Column

امن کی میز، جنگ کے سائے

حرف جاوید
امن کی میز، جنگ کے سائے
تحریر: جاوید اقبال
اسلام آباد کی سرد مگر سنجیدہ فضائوں میں وہ لمحہ غیر معمولی تھا جب عالمی طاقتوں کے نمائندے ایک ایسے کمرے میں بیٹھے تھے جہاں لفظوں کی حرارت بھی احتیاط سے تول کر استعمال کی جا رہی تھی اور خاموشیوں کا وزن بھی کسی اعلان سے کم نہ تھا۔ یہ وہ نشستیں تھیں جنہیں بظاہر’’ سفارتی مذاکرات‘‘ کہا گیا، مگر حقیقت میں یہ ایک ایسے خطے کی قسمت پر ہونے والی گفتگو تھی جو دہائیوں سے جنگ، خوف اور عدم استحکام کے بیچ سانس لے رہا ہے۔ یہاں ہونے والے مذاکرات محض پاکستان کی سفارتی سرگرمی نہیں تھے بلکہ ایک ایسے عالمی بحران کا ابتدائی باب تھے جو امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث کسی بڑے تصادم کی طرف بڑھ رہا تھا۔
اسلام آباد کی یہ نشستیں ایک ایسے وقت میں ہوئیں جب خطے میں اعتماد تقریباً ختم ہو چکا تھا اور ہر فریق دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھ رہا تھا۔ یہ مذاکرات دراصل کسی حتمی امن معاہدے کی تلاش نہیں تھے بلکہ ایک ہنگامی کوشش تھی کہ کسی طرح ٹکرا کو اس حد تک پہنچنے سے روکا جائے جہاں سے واپسی ممکن نہ رہے۔ سفارتکاروں کے چہروں پر موجود سنجیدگی اس بات کا اعلان کر رہی تھی کہ معاملہ معمول کی گفتگو سے بہت آگے جا چکا ہے۔
یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ یہ بحران اچانک پیدا نہیں ہوا۔ یہ دہائیوں کے ان زخموں کا تسلسل ہے جن میں جوہری پروگرام، علاقائی بالادستی کی جنگ، اقتصادی پابندیاں اور پراکسی تنازعات شامل ہیں۔ ایران اپنے جوہری پروگرام کو خودمختاری کا نشان سمجھتا ہے، جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی اسے عالمی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ یہی بنیادی اختلاف ہر مذاکرات کو ایک نازک دھاگے پر لٹکا دیتا ہے، جہاں ایک معمولی غلط فہمی بھی بڑے تصادم میں بدل سکتی ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ یہاں پہلی بار دونوں فریقین نے براہ راست نہیں تو کم از کم ایک ہی میز کے گرد بالواسطہ طور پر اپنی پوزیشن واضح کی۔ یہ کوئی آسان عمل نہیں تھا۔ عالمی سیاست میں بعض اوقات خاموشی بھی مذاکرات کا حصہ ہوتی ہے اور یہاں بھی یہی کیفیت تھی۔ کئی گھنٹے کی گفتگو کے باوجود کئی معاملات جوں کے توں رہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ مکمل ٹوٹ پھوٹ نہیں ہوئی اور بعض اوقات یہی سب سے بڑی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔
اس پورے منظرنامے کو اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو یہ صرف دو ملکوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک پورے خطے کی نئی صف بندی کا آغاز ہے۔ ایک طرف ایران کے علاقائی اتحادی اور پراکسی نیٹ ورک ہیں، جبکہ دوسری طرف امریکہ کے ساتھ کھڑے عرب ممالک اور اسرائیل ہے۔ اس پیچیدہ توازن میں ہر ملک اپنی بقا، معیشت اور سیکیورٹی کے مطابق راستہ تلاش کر رہا ہے۔
اس صف بندی میں سعودیہ عرب ایک نہایت محتاط اور حقیقت پسند کھلاڑی کے طور پر سامنے آتا ہے۔ سعودی عرب نہ مکمل طور پر جنگ چاہتا ہے اور نہ ہی مکمل غیر جانبداری اس کے لیے ممکن ہے۔ اس کی معیشت تیل پر کھڑی ہے اور تیل کی سلامتی اس کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ اسی لیے اس کی حکمت عملی اکثر’’ خاموش توازن‘‘ پر مبنی ہوتی ہے، جہاں وہ پس پردہ سفارتکاری کے ذریعے حالات کو اپنے حق میں رکھنے کی کوشش کرتا ہے مگر کھل کر کسی تنازعے میں نہیں آتا۔
اسی طرح متحدہ عرب امارات جیسے تجارتی مراکز کے لیے یہ بحران ایک براہ راست وجودی خطرہ ہے۔ یہ وہ خطے ہیں جو عالمی تجارت، سیاحت اور سرمایہ کاری کے مراکز بن چکے ہیں۔ یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی نہ صرف سیاسی خطرہ ہوتی ہے بلکہ معاشی تباہی کا پیش خیمہ بھی بن سکتی ہے۔ اسی لیے ان کی پالیسی کا بنیادی محور استحکام ہے، چاہے اس کے لیے انہیں عالمی طاقتوں کے درمیان نہایت باریک توازن ہی کیوں نہ رکھنا پڑے۔
