ColumnRoshan Lal

ہانیہ احمد کے خون کے چھینٹے

ہانیہ احمد کے خون کے چھینٹے
روشن لعل
پاکستان میں قتل کے جن واقعات کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا ان میں تازہ ترین اضافہ ، پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں معصوم ہانیہ احمد کا چکوال میں ہونے والا قتل ہے۔ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ ، چکوال کے اہلکاروں کے ہاتھوں قتل ہونے والی ہانیہ احمد کے والد عدیل احمد خود بھی اپنی بیٹی کے قاتلوں کے ہاتھوں زخمی ہو نے کی وجہ سے راولپنڈی کے بے نظیر بھٹو شہید ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ عدیل احمد سے منسوب ، سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک بیا ن کا لب لباب یہ ہے کہ انہیں پاکستان میں انصاف ملنا مشکل نظر آتا ہے ، لہذا وہ آسٹریلیا جاکر اپنی حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ ان کی بچی کے لیے انصاف کی فراہمی کو ممکن بنایا جائے۔ عدیل احمد نے پولیس تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 10جون کو حج کی سعادت حاصل کرکے پاکستان لوٹنے کے بعد وہ اپنی رشتہ داروں سے ملنے چکوال گئے جہاں گھر کے باہر دو ڈاکوں نے انہیں گھیر لیا۔ کسی قسم کی مزاحمت کرنے کی بجائے انہوں نے اپنی قیمتی اشیا پرامن طور پر ڈاکوئوں کے حوالے کرنا شروع کر دی تھیں کہ وہاں اچانک فائرنگ شروع ہوگئی۔ فائرنگ شروع کرنے والے ڈاکو نہیں بلکہ پولیس تھی۔ موٹر سائیکلوں پر سوار 4سی سی ڈی اہلکاروں نے جب ہماری گاڑی کے طرف اندھا دھند فائرنگ شروع کی تو ڈاکوں نے صرف دو ہوائی فائر کیے اور وہاں سے بھاگ نکلے۔ سی سی ڈی اہلکاروں کی طرف سے کی گئی فائرنگ اتنی شدید تھی کہ 9سالہ ہانیہ کو 3سے 4گولیاں لگیں۔ ہسپتال پہنچنے پر ڈاکٹروں نے بتایا کہ وہ پہلے ہی دم توڑ چکی تھی۔ ہانیہ کے بھائی 11سالہ افنان کو 2گولیاں لگیں اور خود عدیل احمد کے بازو سمیت جسم میں 2گولیاں پیوست ہوئیں۔ عدیل کے بیان کے مطابق جب وہ گولیوں کی بوچھاڑ میں اپنی فیملی کو گاڑی میں بٹھا کر وہاں سے نکلے تو پولیس نے پھر بھی ان پر فائرنگ جاری رکھی۔ گولیوں کی بوچھاڑ سے گاڑی کے بریک فیل ہو گئے لیکن انہوں نے گاڑی چلانا جاری رکھا۔ عدیل کے مطابق اگر وہ وہاں سے نہ نکلتے توہو سکتا ہے کہ پولیس اہلکاروں کی اندھا دھند فائرنگ سے ان کی فیملی کا کوئی فرد بھی زندہ نہ بچتا۔ اگر پولیس اہلکاروں میں ذرا سا بھی پروفیشنلزم ہوتا تو وہ ڈاکوئوں کو جانے دیتے اور بعد میں ان کا پیچھا کرتے ۔ اگر پولیس پروفیشنلزم کا مظاہرہ کرتی تو معصوم ہانیہ احمد آج زندہ ہوتی ۔ عدیل احمد نے اپنے بیان میں حکومتِ پاکستان اور مقامی بیوروکریسی کے رویئے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے یہ الزام لگایا گیا ہے کہ چکوال پولیس اپنے پیٹی بھائیوں یعنی سی سی ڈی اہلکاروں کو بچانے کے لیے ہانیہ کا قتل کیس خراب کرنے اور حقائق چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ عدیل احمد نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ نہ حکومتِ پاکستان اور نہ ہی پنجاب حکومت کے کسی نمائندے نے ان سے کوئی رابطہ کرنے یا دلاسا دینے کی زحمت گوارا کی۔ عدیل احمد کا کہنا ہے کہ انہیں، کسی قسم کی مالی امداد نہیں چاہیے بلکہ وہ صرف ایک شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری چاہتے مگر انہیں امید نہیں کہ یہاں شفاف انکوائری کا مطالبہ پورا ہو پائے گا۔ عدیل احمد اور ان کی فیملی کے آسٹریلوی شہری ہونے کی وجہ سے آسٹریلوی ہائی کمیشن کے حکام نے ہسپتال میں ان سے ملاقات کی اور مسلسل رابطہ رکھنے کا کہا۔ عدیل کا کہنا ہے کہ وہ اب آسٹریلوی حکومت کے ذریعے پاکستان سے اپنی بیٹی کے خون کا انصاف مانگیں گے۔
