ColumnImtiaz Aasi

جیلوں سے راشن چوری

جیلوں سے راشن چوری
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
جیلوں سے قیدیوں کے راشن کی چوری کوئی نئی بات نہیں بلکہ ایک معمول ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کوئی پکڑا جائے تو گناہ گار قرار دیا جائے ورنہ ہر جیل سے راشن چوری ہوتا ہے۔ اخلاقی لحاظ سے دیکھا جائے تو چوری گھٹیا ترین حرکت میں شمار ہو تی ہے مگر کیا کیا جائے ہوس زر کی خواہشات انسان کو جہنم کا ایندھن بننے سے روک نہیں سکتی۔ بظاہر دیکھا جائے تو جیلوں میں مال پانی کمانے کے بہت سے ذرائع ہیں جن کو روکنے کے لئے کسی دور میں بھی سنجیدگی سے کوشش نہیں کئی گئی۔ دراصل سیاسی حکومتیں از خود بڑی بڑی کرپشن میں ملوث ہوتی ہیں، لہذا ان کے نزدیک جیلوں سے قیدیوں کے راشن کی چوری کوئی بڑا جرم نہیں سمجھا جاتا۔ سب سے پہلے میں جیلوں سے راشن کی چوری کے طریقہ واردات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ جیل گودام سے قیدیوں کے لئے لنگر خانوں پر جو کھانا پکایا جاتا ہے اشیائے خوردونوش وزن کے لحاظ سے پوری بھیجی جاتی ہیں جس کے بعد کھانا پکاتے وقت چیزیں بچا کر دوبارہ راشن گودام میں بھیجی جاتی ہیں گویا یہ کام کرنے کے لئے پورا نیٹ ورک ہوتا ہے کسی ایک ملازم کا کام نہیں ہوتا۔ چوری کا راشن جیل سے باہر بھیجنے کا جیل کی ڈھیوڑی میں متعین ملازمین کو علم ہوتا ہے مگر بدقسمتی سے سینٹرل جیل ساہی وال میں چند روز قبل چینی، گھی چنے اور دیگر اشیاء دوران تلاشی پکڑی گئیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کا اردلی جو کار خاص ہوتا ہے سامان کے ساتھ تھا، مگر سامان کی تلاشی لینے والے عملہ کے ارکان نے سوکھی روٹیوں کے ٹکڑوں کے نیچے سے چوری کا مال برآمد کر لیا۔ ظاہر ہے یہ بات کوئی راز تو نہیں رہا تھا آئی جی جیل خانہ جات میاں سالک جلال جو اچھی شہرت کے حامل افسر ہیں، نے ریجن کے ڈی آئی جی کو اس معاملے کی انکوائری پر مامور کر دیا، جن کی رپورٹ کی روشنی میں پانچ ملازمین، جن میں جیل سپرنٹنڈنٹ کا کارخاص اردلی بھی شامل تھا ملازمت سے معطل کر دیئے گئے۔ قانونی طور پر آئی جی جیل خانہ جات گریڈ سولہ تک کے ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کے مجاز ہوتے ہیں لہذا جب معاملہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر احمد جاوید کے علم میں لایا گیا تو انہوں نے فوری طور پر سپرنٹنڈنٹ جیل اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کو ان کے عہدوں سے ہٹا کر او ایس ڈی بنا دیا ہے۔ عقل انسانی نہیں سمجھتی ہے اس طرح کی وارداتوں کا سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کو علم نہ ہو بلکہ جیلوں میں پرندہ بھی پر مارے تو جیلر کو اس کا علم ہوتا ہے کجا قیدیوں کا راشن چوری کرکے جیل سے باہر جا رہا ہو تو موقع پر موجود افسران اس سے بے خبر ہوں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں محکمہ جیل خانہ جات کو ایسے ملازمین جنہوں نے راشن چوری کی واردات کو ناکام بنا دیا وہ انعام و کرام کے مستحق ہیں بلکہ ایسے ملازمین کو اگلے گریڈ میں ترقی دینی چاہیے جس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا ہے آئندہ کسی جیل سے چوری کا راشن جیل سے باہر لے جانے کی کوشش ملازمین ناکام بنا دیں گے ۔