اسلام آباد میمورنڈم اور تزویراتی بساط کے نئے مہرے

اسلام آباد میمورنڈم اور تزویراتی بساط کے نئے مہرے
پیامبر
قادر خان یوسف زئی
مشرق وسطیٰ کا پیچیدہ جغرافیائی و سیاسی منظرنامہ 14جون 2026ء کو ایک انتہائی غیر مستحکم موڑ سے گزرا، جب امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان ایک بنیادی امن سمجھوتے کا اعلان کیا گیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھاDeal with the Islamic Republic of Iran is now complete اور یوں 15ہفتوں پر محیط تباہ کن جنگ کو ختم کرنے کی سمت پہلا ٹھوس قدم اٹھایا گیا۔ 17جون کو فرانسیسی صدر ایمانیول میکرون کی میزبانی میں ورسائے کے تاریخی محل میں جی سیون اجلاس کے موقع پر وائٹ ہاس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف ڈین اسکاوینو نے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی جس میں صدر ٹرمپ ’’ اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ‘‘ کے سرکاری کاغذی نسخے پر دستخط کرتے نظر آئے، جب کہ فرانسیسی صدر میکرون تالیاں بجاتے اور وزیر خارجہ مارکو روبیو پس منظر میں کھڑے دکھائی دئیے۔ وائٹ ہائوس نے اپنی سرکاری پوسٹ میں باضابطہ اعلان کیا۔ اس سے بھی زیادہ اہم پیش رفت 17اور 18جون کی درمیانی شب میں سامنے آئی، جب ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور صدر ٹرمپ نے الیکٹرانک طریقے سے اس دستاویز پر دستخط ثبت کیے اور معاہدہ دونوں ممالک کے صدور کے دستخطوں سے فوری طور پر نافذ ہو گیا۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے خبر رساں ایجنسی ایرنا کو بتایا کہ’’ اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ صدور کے دستخطوں سے حتمی شکل اختیار کر چکا ہے‘‘۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ دستخطوں کے بعد کسی باضابطہ تقریب کا اہتمام نہیں کیا جائے گا اور اب مذاکرات کا دائرہ خالصتاً جوہری معاملات اور پابندیوں میں ریلیف تک محدود رہے گا۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے خود تصدیق کی کہ اسلام آباد میمورنڈم دونوں ممالک کے صدور اور ان کی بطور ثالث شخصیت کے دستخطوں سے باضابطہ نافذ ہو گیا ہے۔ اس تاریخی سمجھوتے کے 14نکات17جون کو امریکی حکام نے عوام کے سامنے رکھ دئیے۔ یہ وہ دستاویز ہے جسے باضابطہ طور پرIslamabad Memorandum of Understanding between the United States of America and the Islamic Republic of Iran کا نام دیا گیا۔ دونوں فریقین کو زیادہ سے زیاد60دنوں میں یا باہمی رضامندی سے توسیع کے ساتھ حتمی معاہدے تک پہنچنا ہوگا، اور یہ حتمی معاہدہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی لازمی قرارداد سے منظور کرایا جائے گا۔
اس سفارتی پیش رفت کو صحیح تناظر میں سمجھنے کے لیے 2026ء کی ایران جنگ کی ہولناکیوں کا ادراک ضروری ہے۔ ماضی کی پراکسی جنگوں سے بالکل مختلف، یہ تنازع 28فروری 2026ء کو براہِ راست اور ہائی انٹینسٹی لڑائی میں بدل گیا جب امریکہ اور اسرائیل نے بالترتیب ’’ آپریشن ایپک فیوری‘‘ اور ’’ آپریشن رورنگ لائن‘‘ کا آغاز کیا۔ پہلے 12 گھنٹوں میں 900سے زائد فضائی حملے کیے گئے، جن کا مقصد ایرانی قیادت کو نشانہ بنا کر نظام کو مفلوج کرنا تھا لیکن یہ حساب کتاب غلط ثابت ہوا۔ ایران نے ’’ آپریشن ٹرو پراس 4‘‘ کے تحت اسرائیل، خلیجی ممالک، اردن اور عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کی یلغار کر دی اور جنگ کا دائرہ خطرناک حد تک پھیل گیا۔
