اولاد کی تربیت وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے

اولاد کی تربیت وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے
تحریر: رفیع صحرائی
معاشرے کی تعمیر و تشکیل میں خاندان بنیادی اکائی کی حیثیت رکھتا ہے اور خاندان کی بنیاد اولاد کی صحیح تربیت پر استوار ہوتی ہے۔ اگر اولاد نیک، با کردار اور ذمہ دار ہو والدین کے لیے بھی نیک نامی کا باعث بنتی ہے اور معاشرے میں اس کی اچھے پیرائے میں مثالیں بھی دی جاتی ہیں۔ غیر ذمہ دار اور بگڑی ہوئی اولاد کی مثالیں بھی دی جاتی ہیں مگر عبرت حاصل کرنے کے لیے۔ بدقسمتی سے آج کا دور ایسا دور بن چکا ہے جہاں والدین اپنی معاشی مصروفیات، روزگار کی دوڑ اور دنیاوی الجھنوں میں اس قدر الجھ چکے ہیں کہ انہیں اپنی اولاد کی فکری، اخلاقی اور سماجی تربیت کے لیے مطلوبہ وقت میسر نہیں آتا۔ یہی غفلت بعض اوقات ایسے المناک نتائج کو جنم دیتی ہے جن کا ازالہ عمر بھر ممکن نہیں ہوتا۔
موجودہ معاشرتی حالات میں سب سے زیادہ توجہ اس عمر کے بچوں پر دینے کی ضرورت ہے جو بچپن اور جوانی کے درمیان کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ بارہ سے اٹھارہ برس کی عمر وہ نازک دور ہے جب شخصیت تشکیل پا رہی ہوتی ہے، جذبات غالب ہوتے ہیں اور صحیح و غلط کے درمیان تمیز ابھی مکمل طور پر پختہ نہیں ہوتی۔ یہی وہ عمر ہے جب نوجوان دوسروں کی زندگیوں سے متاثر ہوتے ہیں اور ان کے دل میں مختلف خواہشات جنم لیتی ہیں۔ اگر اچھا ماحول اور بہتر رہنمائی انہیں میسر آ جائے تو زندگی سنور جاتی ہے۔ بصورتِ دیگر شخصیت بگڑنے کے سو فیصد مواقع ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا، موبائل فون اور مادہ پرستی نے نوجوان نسل کی نفسیات پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ آج ایک غریب گھر کا نوجوان بھی اپنے موبائل کی سکرین پر وہی آسائشیں دیکھتا ہے جو بڑے بڑے سرمایہ داروں کے بچوں کو حاصل ہیں۔ مہنگی گاڑیاں، قیمتی لباس، پرتعیش طرزِ زندگی اور عیش و عشرت کے مظاہر اس کے ذہن میں خواہشات کا ایک طوفان برپا کر دیتے ہیں۔ پُرتعیّش زندگی گزارنا ہر نوجوان کی فطری خواہش ہوتی ہے۔ جب گھر کے حالات ان خواہشات کی تکمیل کی اجازت نہیں دیتے تو بعض نوجوان جلد بازی، غلط صحبت یا غیر قانونی راستوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ بعض نوجوان منشیات فروشوں کے آلہ کار بھی بن جاتے ہیں اور قوم کی رگوں میں اندھیرا بھرنے والوں کی سہولت کاری کرنے لگتے ہیں۔ ان میں سے اکثر خود بھی منشیات کی لت میں مبتلا ہو کر اپنی زندگی کو تباہ کرنے کے علاوہ والدین کے خواب بھی چکنا چور کر دیتے ہیں۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اولاد کی تربیت صرف کھانے، پینے اور تعلیم دلانے کا نام نہیں بلکہ ان کی دوستیوں، سرگرمیوں، معمولات اور ذہنی رجحانات پر بھی نظر رکھنا والدین کی ذمہ داری ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض والدین اس وقت جاگتے ہیں جب حالات ان کے اختیار سے نکل چکے ہوتے ہیں۔ تب بدنامی دروازے پر دستک دے رہی ہوتی ہے اور خاندان عدالتوں، تھانوں اور کچہریوں کے چکروں میں الجھ جاتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں بعض ایسے واقعات بھی سامنے آتے ہیں جن میں حقیقت اور افواہ کا فرق مٹ جاتا ہے۔ جذباتی ماحول، سنی سنائی باتیں اور فوری فیصلے بعض اوقات ایسے افراد کو بھی مشکلات میں مبتلا کر دیتے ہیں جو حقیقتاً قصوروار نہیں ہوتے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر الزام کو تحقیق اور شواہد کی کسوٹی پر پرکھا جائے۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ مجرم کو سزا ملے لیکن کسی بے گناہ کی عزت اور وقار بھی محفوظ رہے۔ اس ضمن میں میڈیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری بھی غیر معمولی ہے۔ خبر کی دوڑ میں بعض اوقات ایسی معلومات نشر کر دی جاتی ہیں جن کی مکمل تصدیق نہیں ہوئی ہوتی۔ بعد ازاں اگر حقائق مختلف ثابت ہوں تو متاثرہ فرد کی ساکھ اور عزت کو پہنچنے والا نقصان واپس نہیں آتا۔ کئی نوجوان صرف بدنامی کے خوف سے شدید ذہنی دبا کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس لیے صحافت کا بنیادی اصول تحقیق، احتیاط اور ذمہ داری ہونا چاہیے، نہ کہ محض سنسنی خیزی۔
والدین کے لیے سب سے موثر راستہ یہی ہے کہ وہ اپنی اولاد کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کریں۔ بچے کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ اس کی مشکلات، خواہشات اور پریشانیاں سننے والا کوئی موجود ہے۔ جب گھر کا ماحول اعتماد، محبت اور رہنمائی سے بھرپور ہو تو نوجوان غلط راستوں کی طرف کم مائل ہوتے ہیں۔ اگر کسی خواہش کی تکمیل فوری طور پر ممکن نہ ہو تو والدین بچوں کو صبر، محنت اور جدوجہد کی اہمیت سمجھائیں تاکہ وہ وقتی لالچ کی بجائے مستقل کامیابی کا راستہ اختیار کریں۔
حقیقت یہ ہے کہ آج کے دور میں اولاد کو جائیداد، دولت یا آسائشوں سے زیادہ اچھی تربیت کی ضرورت ہے۔ والدین اگر اپنی مصروفیات میں سے کچھ وقت بچوں کے لیے نکال لیں، ان کی صحبت، دوستوں اور سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور انہیں دین، اخلاق اور کردار کی مضبوط بنیاد فراہم کریں تو معاشرے کے بہت سے مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔ قوموں کا مستقبل ان کے نوجوانوں سے وابستہ ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنی نئی نسل کو صحیح سمت دے سکیں تو کل کا پاکستان زیادہ محفوظ، مہذب اور روشن ہوگا۔ بصورت دیگر غفلت کی قیمت نہ صرف خاندانوں کو بلکہ پورے معاشرے کو ادا کرنا پڑے گی۔




