Column

مردانہ صحت کو لاحق خاموش خطرہ: دسترخوان پر موجود دشمن غذائیں

نہال ممتاز:
​جدید طرز زندگی نے جہاں انسان کے لیے بے شمار سہولیات پیدا کی ہیں، وہاں صحت کے حوالے سے ایسے خاموش خطرات بھی جنم دیے ہیں جن پر ہم عام طور پر اس وقت تک توجہ نہیں دیتے جب تک کہ معاملہ سنگین صورت اختیار نہ کر جائے۔ مردانہ صحت کے حوالے سے پروڈسٹیٹ یا غدہ قدامیہ ایک ایسا حساس موضوع ہے جس پر ہمارے معاشرے میں گفتگو کم ہی کی جاتی ہے، حالانکہ ایک مخصوص عمر کے بعد یہ ہر دوسرے مرد کے لیے دردِ سر بن سکتا ہے۔ حالیہ طبی رپورٹس اور ماہرین کی آراء اس حقیقت کی جانب اشارہ کرتی ہیں کہ ہماری روزمرہ کی وہ خوراک جسے ہم ذائقے اور رغبت کے لیے استعمال کرتے ہیں، دراصل ہماری اندرونی صحت کے لیے ایک بڑے خطرے کا پیش خیمہ ثابت ہو رہی ہے۔ یہ بات انتہائی فکر انگیز ہے کہ کس طرح دسترخوان کی زینت بننے والی عام اشیاء پروڈسٹیٹ جیسے اہم عضو کے خلیات میں بگاڑ پیدا کر رہی ہیں۔
​اس ضمن میں وہ بنیادی غذائی عوامل جو پروڈسٹیٹ کی صحت کو متاثر کر سکتے ہیں، درج ذیل ہیں:
​سرخ اور پراسس شدہ گوشت کا زیاں: گائے یا بھیڑ کے گوشت کو بہت تیز آنچ پر پکانے یا ساسیج اور سلامی جیسی مصنوعی اشیاء کے استعمال سے جسم میں ایسے کیمیکلز پیدا ہوتے ہیں جو خلیات میں سوزش کا باعث بنتے ہیں۔ یہ سوزش وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پروڈسٹیٹ کینسر جیسے موذی مرض کی بنیاد بن سکتی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارے ہاں مرغن غذاؤں کا استعمال بہادری اور طاقت کی علامت سمجھا جاتا ہے، جبکہ حقیقت میں یہ عادت مردانہ صحت کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہی ہے۔
​ڈیری مصنوعات میں موجود ہارمونز: دودھ، مکھن اور پنیر کا ضرورت سے زیادہ استعمال بھی اب سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ ان مصنوعات میں موجود کیلشیم کی اضافی مقدار اور مخصوص ہارمونز پروڈسٹیٹ کے خلیات کی غیر معمولی نشوونما کا باعث بنتے ہیں، جو غدود کے بڑھنے کی تکلیف دہ صورت میں سامنے آتی ہے۔
​چینی اور انسولین کا توازن: چینی کا زیادہ استعمال صرف موٹاپے تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ جسم میں انسولین کی سطح میں تلاطم پیدا کرتا ہے۔ انسولین کا یہ بگاڑ کینسر زدہ خلیات کی افزائش کے لیے سازگار ماحول فراہم کر کے پروڈسٹیٹ کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔
​تلی ہوئی اشیاء اور اندرونی سوزش: بازاروں میں بار بار گرم کیے گئے تیل میں تیار کردہ پکوان جسم کے مدافعتی نظام کو کمزور کرتے ہیں۔ یہ تلی ہوئی چیزیں خون میں شامل ہو کر ان اعضاء کو نشانہ بناتی ہیں جو ہارمونل توازن کے ذمہ دار ہوتے ہیں اور پروڈسٹیٹ کے گرد سوزش کے عمل کو تیز کر دیتی ہیں۔
​نمک کی زیادتی اور مثانے کے مسائل: خوراک میں نمک کا بے جا استعمال بلڈ پریشر کے ساتھ ساتھ مثانے کی نالیوں میں کھچاؤ اور جلن پیدا کرتا ہے۔ یہ کیفیت پروڈسٹیٹ کے مسائل کی علامات، جیسے بار بار پیشاب آنا یا رکاوٹ محسوس ہونا، کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔
​یہ صورتحال ہمیں اس نکتے پر غور کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا ہم صرف ذائقے کی خاطر اپنی زندگی کے معیار کو داؤ پر لگانے کے لیے تیار ہیں؟ پروڈسٹیٹ کی صحت کا بگڑنا صرف ایک جسمانی بیماری نہیں بلکہ یہ انسان کے اعتماد اور اس کی سماجی و ازدواجی زندگی پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اگر ہم آج اپنی پلیٹ میں موجود غذا کا جائزہ نہیں لیں گے، تو کل ہمیں ہسپتالوں کے بستروں پر بیٹھ کر اپنی کوتاہیوں کا حساب دینا ہوگا۔
​وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی خوراک میں سبز پتوں والی سبزیوں، ٹماٹر (جس میں لائکوپین ہوتا ہے) اور مچھلی جیسی قدرتی اشیاء کو ترجیح دیں جو سوزش کے خلاف ڈھال کا کام کرتی ہیں۔ قدرت نے ہمیں جو کچھ عطا کیا ہے اس میں توازن ہی دراصل لمبی عمر اور بہتر صحت کا راز ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک صحت مند معاشرہ صرف انفرادی صحت سے ہی تشکیل پا سکتا ہے اور مردوں کو اپنی صحت کے ان پہلوؤں پر سنجیدگی سے توجہ دینی ہوگی جنہیں عام طور پر معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button