Column

پانی کا بحران: پاکستان کے مستقبل کا سب سے بڑا چیلنج

پانی کا بحران: پاکستان کے مستقبل کا سب سے بڑا چیلنج
غلام مصطفٰی جمالی
پاکستان اس وقت جن مسائل کی گرفت میں ہے، ان میں پانی کا بحران سب سے زیادہ خطرناک اور دور رس اثرات رکھنے والا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، سیاسی کشیدگی اور توانائی کی قلت اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن اگر پانی ہی دستیاب نہ رہے تو معیشت، زراعت، صنعت، صحت اور قومی سلامتی سب شدید خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے ماہرین پانی کو اکیسویں صدی کا سب سے قیمتی وسیلہ قرار دے رہے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان ان ممالک میں شامل ہی جہاں فی کس پانی کی دستیابی گزشتہ چند دہائیوں میں مسلسل کم ہوئی ہے اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ اسے دریائے سندھ جیسا عظیم دریا اور اس کے معاون دریاں کا وسیع نظام ملا، مگر بدقسمتی یہ رہی کہ اس نعمت کی حفاظت اور بہتر منصوبہ بندی پر وہ توجہ نہ دی جا سکی جس کی ضرورت تھی۔ آبادی میں تیز رفتار اضافہ، موسمیاتی تبدیلی، پانی کا بے دریغ استعمال، ناقص آبی انتظام، پرانا نظام آبپاشی اور محدود آبی ذخائر اس بحران کو سنگین بنا رہے ہیں۔ آج دیہات سے لے کر بڑے شہروں تک لوگ پانی کی قلت کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔ کہیں پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں، کہیں زرعی زمینیں پانی کی کمی سے بنجر ہو رہی ہیں اور کہیں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے جا چکی ہے۔
پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے۔ قومی معیشت میں زراعت کا اہم حصہ ہے اور لاکھوں خاندانوں کا روزگار اسی شعبے سے وابستہ ہے۔ گندم، چاول، کپاس، گنا، مکئی، سبزیاں اور پھل نہ صرف ملکی ضروریات پوری کرتے ہیں بلکہ برآمدات میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ان فصلوں کو مناسب مقدار میں پانی نہ ملے تو پیداوار کم ہوتی ہے، کسان مالی مشکلات کا شکار ہوتا ہے، غذائی قلت پیدا ہوتی ہے اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس لیے پانی کا مسئلہ صرف کسان کا مسئلہ نہیں بلکہ ہر شہری کے گھر اور دسترخوان سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔
پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ کبھی شدید گرمی، کبھی غیر معمولی بارشیں، کبھی تباہ کن سیلاب اور کبھی طویل خشک سالی معمول بنتی جا رہی ہے۔ شمالی علاقوں کے گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ بظاہر یہ پانی کی فراوانی محسوس ہوتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر گلیشیئر مسلسل سکڑتے رہے تو مستقبل میں دریاں کے بہائو پر بھی منفی اثر پڑے گا۔ دوسری طرف بارشوں کا نظام بھی غیر یقینی ہو چکا ہے۔ کہیں چند گھنٹوں میں مہینوں کی بارش ہو جاتی ہے اور کہیں مہینوں تک ایک قطرہ نہیں برستا۔ ایسے حالات میں پانی کے انتظام کے لیے جدید حکمت عملی ناگزیر ہو چکی ہے۔
افسوسناک حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان میں ہر سال سیلاب کا ایک بڑا حصہ سمندر میں چلا جاتا ہے کیونکہ ہمارے پاس اسے محفوظ کرنے کی مطلوبہ صلاحیت موجود نہیں۔ اگر بروقت نئے آبی ذخائر، چھوٹے اور بڑے ڈیم، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے منصوبے اور نہری نظام کی بہتری پر توجہ دی جاتی تو آج صورتحال مختلف ہو سکتی تھی۔ پانی کو ذخیرہ کرنا صرف ایک ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کا سوال ہے۔