اس پورے خطے میں پاکستان کا کردار ایک پل کی مانند ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت، اس کے تاریخی تعلقات اور خطے کے دونوں فریقوں سے اس کے روابط اسے ایک منفرد مقام دیتے ہیں۔ اسلام آباد مذاکرات اسی کردار کا تسلسل تھے، جہاں پاکستان نے ایک ایسے وقت میں میزبان کا کردار ادا کیا جب دنیا کو ایک رابطہ کار کی شدید ضرورت تھی۔ یہ کوئی آسان ذمہ داری نہیں تھی، کیونکہ ایک طرف عالمی طاقتوں کے مفادات تھے اور دوسری طرف علاقائی مفادات۔پاکستان کے لیے یہ صورتحال ہمیشہ ایک توازن کا امتحان رہی ہے۔ ایران کے ساتھ اس کی زمینی سرحد ہے، تاریخی اور ثقافتی روابط ہیں، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ اس کے دفاعی اور معاشی تعلقات انتہائی اہم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کسی ایک طرف جھکنے کے بجائے ہمیشہ ایک درمیانی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر یہ راستہ کبھی بھی سیدھا نہیں ہوتا یہ ہمیشہ کانٹوں سے بھرا ہوتا ہے۔
اگر اس کشیدگی کا سب سے فوری اور دردناک اثر کسی خطے پر پڑتا ہے تو وہ لبنان اور غزہ ہیں۔ لبنان میں حزب اللہ ایک طاقتور حقیقت کے طور پر موجود ہے، جو ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کا اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔ کسی بھی بڑی جنگی صورتحال میں یہ عنصر پورے خطے کو ایک نئے محاذ میں تبدیل کر سکتا ہے۔
اسی طرح غزہ میں حماس پہلے ہی ایک شدید انسانی بحران کی علامت ہے۔ یہاں جنگ صرف فوجی نہیں بلکہ انسانی زندگیوں کا سوال ہے۔ ہر نیا تصادم عام شہریوں کے لیے مزید تباہی، مزید بے گھری اور مزید محرومی لے کر آتا ہے۔ غزہ کی صورتحال اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ گھروں کے اندر بھی لڑی جاتی ہیں۔اگر یہ بحران مزید بڑھتا ہے تو اس کا سب سے فوری اثر عالمی معیشت پر پڑے گا۔ آبنائے ہرمز، جو دنیا کے توانائی کے نظام کی ایک اہم شریان ہے، کسی بھی کشیدگی میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ اگر اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو عالمی تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ سکتی ہیں، جس کا اثر نیویارک سے لے کر کراچی تک ہر شہری کی زندگی پر پڑتا ہے۔ مہنگائی، توانائی کا بحران اور عالمی کساد بازاری جیسے خدشات فوری طور پر حقیقت بن سکتے ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ صورتحال مکمل جنگ کی طرف جائے گی یا محدود کشیدگی تک ہی رہے گی؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بڑی طاقتیں براہ راست مکمل جنگ سے گریز کرتی ہیں کیونکہ اس کے نتائج کسی کے بھی قابو میں نہیں رہتے۔ اسی لیے زیادہ امکان اسی بات کا ہے کہ یہ کشیدگی پراکسی تنازعات، محدود حملوں اور سفارتی دبا کی صورت میں جاری رہے گی۔
آج کے دور میں معلومات بھی جنگ کا حصہ بن چکی ہیں۔ سوشل میڈیا اور غیر مصدقہ خبریں اکثر حقیقت اور افسانے کے درمیان فرق کو دھندلا دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر خبر کو بغیر تصدیق کے سچ مان لینا خطرناک ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات ’’ تاثر‘‘ حقیقت سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے، اور یہی تاثر بعض اوقات بحران کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
موجودہ صورتحال ہمیں ایک ایسے عالمی نظام کی طرف لے جا رہی ہے جہاں طاقت کا توازن مسلسل بدل رہا ہے۔ نہ مکمل امن قریب دکھائی دیتا ہے اور نہ مکمل جنگ ناگزیر ہے۔ یہ ایک ایسی دنیا ہے جہاں سفارتکاری اور طاقت دونوں ایک ساتھ کام کر رہے ہیں، اور ہر ملک اپنی بقا اور مفاد کے مطابق راستہ تلاش کر رہا ہے۔
آخر میں سب سے اہم سوال یہی رہ جاتا ہے کہ کیا انسانیت ایک اور بڑے تصادم کی متحمل ہو سکتی ہے؟ تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ وہ سوالوں کے جواب ہمیشہ بعد میں دیتی ہے جبکہ قیمت پہلے ہی ادا کی جا چکی ہوتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button