دہشت گردوں کا انجام صرف شکست

دہشت گردوں کا انجام صرف شکست
بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں اور ان کے بعد سیکیورٹی فورسز، بلوچستان پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھرپور کارروائیوں نے ایک مرتبہ پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ کسی بھی صورت ادھوری چھوڑنے والا نہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی بریفنگ میں سامنے آنے والے اعداد و شمار اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ دشمن عناصر نہ صرف ریاستی اداروں بلکہ عام شہریوں، ترقیاتی منصوبوں اور قومی استحکام کو بھی نشانہ بنارہے ہیں۔ گزشتہ چند روز کے دوران بلوچستان میں دہشت گردی کے تین بڑے واقعات میں 42بہادر اہلکاروں اور شہریوں نے جامِ شہادت نوش کیا جب کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت اور مثر کارروائیوں کے ذریعے 54دہشتگردوں کو ہلاک کرکے یہ پیغام دیا کہ ریاست اپنی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل، صبرآزما اور کٹھن جنگ لڑ رہا ہے۔ اس جنگ میں افواجِ پاکستان، پولیس، فرنٹیئر کور، دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ انہی قربانیوں کی بدولت ملک میں امن و امان کی صورت حال میں نمایاں بہتری آئی، مگر دشمن قوتیں اب بھی مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ کبھی معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، کبھی سیکیورٹی چوکیوں پر حملے کیے جاتے ہیں اور کبھی قومی ترقی کے منصوبوں کو سبوتاع کرنے کی سازش کی جاتی ہے۔ ان تمام کارروائیوں کا مقصد ایک ہی ہے کہ پاکستان کے امن، معیشت اور ترقی کے سفر کو نقصان پہنچایا جائے۔ بلوچستان کی اہمیت سے بھی انکار ممکن نہیں۔ رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ معدنی وسائل، ساحلی پٹی، بین الاقوامی تجارتی راستوں اور علاقائی روابط کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے مخالف عناصر اس خطے کو بدامنی کی لپیٹ میں رکھ کر ترقیاتی منصوبوں کو متاثر کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہی کہ گزشتہ برسوں میں بلوچستان میں شاہراہوں، تعلیمی اداروں، صحت کی سہولتوں، توانائی، مواصلات اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ یہی ترقی دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے لیے سب سے بڑی ناکامی ہے، کیونکہ خوش حال بلوچستان ان کے منفی بیانیے کو کمزور کرتا ہے۔زیارت، مانگی ڈیم اور بیلہ میں ہونے والے حالیہ واقعات نے یہ بھی ثابت کیا کہ بلوچستان کے عوام دہشت گردوں کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں۔ مقامی شہریوں اور پولیس اہلکاروں نے جس جرأت، ثابت قدمی اور قربانی کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ تحسین ہی۔ یہ قربانیاں اس امر کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف ریاستی اداروں کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے۔ جب عوام اور سیکیورٹی ادارے ایک صفحے پر ہوں تو دہشت گردوں کے لیے کامیابی کے امکانات معدوم ہوجاتے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی بریفنگ میں دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور سرحد پار سے ملنے والی معاونت کے حوالے سے بھی سنگین نکات اٹھائے۔ اگر کسی ملک کی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہورہی ہے تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ بین الاقوامی قوانین بھی اس امر کے متقاضی ہیں کہ کسی بھی ملک کی سرزمین ہمسایہ ریاست کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دی جائے۔ علاقائی امن، باہمی احترام اور موثر سرحدی تعاون ہی دیرپا استحکام کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں عالمی برادری کی ذمے داری بھی ہے کہ وہ دہشت گردی کے ہر نیٹ ورک، اس کی مالی معاونت اور سرحد پار سہولت کاری کے خاتمے کے لیے موثر کردار ادا کرے۔ دہشت گردی کے خلاف کامیابی صرف عسکری کارروائیوں سے ممکن نہیں۔ اگرچہ موثر انٹیلی جنس، بروقت آپریشن اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ بہتر طرزِ حکمرانی، انصاف کی بروقت فراہمی، تعلیم، روزگار اور نوجوانوں کے لیے مثبت مواقع بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ بلوچستان سمیت ملک کے تمام حساس علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کو مزید تیز رفتاری سے مکمل کرنا، نوجوانوں کو فنی تعلیم اور روزگار فراہم کرنا اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنانا دہشت گردی کے خلاف طویل المدتی حکمت عملی کا اہم حصہ ہونا چاہیے۔اس جنگ میں میڈیا کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ خبروں کی ترسیل میں ذمے داری، احتیاط اور حقائق کو ترجیح دی جائے۔ دہشت گردی کا مقصد صرف جانی نقصان پہنچانا نہیں ہوتا بلکہ خوف، بے یقینی اور مایوسی پھیلانا بھی ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ میڈیا غیر مصدقہ اطلاعات، افواہوں اور ایسے تجزیوں سے گریز کرے جو غیر ارادی طور پر دہشت گردوں کے پراپیگنڈے کو تقویت دے سکتے ہوں۔ اسی طرح سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تصدیق کے بغیر معلومات آگے نہ پھیلائیں اور قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے والے بیانیوں سے ہوشیار رہیں۔ یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ حالیہ واقعات کے بعد ریاستی اداروں نے فوری ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کا بھرپور تعاقب کیا اور متعدد حملہ آوروں کو انجام تک پہنچایا۔ یہ کارروائیاں اس عزم کا اظہار ہیں کہ پاکستان میں قانون کی عمل داری کو چیلنج کرنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ تاہم یہ کامیابی اسی وقت پائیدار ثابت ہوگی جب دہشت گردی کے سہولت کاروں، مالی معاونت کے ذرائع اور انتہاپسند سوچ کو فروغ دینے والے تمام عوامل کے خلاف بھی یکساں عزم کے ساتھ کارروائی جاری رکھی جائے ۔ بلوچستان کے شہداء کی قربانیاں پوری قوم کا سرمایہ ہیں۔ ان بہادر اہلکاروں اور شہریوں نے اپنے خون سے یہ پیغام دیا ہے کہ وطن کا دفاع صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ ہر شہر، ہر قصبے اور ہر چوکی پر کیا جاتا ہے۔ ان کی قربانیوں کا تقاضا ہے کہ پوری قوم اختلافات سے بالاتر ہوکر دہشت گردی کے خلاف متحد رہے۔ پاکستان نے ماضی میں بھی مشکل حالات کا مقابلہ کیا ہے اور آج بھی اس کے عوام، سیکیورٹی ادارے اور ریاستی قیادت دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دہشت گردی پاکستان کے امن، ترقی اور خوش حالی کی دشمن ہے، لیکن اس سے بھی بڑی حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی قوم نے ہمیشہ آزمائشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ قومی اتحاد، عوامی تعاون، مضبوط ریاستی ادارے اور مسلسل ترقی کا سفر ہی دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنا سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ پوری قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو مشعلِ راہ بناتے ہوئے امن، استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ ایک صفحے پر کھڑی رہے، کیونکہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ صرف ریاست کی نہیں بلکہ ہر پاکستانی کی جنگ ہے اور اس جنگ میں کامیابی ہی پاکستان کے محفوظ، مستحکم اور خوش حال مستقبل کی ضمانت ہے۔
بجلی قیمت میں اضافہ
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی ( نیپرا) کی جانب سے مئی 2026ء کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں 34پیسے فی یونٹ اضافے کا فیصلہ بظاہر معمولی دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی کے موجودہ ماحول میں ہر نیا اضافہ عوام پر اضافی بوجھ بن کر سامنے آتا ہے۔ اگرچہ نیپرا نے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی جانب سے طلب کیے گئے 82پیسے فی یونٹ اضافے کے مقابلے میں کم اضافہ منظور کیا ہے، تاہم یہ فیصلہ بھی ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عام شہری پہلے ہی بجلی، گیس، پٹرول اور اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے شدید متاثر ہیں۔ پاکستان میں بجلی کے نرخوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے گھریلو صارفین، چھوٹے تاجروں اور صنعتی شعبے کو مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ ہر ماہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کے نرخوں میں ردوبدل عوام کے لیے بے یقینی صورت حال پیدا کرتا ہے، جس کے باعث گھریلو بجٹ بنانا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ خاص طور پر کم آمدن والے طبقے کے لیے بجلی کا بل ادا کرنا ایک بڑا چیلنج بنتا جارہا ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمے داری ہے کہ وہ بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے نظام میں موجود کمزوریوں کو دور کریں۔ لائن لاسز، بجلی چوری، پرانے انفرا اسٹرکچر اور انتظامی مسائل کا بوجھ مسلسل صارفین پر منتقل کرنا دیرپا حل نہیں۔ توانائی کے شعبے میں اصلاحات، قابلِ تجدید ذرائع سے بجلی کی پیداوار میں اضافہ اور انتظامی شفافیت ہی وہ اقدامات ہیں جو مستقبل میں صارفین کو بار بار کے اضافوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات صرف صارفین کے بلوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس سے صنعتی لاگت بڑھتی ہے، کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں اور بالآخر مہنگائی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ توانائی کے شعبے میں ہر فیصلہ وسیع معاشی اثرات کا حامل ہوتا ہے اور اس میں عوامی مفاد کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت توانائی کے شعبے میں پائیدار اصلاحات کو ترجیح دے، پیداواری لاگت میں کمی کے لیے عملی اقدامات کرے اور صارفین کو بار بار مالی بوجھ منتقل کرنے کے بجائے ایسے موثر حل تلاش کرے جن سے بجلی کا نظام مستحکم، شفاف اور عوام کے لیے قابلِ برداشت بنایا جاسکے۔ یہی راستہ معیشت کے استحکام اور عوامی اعتماد کی بحالی کی ضمانت بن سکتا ہے۔





