ہمارے ہاں واٹر مینجمنٹ کی کیا صورتحال ہے؟

ہمارے ہاں واٹر مینجمنٹ کی کیا صورتحال ہے؟
روشن لعل
گزشتہ کالم ، دریائے چناب کی ہمیت کے موضوع پر لکھا گیا تھا۔ اس کالم میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ بھارت اگر پاکستان کے حصے میں آنے والے دریائے چناب کے پانی کو اپنی مرضی کے مطابق ہڑپ کرنے میں کامیاب ہوگیا تو خاص طور پر پنجاب کی زرعی معیشت پر اس کے کیا منفی اثرات مرتب ہونگے۔ یہ کالم پڑھ کر کسی نے یہ سوال کیا تھا کہ ہمارے پانی کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے بھارتی عزائم تو ہم پر واضح ہیں لیکن بھارتی ارادوں کو ایک طرف رکھ کر کبھی ہم نے اس بات پر غور کیا ہے کہ ہم نے دستیاب پانی کے بہتر استعمال کے لیے کیا اپنے آبی ذخائر، ڈیموں، نہری نظام کی بہتری، پانی کے ضیاع کی روک تھام اور جدید آبپاشی کے نظام پر مطلوبہ سرمایہ کاری کی ہے؟ واٹر مینجمنٹ سے متعلق پوچھا گیا یہ سوال اتنا ہی اہم ہے جتنا اہم ہمارے لیے دریائے چناب کا پانی ہے۔ اس سوال کے جواب میں جو تلخ حقائق موجود ہیں افسوس کہ ان کا ذمہ دار بھارت یا کوئی اور نہیں بلکہ ہم خود ہیں۔
واٹر مینجمنٹ سے متعلق جن تلخ حقائق کو ہم نے خود رقم کیا وہ کچھ یوں ہیں کہ ورلڈ بینک کی 1994ء میں جاری کردہ ایک رپورٹ میں پاکستان سمیت دنیا کے کچھ دیگر ملکوں کو ان کے آبپاشی نظام میں بہتری کے لیے ترجیحی بنیادوں پر قرض دینے میں دلچسپی ظاہر کی گئی تھی ۔ رپورٹ میں پاکستان کے سوسال پرانے نظام آبپاشی میں پیدا ہونے والی خرابیوں کی نشاندہی کے ساتھ انہیں دور کرنے کے لیے کچھ سفارشات بھی پیش کی گئی تھیں۔ اس رپورٹ میں ہمارے نہری نظام کی سب سے بڑی خرابی، تمام چھوٹی اور بڑی نہروں کے کناروں کا کچا ہونا قرار دی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ نہروں کے کچے کنارے شکستہ ہونے کے سبب ان میں ڈیزائن کی گئی گنجائش کے مطابق پانی کا بہائو ممکن نہیں ہے۔ اس رپورٹ میں کسانوں کے متعلق یہ رائے دی گئی تھی کہ ان کو نہری پانی کی اہمیت اور قدرو قیمت کا کوئی احساس نہیں کیونکہ انہیں یہ پانی انتہائی ارزاں نرخوں پر فراہم کیا جاتا ہے۔ شکستہ نہری نظام میں بہتری کے لیے ورلڈ بینک نے جو سفارشات مرتب کیں ان میں صوبائی حکومتوں کے ماتحت اریگیشن اینڈ پاور محکموں کی بجائے پراونشل اری گیشن اینڈ ڈرینج ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نام سے نئے محکمے قائم کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کچی آبی گزر گاہوں کو لائننگ کر کے پختہ کر نے سے نہ صرف سیم کی نذر ہونے والے پانی کا زیاں روکنا بلکہ بڑی نہروں اور چھوٹے چھوٹے کھالوں کے آخری حصوں پر موجود زرعی زمینوں تک روانی سے پانی کی فراہمی بھی ممکن ہو سکے گی۔
ورلڈ بنک نے صوبائی اری گیشن اینڈ ڈرینج ڈویلپمنٹ اتھارٹیز قائم کرنے کے لیے جو پروگرام اور قرض دیا اس پر دیگر صوبوں میں کس حد تک عمل ہوا اس بارے زیادہ علم نہیں مگر پنجاب کی حد تک جو کچھ ہوا وہ یوں ہے کہ یہاں پیڈا ( پنجاب اریگیشن اینڈ ڈرینیج اتھارٹی) کے نام سے محکمہ انہار پنجاب سے الگ ایک نیا محکمہ قائم کر دیا گیا۔ ورلڈ بنک نے پیڈا کو کامیاب بنانے کے لیے کچھ، عارضی و مستقل یونٹ قائم کرنے کا جو پروگرام دیا اسے پنجاب اری گیشن سسٹم امپروومنٹ پراجیکٹ (PISIP)کا نام دیا ۔ اس پراجیکٹ کو کامیاب بنانے کے لیے یہ لائحہ عمل طے کیا گیا کہ پرانے نہری نظام کو چلانے والے اری گیشن اینڈ پاور ڈیپارٹمنٹ کے سیٹ اپ میں بتدریج تبدیلیاں کرتے ہوئے آہستہ آہستہ تمام انتظامات پیڈا کے سپرد کر دئیے جائیں۔ محکمہ انہار کے برعکس پیڈا کے لیے یہ طے کیا گیا کہ اس کا سٹاف اور تنظیمی ڈھانچہ مختصر ترین ہو گا کیونکہ نہروں کو پختہ کر کے فارمر آرگنائزیشنوں (FOs)کو دینے کے بعد پیڈا کے ذمہ ان کی مرمت اور دیکھ بھال کا کام نہیں ہو گا بلکہ یہ کام کسانوں کی تنظیمیں خود کریں گی۔ البتہ ان کسان تنظیموں کی تشکیل کی ذمہ داری پیڈا کو سونپی گئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی طے کیا گیا تھا کہ ضلع یا بڑی نہر سے سیراب ہونے والے علاقے کی سطح پر ایک ایریا بورڈ قائم کیا جائے گا جہاں کسان تنظیمیں خود کو رجسٹر کرائیں گی۔پنجاب میں نہری نظام کی بہتری کا جو پروگرام ورلڈ بینک کے قرض تک محدود تھا اسے جب مقررہ مدت میں مکمل نہ کیا جاسکا تو اس میں ایشین ڈویلپمنٹ بینک، جاپان اور ترکی کا قرضہ بھی شامل ہوگیا۔ نہروں کی لائننگ کا کام معینہ مدت میں مکمل نہ ہونے کی وجہ سے انہیں کیونکہ عجلت میں کسان تنظیموں کے حوالے کیا گیا تھا اس لیے ان سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ کیے جاسکے۔ جو لوگ نہروں کی لائننگ معینہ مدت میں مکمل نہیں کر سکے تھے بعد ازاں انہوں نے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے کی تمام تر ذمہ داری کسان تنظیموں پر عائد کر دی۔
2005ء کے بعد 2008ء تک کسان تنظیموں کے انتخابات ہوتے رہے جس میں محکمہ انہار پنجاب کے اعلیٰ افسران کی مداخلت بھی جاری رہی۔ اس طرح کی کارروائیوں کے تسلسل میں 31دسمبر 2008ء کو تمام کسان تنظیموں کو فارغ کر دیا گیا ۔ اس کے بعد نئے الیکشن کرانے کی بجائے ایس ڈی او حضرات کو کسان تنظیموں کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا گیا۔ ورلڈ بنک کے قرض کے تصرف سے قائم کیے گئے جس نئے نہری نظام کو مستقل طور پر کسانوں کے منتخب نمائندوں نے چلانا تھااسے قرضوں میں لی گئی رقم خرچ کرنے کے بعد منتخب کسان نمائندوں کی بجائے محکمہ انہار کی افسر شاہی کے سپرد کر دیا گیا۔ دسمبر2008 ء کے بعد ایک سے زیادہ مرتبہ کسان تنظیموں کا انتخاب ہوئے مگر ہر مرتبہ انہیں مدت مکمل کرنے سے پہلے ہی کام کرنے سے روک دیا گیا۔ تقریباً دو دہائیوں تک اس قسم کی کارروائیاں یہاں پنجاب اری گیشن سسٹم امپروومنٹ پراجیکٹ کے نام پر جاری رکھی گئیں اور پھر مئی 2019ء میں جاری کیے گئے ایک آرڈیننس کے تحت پیڈا کو ختم کر نے کا اعلان کرتے ہوئے یہ کہا گیا کہ اب کسان تنظیموں (FOs)کی بجائے کھال پنچایت کمیٹیاں بنائی جائیں گی۔ جس آرڈیننس کے تحت پیڈا کو ختم کیا گیا تھا بعد ازاں اسے دسمبر 2019 ء میں اسمبلی سے منظور کروا کے ایکٹ بنا دیا گیا۔ کھال پنچایت کمیٹی ایکٹ تو اسمبلی سے پاس ہوگیا لیکن اس ایکٹ کے قواعد طے نہ کیے جانے کی وجہ سے اس پر کبھی عمل نہ ہو سکا۔ عمران خان کے وسیم اکرم پلس ، عثمان بزدار کی حکومت نے جس ایکٹ کو پاس کرنے کے بعد اس کے مطابق کوئی عمل نہیں کیا تھا اسے آخر کار مریم نواز کی پنجاب حکومت نے2025ء میں منسوخ کر دیا۔
ورلڈ بینک نے سو سال پرانے محکمہ انہار میں واٹر مینجمنٹ سسٹم میں اصلاحات کے لیے جو قرض دیا تھا اسے اس بھی زیادہ بے رحمی سے ہڑپ کر لیا گیا جس بے رحمی سے بھارت ہمارے دریائوں کا پانی ہڑپ کرنا چاہتا ہے ۔ واٹر مینجمنٹ کے نام پر ورلڈ بینک، ایشین ڈیویلپمنٹ بینک، ترکیہ اور جاپان سے لیا گیا جو قرض ہڑپ ہوا اس کی قسطیں اب بھی ادا کی جارہی ہیں مگر واٹر مینجمنٹ کے وہ یونٹ اب کہیں موجود نہیں ہیں جن کے نام پر قرض لیا گیا تھا۔ یہ ہیں ہمارے ملک میں واٹر مینجمنٹ سسٹم سے جڑے تلخ حقائق۔