معصوم مقتولہ ، ہانیہ کے والد عدیل احمد ، پاکستان نژاد ، آسٹریلوی شہری ہیں۔ انہوں نے اپنی بیٹی کے قتل کے بعد ، انتہائی کرب اور بے بسی کے عالم میں جو بیان دیا وہ پاکستان کے نظام انصاف پر عدم اعتماد اور اس کے خلاف سخت چارج شیٹ ہے۔ ہانیہ کے قتل کے واقعہ کی جو جزئیات ، عدیل احمد کے تحفظات اور چارج شیٹ کی بنیاد بنیں ان میں سب سے زیادہ اہم پولیس کا رویہ ہے۔ کوئی خاص رویہ چاہے کسی فرد کا ہو یا ادارے کا ، وہ اس بات کا عکس ہوتا ہے کہ اس رویے کا اظہار کرنے والے کی ترجیحات کیا ہیں۔ پاکستان کے اندر ، خاص طور پر پنجاب میں عرصہ دراز سے پولیس کی ترجیح ، فرار ہونے والے ملزموں کی گرفتاری نہیں بلکہ ایسے پولیس مقابلوں کے تحت ہلاکت بنا دی گئی ہے جن مقابلوں پر تحفظات اور شکوک و شبہات کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ تہذیب کا تقاضا تو یہ ہے کہ جرم ثابت ہونے پر مجرموں کو کسی رعایت کا مستحق نہ سمجھتے ہوئے آئین و قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے لیکن ایک جرم کی سرکوبی کے لیے ، دوسرا جرم کرنے کا راستہ ہر گز اختیار نہ کیا جائے۔ پنجاب کے لیے یہ تاثر عام ہے کہ یہاں جرم کو قانون نہیں بلکہ مزید جرم کے ذریعے ختم کرنے کی کوششوں کے نتیجے میں مشکوک پولیس مقابلوں کا کلچر پروان چڑھایا گیا ہے۔
پنجاب میں مشکوک پولیس مقابلوں کی طویل فہرست میں سے چنی گئی ایک مثال یہ ہے کہ جس طرح جنوری 2018ء میں معصوم زینب کو قصور میں اغوا ور زیادتی کے بعد قتل کیا گیا اسی طرح فروری 2017ء میں وہاں ایک چھوٹی بچی ایمان فاطمہ بھی اغوا اور زیادتی کے بعد قتل ہوئی تھی۔ ایمان فاطمہ کے قتل کے الزام میں قصور کا مدثر نامی ایک نوجوان گرفتار ہوا جس کی پولیس حراست سے فرار کی مبینہ کوشش کے دوران ہلاکت کے بعد کیس کی فائل بند کر دی گئی۔ مدثر کی پولیس مقابلہ میں ہلاکت کے بعد جب قصور میں زینب کا قاتل عمران گرفتار ہوا تو اس نے اعتراف کیا کہ ایمان فاطمہ کو بھی اسی نے اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کیا تھا۔ عمران کے بیان کی تصدیق ایمان فاطمہ کی محفوظ کی گئی ڈی این اے رپورٹ سے ہوئی۔ اس تصدیق کے بعد یہ بھی ثابت ہو گیا کہ مدثر کو جن الزامات کے تحت گرفتار اور پولیس مقابلہ میں مارا گیا اس میں سے کچھ بھی درست نہیں تھا۔ اس واقعہ سے ان تمغوں اور انعامات کے بے توقیر ہونے کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے جو مدثر کو مبینہ پولیس مقابلہ میں ہلاک کرنے والے پولیس اہلکاروں کو دیئے گئے تھے۔
یہاں، مشکوک پولیس مقابلوں کے بعد ، پولیس اہلکاروں کو صرف انعامات اور تمغے ہی نہیں دیئے جاتے بلکہ بہت اندر تک کی خبریں رکھنے والے میڈیا پرسنز کے ذریعے ہیرو بھی بنا دیا جاتا ہے۔ ہیرو گیری کا جذبہ پولیس اہلکاروں میں اس قدر سرایت کر چکا ہے کہ ملزمان کو گرفتار کرنے کی کوششوں کی بجائے ، مشکوک پولیس مقابلوں میں ہلاکت ان کی پہلی ترجیح بن چکی ہے۔ اسی ترجیح کی وجہ سے سی سی ڈی چکوال کے اہلکاروں نے یہ سوچنا گوارا ہی نہ کیا کہ ان کی اندھا دھند فائرنگ سے ڈاکوئوں کی بجائے ایک بے گناہ بچی ہانیہ کی جان بھی جا سکتی ہے۔ ہانیہ کو بے موت مارنے والوں کے رویوں سے یہ ظاہر ہو تا ہے کہ انہیں اس بات کااحساس ہی نہیں کہ ان کے دامن پر ایک معصوم بچی کے خون کے چھینٹے ہیں۔ اصل میں ہانیہ کے خون کے چھینٹے ہمارے ملک کے اس نظام انصاف پر ہیں، جس پر عدیل احمد نے کھل کر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

جواب دیں

Back to top button