بحری جہازوں پر ایرانی ٹول ٹیکس کا جواز؟

بحری جہازوں پر ایرانی ٹول ٹیکس کا جواز؟
روشن لعل
ایران اور امریکہ کے درمیان عبوری جنگ بندی کے دوران اسلام آباد میں دونوں کے بے نتیجہ رہنے والے مذاکرات کے بعد ، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ایران کے ٹول ٹیکس عائد کرنے کا معاملہ ایک مزید تنازع بن چکا ہے۔ ایرانی قیادت نے اپنے ملک پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران دفاعی حکمت عملی کے تحت، آبنائے ہرمز کو بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے بند کرنے کے بعد، مبینہ طور پر کچھ ایسے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جو اسے ٹول ٹیکس ادا کرنے پر آمادہ ہوئے ۔ اس حوالے سے موجودہ صورتحال یہ ہے کہ جب ایران نے اپنے مجوزہ ’’ سٹریٹ آف ہرمز مینجمنٹ پلان‘‘ کے تحت آبنائے سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کیا تو امریکہ نے یہ کہتے ہوئے آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی کر دی کہ اگر ایران ٹول ٹیکس نہ دینے والے جہازوں کی آمدورفت پر پابندی عائد کرے گا تو پھر اس بحری گزرگاہ سے ایرانی جہازوں کی نقل و حرکت بھی روک دی جائے گی۔
عمان میں جاری امریکہ اور ایران کی بالواسطہ بات چیت کے دوران، اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر جو حملہ کیا اسے ان دونوں ملکوں کی جارحیت کے علاوہ کوئی دوسرا نام نہیں دیا جاسکتا۔ اسرائیل اور امریکہ کے حملوں سے قبل ایران میں شخصی آزادیوں کے حق میں جاری مظاہروں کے دوران بیرونی دنیا کے امن پسند اور انسان دوست لوگ ایرانی انتظامیہ نہیں بلکہ ایرانی مظاہرین کے حق میں اپنے جذبات کا اظہار کر رہے تھے ۔ جب امریکہ اور اسرائیل نے حملوں کے آغاز میں ہی سکول کی معصوم ایرانی بچیوں کو بمباری کا نشانہ بنا کر شہید کیا تو درد دل رکھنے والے جن لوگوں کے نزدیک ایرانی انتظامیہ کے ہاتھوں شہری آزادیوں کا سلب کیا جانا ، ریاستی جبر تھا انہوں نے امریکہ و اسرائیل کے ہاتھوں معصوم بچیوں پر وحشیانہ بمباری کو بھیانک جنگی جرم تصور کیا۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے جن حملوں کو جنگی جرائم تصور کیا گیا ، ان پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے دنیا کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی اکثریت نے ایران اور ایرانی عوام کے لیی ہمدردی کا اظہار کیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس طرح امریکی اور اسرائیلی حملوں کی مخالفت کرتے ہوئے ایران سے ہمدردی کا اظہار کیا گیا، کیا اسی تسلسل میں ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کی بھی حمایت کی جانی چاہیے۔
امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایران کے ساتھ جس ہمدردی کا اظہار کیا گیا نہ تو اسی تسلسل میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پرایران کے عائد کردہ ٹول ٹیکس کے معاملے کو دیکھنا چاہیے اور نہ ہی آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی کے اقدام کے تناظر میں کسی جذباتی موقف کا اظہار ہونا چاہیے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ، جذباتیت کو ایک طرف رکھ کر غیر جانبداری سے اس معاملے کا معروضی جائزہ لیا جائے۔ اس معاملے کا معروضی جائزہ لینے کے لیے کسی دوسری مثال کو مد نظر رکھنے کی بجائے یہ دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ماضی میں شط العرب تنازع پر ایران نے کس موقف کے تحت خود کو برحق اور عراق کو باطل قرار دیا تھا۔