پانی کے ضیاع کی شرح بھی تشویشناک ہے۔ نہروں میں رسائو، پرانے کھالے، غیر ہموار زمین، روایتی آبپاشی اور غیر ذمہ دارانہ استعمال کی وجہ سے قیمتی پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ جدید دنیا ڈرپ اریگیشن، سپرنکلر سسٹم اور اسمارٹ واٹر مینجمنٹ کی طرف بڑھ چکی ہے جبکہ ہمارے ہاں ابھی بھی کئی علاقوں میں دہائیوں پرانے طریقے رائج ہیں۔ اگر جدید زرعی ٹیکنالوجی کو عام کیا جائے تو کم پانی میں زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے، جس سے نہ صرف پانی بچے گا بلکہ کسان کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا۔
شہری علاقوں میں بھی صورتحال کم پریشان کن نہیں۔ کراچی، لاہور، فیصل آباد، پشاور، کوئٹہ اور دیگر بڑے شہروں میں پانی کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے جبکہ فراہمی کا نظام پرانا اور کمزور ہے۔ کئی علاقوں میں لوگ روزانہ ٹینکروں سے پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ بعض جگہوں پر صاف پانی کے بجائے آلودہ پانی استعمال کیا جاتا ہے جس سے ہیضہ، ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس اور دیگر بیماریاں پھیلتی ہیں۔ صاف پانی تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے، مگر بدقسمتی سے آج بھی لاکھوں پاکستانی اس سہولت سے محروم ہیں۔
زیرزمین پانی کا بے تحاشا استعمال بھی خطرناک صورت اختیار کر چکا ہے۔ ہزاروں ٹیوب ویل مسلسل چل رہے ہیں مگر زیرزمین پانی کو دوبارہ محفوظ بنانے کے مثر منصوبوں پر مطلوبہ رفتار سے کام نہیں ہو رہا۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں کئی علاقے شدید آبی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ بارش کے پانی کو زمین میں جذب کرنے، مصنوعی ری چارج کے منصوبوں اور شجرکاری کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پانی کا مسئلہ صرف حکومت کا نہیں بلکہ پوری قوم کا مسئلہ ہی۔ اگر ہر شہری اپنے گھر، دفتر، کھیت اور صنعت میں پانی کی بچت کو اپنی ذمہ داری سمجھے تو اس بحران کی شدت کو کم کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں یہ احساس پیدا کرنا ہوگا کہ پانی ایک لامحدود وسیلہ نہیں بلکہ ایک ایسی امانت ہے جسے آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رکھنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔
دنیا کے کئی ممالک نے محدود آبی وسائل کے باوجود بہترین منصوبہ بندی، جدید ٹیکنالوجی اور موثر قانون سازی کے ذریعے اپنے مسائل پر قابو پایا ہے۔ پاکستان بھی اگر سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد میں ایک جامع آبی پالیسی پر عمل کرے، پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائے، ضیاع کو روکے، جدید زرعی نظام اپنائے اور عوام میں شعور بیدار کرے تو اس بحران پر قابو پانا ناممکن نہیں۔ پانی کا مسئلہ کسی ایک حکومت یا ایک نسل کا نہیں بلکہ پورے ملک کے مستقبل کا سوال ہے، اور اس کا حل بھی قومی اتفاق، دوراندیش قیادت اور عوامی تعاون ہی سے ممکن ہے۔ پانی کے مسئلے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس پر قومی سطح پر مستقل مزاجی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، پالیسیاں تبدیل ہوتی رہتی ہیں، مگر پانی کا بحران کسی ایک حکومت یا ایک سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مشترکہ چیلنج ہے۔ اگر قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے طویل المدتی منصوبہ بندی کی جائے، تمام صوبے باہمی اعتماد کے ساتھ آبی وسائل کے منصفانہ استعمال پر اتفاق کریں اور ماہرین کی تجاویز کی روشنی میں فیصلے کیے جائیں تو مستقبل کے خطرات کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
