پاکستان کا اصل مسئلہ، نظام یا نظام چلانے والے؟

ذرا سوچئے
پاکستان کا اصل مسئلہ، نظام یا نظام چلانے والے؟
امتیاز احمد شاد
پاکستان میں نئے صوبوں اور نئے انتظامی یونٹس کی بحث کوئی نئی نہیں۔ جب بھی ملک کو سیاسی، انتظامی یا معاشی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے تو یہ سوال دوبارہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے کہ آیا موجودہ صوبائی ڈھانچہ عوامی مسائل حل کرنے کے لیے کافی ہے یا نہیں۔ حالیہ دنوں میں بھی نئے صوبوں کے قیام اور انتظامی یونٹس بڑھانے کی تجاویز سامنے آئی ہیں۔ اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ قیامِ پاکستان سے آج تک کون کون سے نظام آزمائے گئے، پاکستان کے مسائل کی اصل جڑ کیا ہے، اور کیا موجودہ سیٹ اپ ملک کو ترقی کی منزل تک پہنچا سکتا ہے؟
سن 1947ء میں آزادی کے بعد پاکستان نے برطانوی دور کے انتظامی اور آئینی ڈھانچے کو عارضی طور پر برقرار رکھا۔ ابتدائی برسوں میں ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا اور آئین سازی کا عمل تاخیر کا شکار ہوا۔ بالآخر 1956ء میں پاکستان کا پہلا آئین نافذ ہوا جس نے ملک کو پارلیمانی جمہوریت دی، مگر یہ نظام زیادہ عرصہ نہ چل سکا اور 1958 ء میں مارشل لا نافذ کر دیا گیا۔ بعد ازاں 1962ء کا آئین متعارف ہوا جس کے تحت صدارتی نظام نافذ کیا گیا۔ اس نظام میں اختیارات کا مرکز صدر تھا اور ’’ بیسک ڈیموکریسیز‘‘ کے نام سے ایک نیا ماڈل پیش کیا گیا۔ 1971ء میں ملک ٹوٹنے کے بعد 1973ء کا آئین وجود میں آیا جس نے دوبارہ پارلیمانی نظام کو بحال کیا اور آج تک یہی آئین پاکستان کی بنیاد ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں سب سے متنازع تجربات میں سے ایک ’’ ون یونٹ‘‘ تھا۔ 1955ء میں مغربی پاکستان کے تمام صوبوں اور ریاستوں کو ملا کر ایک ہی انتظامی یونٹ بنا دیا گیا تاکہ مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان آبادی کے فرق کو سیاسی طور پر متوازن کیا جا سکے۔ لیکن اس فیصلے نے چھوٹے صوبوں میں احساسِ محرومی پیدا کیا۔ سندھ، بلوچستان اور سرحد ( موجودہ خیبرپختونخوا) میں شدید مخالفت ہوئی اور بالآخر 1970ء میں ون یونٹ ختم کر دیا گیا، جس کے بعد صوبے دوبارہ بحال ہوئے اور بلوچستان کو مکمل صوبے کا درجہ ملا۔
اس کے بعد مختلف ادوار میں جمہوریت، مارشل لا، صدارتی نظام، پارلیمانی نظام اور بلدیاتی نظام کے مختلف ماڈلز آزمائے گئے۔ جنرل ایوب خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے ادوار میں مقامی حکومتوں کے نظام کو فروغ دیا گیا جبکہ جمہوری حکومتوں نے صوبائی خودمختاری پر زور دیا۔ 2010میں اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کو مزید اختیارات دئیے گئے، مگر اس کے باوجود عوامی مسائل بڑی حد تک برقرار رہے۔
یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ پاکستان کا بنیادی مسئلہ صرف نظام کی نوعیت نہیں بلکہ نظام پر عملدرآمد کا فقدان ہے۔ اگر صرف نظام تبدیل کرنے سے مسائل حل ہوتے تو پاکستان اب تک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو چکا ہوتا۔ پاکستان نے پارلیمانی نظام بھی آزمایا، صدارتی نظام بھی، فوجی حکومتیں بھی دیکھیں اور مختلف بلدیاتی ماڈلز بھی، لیکن عوام آج بھی مہنگائی، بے روزگاری، بدعنوانی، ناقص تعلیم، کمزور صحت کے نظام اور انصاف کی سست فراہمی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔
پاکستان کے اصل مسائل میں سب سے بڑا مسئلہ گورننس یا طرزِ حکمرانی کا بحران ہے۔ ادارے اپنی مکمل استعداد کے مطابق کام نہیں کر پاتے، پالیسیوں میں تسلسل نہیں پایا جاتا، حکومتیں بدلنے کے ساتھ ترجیحات تبدیل ہو جاتی ہیں اور طویل المدتی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے۔ سیاسی عدم استحکام بھی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ رہا ہے۔ گزشتہ سات دہائیوں میں شاید ہی کوئی ایسا دور آیا ہو جب ملک مسلسل کئی دہائیوں تک ایک ہی سمت میں آگے بڑھا ہو۔ ہر نئی حکومت پچھلی حکومت کی پالیسیوں کو بدلنے میں مصروف ہو جاتی ہے، جس سے قومی ترقی کا عمل سست پڑ جاتا ہے۔