اس جنگ کا سب سے تباہ کن ہتھیار عسکری نہیں بلکہ معاشی تھا۔ آبنائے ہرمز، ایران نے اس گزرگاہ کی بندش کے ذریعے عالمی توانائی کی منڈی کو یرغمال بنا لیا، جس سے برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 120ڈالر فی بیرل کی سطح کو چھو گئی۔ امریکہ نے 13اپریل کو ایرانی بندرگاہوں پر دوہری بحری ناکہ بندی نافذ کر دی۔ ایران کو 300ارب سے ایک ٹریلین ڈالر تک کے معاشی نقصان اور روزانہ 500ملین ڈالر کے تجارتی خسارے کا سامنا کرنا پڑا، جب کہ امریکی معیشت اور خلیجی ریاستیں بھی اس آتش کی لپیٹ میں آ گئیں۔ یہی باہمی ناقابلِ برداشت معاشی تباہی بالآخر دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لے آئی۔
اس نازک امن عمل کو سب سے بڑا اور فوری خطرہ واشنگٹن یا تہران سے نہیں، بلکہ اسرائیل سے ہے۔ تل ابیب کو دانستہ طور پر ان مذاکرات سے باہر رکھا گیا اور اس نے لبنان میں اپنی فوجی کارروائیوں کو اس معاہدے کے دائرے میں قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ معاہدے کے اعلان سے عین قبل، اسرائیلی افواج نے بیروت کے علاقے داحیہ اور نبطیہ میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے کیے۔ جن میں اب تک 3783افراد ہلاک اور 11699زخمی ہو چکے ہیں۔ ان حملوں نے بادی النظر صدر ٹرمپ کو اس قدر مشتعل کیا کہ جی سیون میں انہیں اپنے قریبی اتحادی نیتن یاہو کو کھل کر تنبیہ کرنی پڑی۔ ٹرمپ نے یہاں تک کہا کہ اسرائیل 2020ء میں جنرل سلیمانی کی مشترکہ کارروائی سے دست کش ہوا تھا، لہٰذا اب اسے معاہدے پر تنقید کا کوئی اخلاقی حق نہیں۔
واضح رہے کہ جنگ کے اہم فریق اسرائیل نے ابھی تک معاہدے پر عمل درآمد کی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی اور تل ابیب کی یہ ہٹ دھرمی پورے خطے کو کسی بھی وقت دوبارہ آگ کے شعلوں میں دھکیل سکتی ہے۔ دوسری جانب بھارت کی حکمت عملی اپنے ہی بوجھ تلے دب گئی۔ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے جنگ سے قبل یروشلم کھڑے ہو کر اسرائیل کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا تھا، مگر جنگ کے معاشی طوفان سے خود کو نہ بچا سکی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ تاریخی امن معاہدہ بھارت کے روایتی حریف پاکستان کی ثالثی سے طے پایا اور نئی دہلی کی نام نہاد ’’ وشواگرو‘‘ کا خواب ایک سفارتی دھچکے میں بدل گیا۔
اس پورے بحران میں پاکستان نے غیر معمولی سفارتی مہارت اور حوصلے کا ثبوت دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایسا پل تعمیر کیا جو بظاہر ناممکن لگتا تھا۔ ایک طرف امریکہ کے سخت مطالبات، دوسری طرف ایران کا نظریاتی موقف۔ اسلام آباد میمورنڈم بلاشبہ ایک نادر سفارتی کارنامہ ہے جس نے عارضی طور پر مشرق وسطیٰ کو خونی دلدل اور دنیا کو توانائی کے گہرے بحران سے نکال لیا ہے۔ لیکن اس امن کی بنیادیں انتہائی متضاد مفادات پر قائم ہیں۔ ناقدین پہلے ہی پوچھ رہے ہیں کہ جو جوہری معاہدہ دس سال کی پیچیدہ سفارت کاری میں طے ہوا تھا، وہ محض 60دنوں میں کیسے ممکن ہوگا۔ اگر امریکہ کے سخت گیر جوہری مطالبات اور ایران کی خودمختاری و معاشی ریلیف کے درمیان کوئی قابلِ عمل راستہ نہ نکلا، اور اگر اسرائیل کو بیرونی دبا سے نہ روکا گیا، تو یہ معاہدہ مستقل امن کا خاکہ نہیں بلکہ 2026ء کی جنگ کے اگلے اور زیادہ ہولناک مرحلے کا عارضی وقفہ ثابت ہوگا۔ عالمی برادری کو اس جنگ بندی کو ایک جامع، کثیر الفریقی سلامتی کے ڈھانچے میں ڈھالنا ہوگا۔ وگرنہ تاریخ اس خطے کو معاف نہیں کرے گی اور نہ ہی کرنی چاہیے۔