تعلیمی اداروں، ذرائع ابلاغ، مذہبی و سماجی رہنماں اور سول سوسائٹی کو بھی پانی کے تحفظ کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ بچوں کو ابتدائی تعلیم ہی سے یہ احساس دلایا جائے کہ پانی زندگی کی بنیاد ہے اور اس کا ضیاع دراصل اپنے مستقبل کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ اگر معاشرے میں پانی کی بچت ایک قومی عادت بن جائے تو اس کے مثبت نتائج آنے والے برسوں میں واضح طور پر سامنے آسکتے ہیں۔
صنعتی شعبے کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ بہت سی صنعتیں پانی کا بے دریغ استعمال کرتی ہیں اور آلودہ پانی کو مناسب صفائی کے بغیر دریائوں اور نہروں میں چھوڑ دیتی ہیں، جس سے نہ صرف آبی ذخائر آلودہ ہوتے ہیں بلکہ انسانی صحت، زراعت اور ماحولیات بھی شدید متاثر ہوتے ہیں۔ جدید واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس، ری سائیکلنگ کے نظام اور سخت ماحولیاتی قوانین پر موثر عمل درآمد کے بغیر اس مسئلے کا مکمل حل ممکن نہیں۔
پاکستان کے دیہی علاقوں میں پانی کی قلت کا اثر صرف کھیتی باڑی تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس سے دیہی معیشت، مویشی پالنے، چھوٹے کاروبار اور دیہات سے شہروں کی طرف نقل مکانی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ جب کسان کی فصل متاثر ہوتی ہے تو اس کی آمدنی کم ہو جاتی ہے، قرض بڑھ جاتے ہیں اور معاشی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہی مشکلات بالآخر پورے ملک کی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اس لیے پانی کا تحفظ دراصل معاشی استحکام کا بھی ضامن ہے۔
ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ قدرتی وسائل ہمیشہ یکساں نہیں رہتے۔ اگر آج احتیاط نہ کی گئی تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ یہ وقت سیاسی اختلافات میں الجھنے کا نہیں بلکہ قومی دانش، سائنسی منصوبہ بندی اور عملی اقدامات کا ہے۔ پاکستان کے پاس قابل ماہرین، زرخیز زمین، محنتی کسان اور نوجوان آبادی موجود ہے۔ اگر ان تمام صلاحیتوں کو ایک موثر قومی آبی حکمت عملی کے تحت بروئے کار لایا جائے تو ملک نہ صرف اپنے آبی بحران پر قابو پا سکتا ہے بلکہ زرعی پیداوار، خوراک کے تحفظ اور معاشی ترقی میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پانی کو صرف ایک قدرتی نعمت نہیں بلکہ قومی سلامتی، اقتصادی خودمختاری اور عوامی خوشحالی کا بنیادی ستون سمجھا جائے۔ پانی کے ہر قطرے کی حفاظت، ہر منصوبے کی شفاف تکمیل اور ہر شہری کی ذمہ دارانہ سوچ ہی پاکستان کو اس سنگین بحران سے نکال سکتی ہے۔ اگر ہم نے آج درست فیصلے کیے تو آنے والی نسلیں ایک محفوظ، سرسبز اور خوشحال پاکستان کی وارث ہوں گی، لیکن اگر غفلت کا یہی سلسلہ جاری رہا تو پانی کا بحران مستقبل میں ایسے مسائل کو جنم دے سکتا ہے جن پر قابو پانا انتہائی مشکل ہوگا۔ یہی وقت ہے کہ ہم اجتماعی شعور، قومی اتحاد اور دوراندیش منصوبہ بندی کے ذریعے اس چیلنج کا مقابلہ کریں، کیونکہ پانی ہی زندگی ہے اور زندگی کے تحفظ سے بڑھ کر کوئی قومی ترجیح نہیں ہو سکتی۔

جواب دیں

Back to top button