پاکستان کا ابھرتا ہوا سفارتی کردار

اداریہ۔۔
پاکستان کا ابھرتا ہوا سفارتی کردار
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں آچکا ہے، جہاں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی، مذاکرات اور سفارتی رابطے ایک نازک مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔ ایسے وقت میں پاکستان کا فعال اور متحرک سفارتی کردار نہ صرف خطے کے لیے اہم ہے بلکہ اس کی خارجہ پالیسی میں ایک نئے رجحان کی نشان دہی بھی کرتا ہے۔ حالیہ پیش رفت، جس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستانی اعلیٰ سطح کے وفد کا تہران کا دورہ اور وزیرِاعظم شہباز شریف کے سعودی عرب کا دورہ شامل ہیں، اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پاکستان اب محض تماشائی نہیں بلکہ ایک فعال ثالث کے طور پر سامنے آرہا ہے۔ پاکستان کی یہ کوششیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات ایک بار پھر تنائو کا شکار ہیں۔ تہران میں ہونے والی ملاقاتیں اور سفارتی رابطے اس بات کی علامت ہیں کہ پسِ پردہ چینلز کے ذریعے مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق پاکستان کے ذریعے امریکا تک پیغامات پہنچائے جارہے ہیں، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام آباد پر دونوں فریقوں کا اعتماد موجود ہے۔ یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے، کیونکہ خطے میں بہت کم ممالک ایسے ہیں جو دونوں مخالف بلاکس کے درمیان قابلِ قبول رابطہ کار کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تہران آمد اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے ان کا پرتپاک استقبال، اس بات کا مظہر ہے کہ ایران پاکستان کو ایک سنجیدہ اور ذمے دار شراکت دار سمجھتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان نہ صرف جغرافیائی قربت ہے بلکہ تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بھی موجود ہیں۔ یہ تعلقات ہمیشہ خطے کے استحکام کے لیے اہم رہے ہیں۔ موجودہ دورہ اس بات کی کوشش ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کیا جائے اور ایک ایسے مکالمے کی بنیاد رکھی جائے جو مستقبل میں بڑے تصادم کو روک سکے۔ دوسری جانب وزیرِاعظم شہباز شریف کا سعودی عرب کا دورہ بھی اسی سفارتی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ سعودی عرب پاکستان کا دیرینہ اتحادی اور خطے میں ایک کلیدی طاقت ہے۔ ریاض میں ہونے والی اعلیٰ سطح ملاقاتیں نہ صرف دو طرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے اہم ہیں بلکہ خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی اثر ڈال سکتی ہیں۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ متوقع ملاقات میں توانائی، معیشت، سرمایہ کاری اور علاقائی سلامتی کے امور زیرِ بحث آنے کی توقع ہے۔ پاکستان کے لیے یہ مواقع نہ صرف اقتصادی لحاظ سے اہم ہیں بلکہ سفارتی توازن برقرار رکھنے کے لیے بھی ضروری ہیں۔ پاکستان کی موجودہ سفارتی حکمت عملی کو اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ایک بیلنسڈ ڈپلومیسی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ایک طرف ایران کے ساتھ قریبی رابطے اور دوسری جانب سعودی عرب، ترکیہ اور قطر جیسے ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات، یہ سب پاکستان کو ایک ایسے پل کے طور پر ابھارتے ہیں جو مختلف فریقوں کو جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عالمی سیاست میں ایسے پل نما ممالک کی اہمیت ہمیشہ بڑھ جاتی ہے، خاص طور پر اس وقت جب بڑی طاقتیں براہِ راست تصادم کے قریب ہوں۔ ایرانی حکام کے مطابق پاکستان کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، جو ایک نہایت حساس مگر اہم پیش رفت ہے۔ اگر یہ کوششیں کامیاب ہوتی ہیں تو نہ صرف ایران اور امریکا کے درمیان تنائو کم ہو سکتا ہے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے امن عمل کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ تاہم یہ راستہ آسان نہیں۔ اعتماد کی کمی، پرانے تنازعات، علاقائی سیاست اور عالمی طاقتوں کے مفادات اس عمل کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ کردار ایک موقع بھی ہے اور ایک ذمہ داری بھی۔ موقع اس لیے کہ وہ عالمی سطح پر اپنی سفارتی اہمیت کو بڑھا سکتا ہے، اور ذمے داری اس لیے کہ کسی بھی ناکامی کی صورت میں خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ امن، مکالمے اور تعاون پر مبنی رہی ہے اور یہی اصول اسے اس کردار میں مضبوط بناتے ہیں۔ وزیرِاعظم شہباز شریف کا آئندہ ترکیہ اور قطر کا دورہ بھی اسی وسیع سفارتی فریم ورک کا حصہ ہے۔ اناطولیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت پاکستان کو عالمی سفارتی بحثوں میں مزید نمایاں کر سکتی ہے۔ ترکیہ ایک اور اہم علاقائی طاقت ہے جو مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے درمیان پل کا کردار ادا کرتی ہے۔ قطر بھی حالیہ برسوں میں ثالثی اور مذاکراتی عمل میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ان تمام روابط کا مقصد ایک ہی ہے، خطے میں استحکام اور تنازعات کا پرامن حل۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ تمام کوششیں واقعی کسی بڑے نتیجے تک پہنچ سکیں گی؟ یا یہ محض وقتی سفارتی سرگرمیاں ثابت ہوں گی؟ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ بڑی طاقتیں اور متعلقہ فریق کس حد تک لچک دکھاتے ہیں۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے عمل ہمیشہ مشکل رہے ہیں، لیکن ناممکن کبھی نہیں رہے۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان کا موجودہ سفارتی کردار ایک مثبت اور تعمیری قدم ہے۔ یہ نہ صرف پاکستان کی عالمی ساکھ کو بہتر بناتا ہے بلکہ خطے میں امن کے امکانات کو بھی بڑھاتا ہے۔ اگر یہ کوششیں تسلسل اور سنجیدگی کے ساتھ جاری رہیں تو پاکستان واقعی ایک ایسے کردار میں ڈھل سکتا ہے جو صرف اپنے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے استحکام کا ذریعہ بنے۔
شذرہ۔۔
سمندری آلودگی، سنگین مسئلہ
پاکستان کے ساحلی علاقوں میں سمندری آلودگی کا مسئلہ ایک سنگین قومی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ حالیہ اجلاس میں اس مسئلے پر جس سنجیدگی سے غور کیا گیا، وہ قابلِ توجہ ہونے کے ساتھ اس امر کی نشان دہی بھی کرتا ہے کہ متعلقہ ادارے اب مزید غفلت کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ بغیر ٹریٹمنٹ سیوریج کا سمندر میں اخراج نہ صرف بحری حیات کے لیے تباہ کن ہے بلکہ ملکی معیشت کے ایک اہم شعبے ماہی گیری کو بھی شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ مینگروز کے جنگلات جو ساحلی ماحولیاتی نظام کا بنیادی ستون ہیں، ان کی تباہی دراصل ایک بڑے ماحولیاتی سانحے کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ جنگلات نہ صرف مچھلیوں اور دیگر آبی حیات کے لیے افزائش کا ذریعہ ہیں، بلکہ ساحلی علاقوں کو ماحولیاتی خطرات سے بھی محفوظ رکھتے ہیں۔ وفاقی وزیر کی جانب سے ویسٹ واٹر مینجمنٹ پر زور دینا ایک مثبت قدم ہے، تاہم اصل چیلنج ان ہدایات پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔ ماضی میں بھی ایسے متعدد فیصلے کیے گئے، لیکن ان پر موثر عمل نہ ہوسکا۔ اس بار اگر سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو صورت حال مزید خراب ہوسکتی ہے۔ صنعتی علاقوں سے خارج ہونے والے زہریلے فضلے کے خلاف سخت کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایسے یونٹس کو سیل کرنا اور جرمانے عائد کرنا ہی اس مسئلے کا حل نہیں، بلکہ انہیں ماحول دوست ٹیکنالوجی اپنانے پر بھی مجبور کرنا ہوگا۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت سرمایہ کاری کی پیشکشیں امید کی ایک کرن ضرور ہیں، مگر شفافیت اور موثر نگرانی کے بغیر یہ منصوبے بھی ناکام ہوسکتے ہیں۔ آخرکار، سمندری آلودگی کا خاتمہ صرف حکومتی اقدامات سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے اجتماعی شعور اور عوامی شرکت بھی ناگزیر ہے۔ جب تک شہری سطح پر بھی ذمے داری کا احساس پیدا نہیں ہوگا، اُس وقت تک کسی بھی پالیسی کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جاسکتے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے، تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ اور صاف سمندری ماحول فراہم کیا جاسکے۔ اس ضمن میں تعلیمی اداروں، میڈیا اور سول سوسائٹی کو بھی فعال کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ آگاہی بڑھے اور عوام ماحولیاتی قوانین کی پاسداری کریں۔ مشترکہ کوششوں کے بغیر پائیدار تبدیلی ممکن نہیں بن سکتی۔ یہی وقت ہے کہ ہم عملی اقدامات کو ترجیح دیں اور مستقبل کو بہتر بنائیں۔