ہم یہ بات دعوی سے کہتے ہیں ہر جیل سے راشن چوری کرکے باہر لے جایا جاتا ہے۔ اس سے قبل کئی جیلوں سے راشن چوری کرکے باہر لے جاتے پکڑا گیا ان جیلوں کا اب ذکر مناسب نہیں ورنہ جیلوں سے راشن چوری پر حیرانی کی کوئی بات نہیں۔ جیلوں میں خواہ کچھ کر لیں کیمرے لگا لیں جب تک جیلر راست باز نہیں ہوگا جیلوں سے مبینہ کرپشن کا خاتمہ خواب رہے گا۔ اس ناچیز کو بہت سی جیلوں میں ایسی وارداتوں کا علم ہے یا جن جیلوں سے مبینہ کرپشن کی رقم کن کن میں تقسیم ہوتی ہے جس کی تفصیل میں جانا مناسب نہیں۔ مجھے مرحوم عبدالستار عاجز کی یاد آرہی ہے جو روٹیوں کے ٹکڑوں کی رقم قومی خزانے میں جمع کراتے تھے عاجز ایسے جیلر اب نایاب ہیں۔ انسان رشوت سے اسی وقت منہ موڑ سکتا ہے جب اسے حق تعالیٰ آگے جواب دہی کا خیال ہو اور اپنی آخرت سنوارنے کی فکر ہو۔ ایک خبر ہے پنجاب کی جیلوں میں بارہ ہزار نئے کیمرے نصب کئے جا رہے ہیں تاکہ بیرکس اور سیلوں میں قیدیوں کی حرکات و سکنات پر نظر رکھی جا سکے۔ جیلوں میں پی سی او کی تنصیب کے باوجود موبائل فونز قیدیوں کے زیر استعمال ہیں۔ یہ بات ناممکن ہے قیدیوں کے پاس موبائل ہوں تو جیل ملازمین اس سے بے خبر ہوں بلکہ جیل ملازمین اس سلسلے میں قیدیوں کو از خود تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ جب کبھی اعلیٰ افسران جیلوں کی تلاشی کے لئے آنا چاہیں قیدیوں کو فی الفور مطلع کر دیا جاتا ہے تاکہ وہ غیر قانونی اشیاء کو سنبھال سکیں۔ جیسا کہ سنٹرل جیل ساہی وال کے سپرنٹنڈنٹ کا اردلی راشن چوری کرتے وقت ہمراہ جا رہا تھا حالانکہ اردلی کا ایسے کاموں سے دور کا واسطہ نہیں ہوتا لیکن وہ روٹی کے ٹکڑوں کے ساتھ جانے والے سامان کو عملہ تلاشی سے کلیر کرانے کے لئے جارہا تھا کہ تلاشی پر مامور ملازمین نے چوری پکڑ لی۔ جیلوں میں سپرنٹنڈنٹس کے اردلی جسے کار خاص بھی کہا جاتا ہے۔ قیدیوں کے ساتھ اسپیشل ملاقاتیں کرنے والے لوگوں کی ملاقاتوں کا انتظام کرنا اسی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ مروجہ طریقہ کار کے مطابق جب کوئی وی آئی پی ملاقات کے لئے آتا ہے وہ اردلی کو قیدی کا نام بتا دیتا ہے جس کے بعد اردلی بادشاہ قیدی کے نام والی چٹ پر صاحب بہادر کے دستخط کرا کر چکر میں بھجوا دیتا ہے جس کے بعد قیدیوں کو ملاقاتوں کے لئے مختص خصوصی کمرہ میں لے جایا جاتا ہے۔ ہمیں کسی جیلر سے پرخاش نہیں صحافتی ذمہ داری کا تقاضا ہے خواہ کچھ ہو جائے ہمیں سچ لکھنا چاہیے۔ یہ خاکسار جیلوں میں ہونے والی مبینہ کرپشن بارے وی لاگ اور کالموں میں ذکر کرتا ہے، آگے متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے وہ ہماری بات پر کارروائی کرتے ہیں یا نہیں یہ انہی پر منحصر ہے۔ جہنم کی آگ سے بچنے کا آسان طریقہ ہے ہمیں اللہ سبحانہ تعالیٰ کے احکامات اور رسالت مآبؐ کے فرمودات پر عمل کرکے آخرت سنوارنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔

جواب دیں

Back to top button