شط العرب ، وہ آبی گزرگاہ ہے جس کے ذریعے دریائے فرات اور دجلہ کا پانی خلیج فارس میں جاتا ہے اور اس کے کنارے عراق اور ایران کے درمیان سرحد کا کام بھی کرتے ہیں۔ شط العرب اگر صرف آبی گزرگاہ ہوتا تو شاید اس پر کوئی تنازعہ پیدا نہ ہوتا لیکن یہ آبی وسیلہ کیونکہ کئی صدیوں سے بحری جہازوں کی گزرگاہ کے طور پر بھی استعمال ہو رہا ہے اس لیے موجودہ ایرانی اور عراقی علاقوں کے حکمران وہاں سے گزرنے والے بحری بیڑوں سے ٹیکس وصول کرنے کی غرض سے اس پر اپنا حق ملکیت ثابت کرنے کے لیے ماضی میں بار بار جنگیں لڑتے، معاہدے کرتے اور ان معاہدوں کو توڑتے رہے۔ شط العرب پر کس کا کتنا حق ہے اس کے لیے اولین معاہدے اس وقت ہوئے جب ایران کا نام فارس تھا اور عراقی علاقے سلطنت عثمانیہ کے زیر تسلط تھے۔ سلطنت عثمانیہ کیونکہ ایران کے مقابلے میں بڑی عسکری طاقت تھی اس لیے شط العرب پر فارس کے ساتھ کیے گئے معاہدے میں اس نے اپنے حق سے زیادہ مفاد حاصل کیا۔ اس کے بعد جب برطانوی ایمپائر نے عراق کو اپنی نوآبادی بنایا تو ایک نئے معاہدے کے تحت ایران کو بلاجواز یہ ماننے پر مجبور کیا کہ اس کے بحری جہاز شط العرب سے گزرتے وقت عراق کو ٹول ٹیکس دینے کے پابند ہوں گے۔ ایرانی بحری جہاز، اس معاہدے کے مطابق، سال 1970 ء تک عراق کو ٹول ٹیکس دیتے رہے۔ رضا شاہ پہلوی کے دور حکومت میں ایران نے اپنی فوجی طاقت کے بل پر 1975 ء میں عراق کو ایک نیا معاہدہ کرنے پر مجبور کیا جس کے مطابق ایرانی بحری جہازوں کو عراقی ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے شط العرب پر دونوں کا مساوی حق تسلیم کیا گیا۔ رضا شاہ پہلوی کی حکومت ختم ہونے کے بعد، امریکہ سے تعلقات بگڑنے پر، جب ایران دنیا میں تنہا ہو گیا تو عراق کے صدام حسین نے شط العرب پر اپنا ہی کیا ہوا معاہدہ کالعدم قرار دیتے ہوئے وہاں سے گزرنے والے ایرانی جہازوں پر پھر سے ٹول ٹیکس عائد کر دیا۔ ایران کی طرف سے صدام کا عائد کردہ ٹول ٹیکس ادا کرنے سے ا نکار کے بعد ایران اور عراق کے درمیان تقریباً دس برس تک لڑی جانے والی جنگ کا آغاز ہوا۔ اس طویل جنگ کا انجام اس عبوری اتفاق پر ہوا کہ دونوں ملک مساوی حقوق کے تحت، شط العرب کا استعمال پھر سے 1975ء کے معاہدے کے مطابق کریں گے۔
شط العرب، عراق اور ایران کی مشترکہ ملکیت ہونے کے باوجود وہاں سے گزرنے والے ایرانی جہازوں پر عراقی ٹیکس عائد کرنے کے نتیجے میں تقریباً ایک دہائی تک بلا مقصد جنگ جاری رہی۔ شط العرب کے برعکس آبنائے ہرمز، ایران نہیں بلکہ عالمی برادری کی مشترکہ ملکیت ہے۔ اس وقت دنیا میں آبنائے ہرمز جیسی یا اس سے ملتی جلتی تقریباً 35بحری گزرگاہیں ہیں۔ ان بحری گزرگاہوں میں سے دس زیادہ مصروف ، آبنائے جبرالٹر، آبنائے باب المند، آبنائے ملاکہ، آبنائے باسفورس، آبنائے بارنگ، آبنائے ماگلان،آبنائے میسیلان، نہر سویز، پانامہ نہر اور آبنائے ہرمز ہیں۔ ان میں سے سات ، عالمی برادری کی مشترکہ ملکیت ہونے کے سبب راہداری محصولات سے مستثنیٰ جبکہ ،آبنائے باسفورس پر ترکی، نہر سویز پر مصر اور پانامہ نہر پر پانامہ وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوںسے ٹول ٹیکس وصول کرتے ہیں کیونکہ ان ملکوں کے اندر سے گزرنے والی بحری گزرگاہوں پر ان کی ملکیت بلاشرکت غیرے ہے۔ اب اگر ایران اور عمان کے درمیان واقع عالمی برادری کی مشترکہ ملکیت بحری گزرگاہ، آبنائے ہرمز پر ایران کا ٹول ٹیکس وصول کرنے کا حق تسلیم کر لیا جائے تو پھر دیگر ملکوں کو ان سے ملحق آبنائے سے گزرنے والے بحری جہازوں سے ٹیکس وصولی سے روکنے کا کیا جواز باقی رہ جائے گا۔ مذکورہ باتوں کو مد نظر رکھنے کے بعد، کوءی بھی ایسا جواز قابل قبول نہیں لگتا جس کے تحت آبنائے ہرمز سے ٹول ٹیکس کی وصولی کو اس ایران کا جائز حق تسلیم کر لیا جائے جس نے کبھی شط العرب پر عراقی ٹول ٹیکس کو باطل قرار دیا تھا۔





