنے پیچھے کیا چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ کیا ہماری گفتگو لوگوں کے دل جوڑ رہی ہے یا توڑ رہی ہے؟ کیا ہمارا کردار آسانیاں پیدا کر رہا ہے یا مشکلات؟ ایک چھوٹی سی مسکراہٹ، ایک اچھا مشورہ، یا کسی کی مدد، یہ سب معمولی نظر آنے والے اعمال بھی بڑے صدقہ جاریہ میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ والدین کی تربیت، اساتذہ کی رہنمائی اور معاشرتی اقدار سب مل کر انسان کو اس راستے کا انتخاب سکھاتے ہیں۔ اگر ہم اپنی زندگی کو مقصد کے ساتھ گزاریں اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں تو ہماری موجودگی بھی رحمت اور ہماری یاد بھی دعا بن جاتی ہے۔ آخرکار انسان کی اصل کامیابی دولت یا شہرت نہیں بلکہ وہ نیکیاں ہیں جو اس کے بعد بھی زندہ رہتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے ہر قدم پر یہ سوچیں کہ ہم اپنی زندگی کو صدقہ جاریہ بنا رہے ہیں یا عذاب جاریہ۔ کیونکہ وقت گزر جائے گا، مگر ہمارے اعمال کی تاثیر باقی رہے گی۔
اگر ہم نے آج نوجوانوں کے ذہنوں میں نفرتوں کے بجائے احترام اور مکالمے کی سوچ پیدا نہ کی تو کل کا معاشرہ تقسیم، انتشار اور بداعتمادی کا شکار ہوگا۔ روشن مستقبل کی بنیاد محبت، اتحاد اور برداشت پر ہی رکھی جا سکتی ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو نفرت کی آگ دیں گے یا امید کی روشنی۔ یہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم نوجوانوں کو جوڑنے والی زبان اپنائیں، ان کے دلوں میں انسانیت کی قدر پیدا کریں اور انہیں یہ احساس دلائیں کہ قومیں نفرت سے نہیں بلکہ محبت سے ترقی کرتی ہیں۔ آج جہاں ہمارے لئے اور ان گنت مسائل ہیں ان میں ایک خطرناک مسئلہ یہ بھی ہے کہ نوجوان نسل کی درست سمیت میں رہنمائی کا فقدان ہے۔ ان کے مستقبل کو تابناک کی جگہ تاریک کیا جا رہا ہے جو کسی بھی قوم کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوتا ہے۔ نوجوان نسل ہمارے ہی ہاتھوں تباہی کے راستے پر دھکیلی جا رہی ہے۔ یہ ایک جلتی وادی ہے اور اس میں نوجوان نسل کے خون کا شور بھی موجود ہے۔ ہمیں وہ محسوس کرنا ہوگا۔





