امریکہ، ایران امن معاہدہ اور پاکستان کی کاوشیں

امریکہ، ایران امن معاہدہ اور پاکستان کی کاوشیں
تحریر: حیدرعلی
امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پاچکا۔ تین ماہ اورسولہ دن کی جنگ نے جہاں دُنیاکوامن کے بحران سے دوچار کیا وہیں دُنیاکی تمام تربڑی معیشتیں بھی اِس کے زیراثرآچکی تھیں۔ خصوصاًآبنائے ہرمزکی بندش سے توانائی بحران نے پوری دُنیا کو جھنجوڑکررکھ دیاتھا۔اِسی طرح عرب امارات کاخطہ بھی اِس جنگ سے شدیدمتاثرہوا۔خیر۔جنگ کے آغازسے ہی پاکستان نے امن بحالی کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھی ہوئی تھیں اور یہ بھی پاکستان کیلئے انتہائی قابل فخربات ہے کہ نہ صرف ایران پاکستان کابرادررانہ ہمسایہ ملک ہے بلکہ امریکہ بھی پاکستان پربھرپوراعتماد کرتاہے دونوں ممالک نے پاکستان پربھرپوراعتماد کرتے ہوئے اسلام آباد میں مذاکرات بھی کئے اوردوممالک کو جنگ کے ماحول میں’’ ٹیبل ٹاک‘‘ کیلئے بٹھانایقینا پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ ’’ اسلام آباد ٹاکس ‘‘ کے دوران بھی پوری دُنیاکی نگاہیں پاکستان پر مرکوز تھیں یورپ ،آسٹریلیا ،کینڈا،عرب امارات،چین ،روس سمیت پوری دُنیاکامیڈیاوفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے لائیونشریات دے رہا تھا اور دُنیا منتظرتھی کہ پاکستان سے کیا فیصلہ آتا ہے۔’’ اسلام آباد ٹاکس‘‘ کے حوالے سے حکومت پاکستان کے بہترین انتظامات اورمیزبانی کی نہ صرف اقوام عالم بلکہ پاکستان کے ہمسائیہ ملک بھارت سے بھی تعریف کی گئی۔ خیر مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی الگ بحث ہے۔ لیکن پوری دُنیا کے امن کے حوالے سے پاکستان نے ثابت کیا کہ پاکستان ہی وُہ واحد ملک ہے جس نے نہ صرف عالمی امن کیلئے قربانیاں دیں بلکہ جنگ بندی کیلئے بھی صف اول کا کردار ادا کیا۔ اِسی طرح جب اس جنگ کے تباہ کن اثرات سے پوری دنیا اور اس کی معیشت لرز اٹھی تھی پاکستان کی معیشت پر بھی دبائو آیا لیکن نہ صرف پاکستانی قوم نے نہایت صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت کا بھرپور ساتھ دیا بلکہ حکومت پاکستان نے بھی بروقت فیصلوں اور پیش بندی کے ذریعے اپنی قوم کو مہنگائی کی شدت سے ممکنہ حد تک بچانے کی بھرپور کوشش کی اِس حوالے سے صوبائی حکومتوں کا تعاون بھی قابل تحسین ہے۔ ’’ اسلام آباد ٹاکس‘‘ کے بعد امریکہ ایران کے معاملات خراب ہونے کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل آرمی چیف حافظ جنرل سید عاصم منیر نے جنگ بندی اور ثالثی کیلئے اپنی کاوشیں مستقل جاری رکھیں اور دوست ممالک خصوصاً چین، سعودی عرب، ترکیہ سے بھی مسلسل رابطہ میں رہے، جن کی بدولت آج الحمدللہ رب کریم نے پاکستان کوایک عظیم دِن سے نوازا ہے۔ اِس حوالے سے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے بڑا ہی خوبصورت شعر سنایا:
جب اپنا قافلہ عزم و یقیں سے نکلے گا
جہاں سے چاہیں گے، رَستہ وہیں سے نکلے گا
وطن کی مٹی، مجھے ایڑیاں رگڑنے دے
مجھے یقیں ہے، چشمہ یہیں سے نکلے گا
وزیر اعظم نے خطاب کرتے ہوئے بڑی خوبصورت بات کی کہ آئیے! ہم سب ملکر اللہ کے حضور سجدہ شکر بجا لائیں جس نے اپنی کمال مہربانی سے ہمیں یہ عظیم دن دکھایا۔ وزیر اعظم نے فیلڈ مارشل، آرمی چیف حافظ جنرل سید عاصم منیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کے شعلے بجھانے اور امن کے قیام کے لیے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شب و روز ایک کر دیئے۔ مذاکرات کے اِس عمل کے دوران کئی نشیب و فراز آئے اور یوں لگتا تھا کہ معاملہ ختم ہونے کو ہے مگر پاکستان کے اس عظیم سپوت نے ہمت نہیں ہاری اور اللہ تعالیٰ پر توکل کے ساتھ مسلسل کاوشیں کرتے رہے جس کے نتیجے میں جنگ بندی کا باضابطہ اعلان ہوا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اگر خلوص، استقامت اور دانشمندی کا یہ سفر جاری نہ رہتا، تو شاید دنیا میں امن کا خواب بکھر جاتا اور نجانے جنگ کے شعلے اور کتنی تباہی لے کر آتی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس مقصد کے لیے غیر معمولی کردار ادا کیا، جس پر مجھ سمیت پوری قوم انہیں خراجِ تحسین، پیش کرتی ہے۔ وزیر اعظم نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارک باد پیش کی، جنہوں نے شبانہ روز محنت کے ذریعے امن کے اس عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ قارئین کرام! پاکستان کو دُنیا میں تنہا کرنے کی مذموم سازشیں رچانے والا دشمن خود دُنیا میں تنہا ہو چکاہے۔ دشمن نے کئی سازشیں کیں، افغان رجیم کو استعمال کیا، دہشتگردوں کی فنڈنگ کی، سہولت کاریاں کی، پاکستان کا پانی بند کرنے کی مذموم سازشیں کی۔ لیکن الحمدللہ پاکستان آج دُنیا میں ایک مضبوط قوت اور امن کا علمبردار بن کر سامنے آیا ہے اور اقوام عالم بھی پاکستان کی امن کے حوالے سے کوششوں کو بھرپور سراہا رہی ہیں، بلکہ بھارت کے اندر سے بھی پاکستان کی امن کے حوالے سے کاوشوں کی بھرپور ستائش کی جارہی ہے۔ اس دِن کو دُنیا کی تاریخ میں سُنہری حروف سے لکھا جائے گا اور پاکستان کی کاوشیں اور امن بحالی کے کردار کو آنیوالی نسلیں فخر سے یاد رکھیں گی، ان شاء اللہ ۔