ایک اور بڑا مسئلہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا نہ ہونا ہے۔ پاکستان میں اکثر بحث نئے صوبوں کے قیام پر ہوتی ہے، لیکن ماہرین کی ایک بڑی تعداد کا خیال ہے کہ اصل ضرورت مضبوط بلدیاتی نظام کی ہے۔ اگر ضلعی اور مقامی سطح پر اختیارات، وسائل اور فیصلہ سازی منتقل کر دی جائے تو عوام کے بہت سے مسائل ان کے اپنے علاقوں میں حل ہو سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں بلدیاتی ادارے اکثر سیاسی کشمکش کا شکار رہتے ہیں اور انہیں مکمل اختیارات نہیں دئیے جاتے۔
نئے صوبوں کے حامیوں کا موقف ہے کہ پنجاب جیسے بڑے صوبے کو انتظامی لحاظ سے تقسیم کیا جانا چاہیے کیونکہ ایک صوبے کی آبادی کئی ممالک سے زیادہ ہے۔ جنوبی پنجاب، ہزارہ صوبہ، بہاولپور صوبہ اور کراچی صوبے جیسے مطالبات کئی برسوں سے زیر بحث ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نئے صوبے بننے سے انتظامی کارکردگی بہتر ہوگی، وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہوگی اور پسماندہ علاقوں کو زیادہ توجہ ملے گی۔ دنیا کے کئی ممالک میں آبادی اور رقبے کے مطابق انتظامی اکائیاں بڑھائی گئی ہیں تاکہ حکمرانی موثر بنائی جا سکے۔
دوسری جانب مخالفین کا کہنا ہے کہ صرف نئے صوبے بنا دینے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اگر موجودہ صوبوں میں بدعنوانی، نااہلی اور کمزور انتظامی ڈھانچہ موجود ہے تو نئے صوبوں میں بھی یہی مسائل منتقل ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق اصل ضرورت اداروں کی اصلاح، شفاف احتساب، تعلیم میں سرمایہ کاری اور قانون کی بالادستی ہے۔ جب تک حکمرانی کا معیار بہتر نہیں ہوگا، نئے صوبی محض نقشے پر نئی لکیریں ثابت ہوں گے۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا موجودہ سیٹ اپ پاکستان کو آگے لے جا سکتا ہے؟ اس کا جواب مکمل نفی یا اثبات میں دینا مشکل ہے۔ موجودہ پارلیمانی نظام دنیا کے کئی کامیاب ممالک میں موثر انداز میں چل رہا ہے۔ مسئلہ نظام کی ساخت سے زیادہ اس کے نفاذ اور ادارہ جاتی کارکردگی کا ہے۔ اگر پارلیمنٹ مضبوط ہو، عدلیہ آزاد اور موثر ہو، بیوروکریسی پیشہ ورانہ انداز میں کام کرے، بلدیاتی ادارے فعال ہوں اور سیاسی جماعتوں میں اندرونی جمہوریت موجود ہو تو موجودہ نظام بھی پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔
پاکستان کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ بار بار نظام بدلنے کے بجائے نظام کو بہتر بنانا زیادہ ضروری ہے۔ 1956ء ، 1962 ء اور 1973ء کے آئین، ون یونٹ، صدارتی اور پارلیمانی تجربات سب اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صرف آئینی یا انتظامی تبدیلیاں کافی نہیں ہوتیں۔ اصل کامیابی قانون کی حکمرانی، شفافیت، میرٹ، احتساب اور عوامی خدمت کے جذبے سے مشروط ہوتی ہے۔
آج پاکستان ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں آبادی میں تیزی سے اضافہ، معاشی چیلنجز، ماحولیاتی تبدیلی، پانی کی کمی اور نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نئے تقاضے پیدا کر رہی ہے۔ ایسے میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس پر سنجیدہ مکالمہ ہونا چاہیے، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ کسی بھی نئے انتظامی ڈھانچے کی کامیابی کا انحصار موثر حکمرانی پر ہے۔ اگر ہم اداروں کو مضبوط، فیصلوں کو شفاف اور اختیارات کو عوام کے قریب منتقل کر دیں تو موجودہ نظام بھی کامیاب ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر گورننس کے بنیادی مسائل جوں کے توں رہے تو نئے صوبے بھی پاکستان کے مسائل کا مکمل حل ثابت نہیں ہوں گے۔ اصل ضرورت نقشہ بدلنے سے زیادہ طرزِ حکمرانی بدلنے کی ہے، کیونکہ قوموں کی تقدیر صوبوں کی تعداد نہیں بلکہ اداروں کی مضبوطی اور قیادت کے وژن سے بدلتی ہے۔




