ایمرجنسی کا نفاذ: آئینی تقاضا یا جمہوریت پر شب خون

ایمرجنسی کا نفاذ: آئینی تقاضا یا جمہوریت پر شب خون
مشتاق الرحمان زاہد
ملک کا موجودہ سیاسی منظر نامہ ایک بار پھر انتہائی غیر یقینی، پیچیدہ اور کشیدہ موڑ پر آن پہنچا ہے۔ بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال، اور آئینی و جمہوری اصولوں سے انحراف نے نہ صرف سیاسی ماحول کو تلخ کر دیا ہے بلکہ عام شہری اور دیگر عوامی حلقوں کو بھی شدید اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایسے حساس وقت میں جب ملک کو درپیش بحرانوں کے حل کے لیے رواداری، فہم و فراست اور سنجیدہ مذاکرات کی اشد ضرورت تھی، حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی جیسے سخت ترین اقدامات نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ اس صورتحال پر ملک کی دیگر جماعتوں اور سیاسی حلقوں شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں ایک اہم ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان حکومتی اقدامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے اور دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ جے یو آئی عوام، عدالتوں اور پارلیمان سمیت ہر فورم پر آئینی حقوق کے تحفظ اور بحالی کی جدوجہد پوری قوت کے ساتھ جاری رکھے گی۔
اگر گزشتہ چند روز کے سیاسی پس منظر کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 7اکتوبر کو جب مولانا فضل الرحمان عمرے کی سعادت حاصل کر کے وطن واپس پہنچے، تو اپوزیشن رہنمائوں نے سب سے پہلے ان سے رابطہ کیا اور موجودہ سیاسی تعطل کو ختم کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ اس کے اگلے ہی روز وفاقی وزراء بھی ان کے پاس پہنچے اور دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مولانا فضل الرحمان کو ثالث کا کردار سونپا جائے۔ اس وقت اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ جاری تھا، اور مولانا کی تجویز پر ہی مارچ کو فی الوقت آگے بڑھنے سے روکا گیا۔ اس دوران حکومت کی طرف سے متوقع ایمرجنسی کے نفاذ کو بھی حکومتی وفد کی آمد کے باعث عارضی طور پر موخر کر دیا گیا تھا۔
تاہم، وزیراعظم سے ملاقات کے بعد معاملات میں بگاڑ اس وقت شروع ہوا جب حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے مطالبات میں زمین آسمان کا فرق سامنے آیا۔ حکومت کا اصرار تھا کہ پہلے لانگ مارچ کو مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ پی ٹی آئی کا موقف تھا کہ عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے اور انہیں اسپتال منتقل کرنے کے عدالتی فیصلوں پر من و عن عمل درآمد کیا جائے. جب فریقین نے ثالثی کے تمام اختیارات مولانا فضل الرحمن کو سونپ دیے اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو بھی اس عمل میں اعتماد میں لیا گیا، تو سہیل آفریدی نے یہ واضح کیا کہ مطالبات تسلیم کیے جانے کی صورت میں لانگ مارچ ختم کر دیا جائے گا۔ اگلی صبح جب مولانا نے وزیراعظم ہائوس جا کر اس بات کی نوید سنائی کہ پی ٹی آئی مارچ ختم کرنے پر آمادہ ہے بشرطیکہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات اور ان کے علاج و معالجے کا وعدہ کریں، تو وزیراعظم کی طرف سے ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے یہ کہا گیا کہ کابینہ کا اجلاس شام کو بھی ہو سکتا ہے۔
حکومت اور دیگر سیاسی حلقوں کے اس دوہرے معیار نے تمام تر کوششوں پر پانی پھیر دیا۔ جب مولانا فضل الرحمان پشاور جا کر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور دیگر رہنماں کے ساتھ مل کر امن و مذاکرات کی راہ کو آگے بڑھانا چاہ رہے تھے، عین اسی دوران نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کابینہ کے اجلاس سے فون کر کے یہ اطلاع دی کہ حکومت دہشت گردی کے نام پر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانا چاہتی ہے۔ اس اچانک اور غیر متوقع حکومتی یوٹرن نے تمام مذاکراتی عمل کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔
اس صورتحال پر مولانا فضل الرحمان نے انتہائی بجا اور تپتے ہوئے سوالات اٹھائے کہ اگر تمام فیصلے حکومت نے اپنے بند کمروں میں خود ہی مسلط کرنے تھے اور کابینہ نے ہی فیصلے کرنے تھے، تو پھر غیر جانبدار ثالثوں کا وقت ضائع کرنے کا ڈرامہ کیوں رچایا گیا، انہوں نے اس امر پر شدید افسوس اور حیرت کا اظہار کیا کہ اگر امن و امان اور بدترین حالات کا بہانہ بنا کر ایمرجنسی کا جواز تراشا جا رہا ہے، تو بلوچستان کے حالات خیبر پختونخوا سے کہیں زیادہ ابتر اور خطرناک ہیں، لیکن وہاں گورنر راج یا اس نوعیت کے اقدامات کیوں نہیں کیے گئے۔ یہ امتیازی سلوک واضح کرتا ہے کہ حکومتی فیصلوں کے پیچھے آئینی تقاضے نہیں بلکہ سیاسی انتقام اور یکطرفہ اختیارات کے استعمال کی ہوس کارفرما ہے۔
عوامی حلقوں اور دیگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے بھی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ نائن الیون کے بعد سے لے کر آج تک جتنے بھی فوجی یا انتظامی آپریشن کیے گئے ہیں، ان کی حکمتِ عملی ہمیشہ ناکامی سے دوچار ہوئی ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے اس تلخ حقیقت کو دہراتے ہوئے پوچھا کہ حکمران بتائیں کہ پچھلے تمام آپریشن کیوں ناکام ہوئے، اگر آئین کے دائرے میں رہ کر کام نہیں ہو گا اور زبردستی ایمرجنسی نافذ کرنی ہے، تو پہلے خود وفاقی حکومت کے خلاف آئین شکنی پر کارروائی کی جائے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ جمعیت علمائے اسلام کے کارکنوں نے ملک و قوم کی خاطر کسی سے کم قربانیاں نہیں دیں اور اڑھائی سو سے زائد کارکنوں کی لاشیں اٹھائی ہیں۔ پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرح جے یو آئی کے کارکن بھی ملک میں امن اور بقاء کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی میں پیپلز پارٹی نے چار مرتبہ گورنر راج نافذ کر کے جمہوریت کو نقصان پہنچایا، اور آج بھی وہ بالواسطہ طور پر آئین اور جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک رہی ہے۔
موجودہ حالات کا تقاضا یہ ہے کہ تمام فریقین ہوش کے ناخن لیں، وعدہ خلافیوں کی سیاست کو دفن کریں اور ملک کو مزید کسی انارکی یا آئینی بحران کی بھٹی میں نہ جھونکیں، ورنہ تاریخ کبھی ہمیں معاف نہیں کریگی۔





