
امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت میں شامل 300 ارب ڈالرز کے تعمیرِ نو اور اقتصادی ترقی کے منصوبے نے واشنگٹن میں سیاسی ہلچل مچا دی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ اس منصوبے کے لیے امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ استعمال نہیں کیا جائے گا، تاہم اپوزیشن اور بعض ریپبلکن رہنما اس پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے مطابق امریکا اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایران کی تعمیرِ نو اور اقتصادی بحالی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالرز کے منصوبے پر کام کرے گا، تاہم اس فنڈ کے طریقۂ کار اور مالی ذرائع کا فیصلہ آئندہ 60 روزہ مذاکرات میں کیا جائے گا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا ہے کہ امریکا ایران کو 300 ارب ڈالرز ادا نہیں کر رہا، یہ جھوٹی خبریں ہیں، یہ ڈیموکریٹس کا پروپیگنڈا ہے۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکی ٹیکس دہندگان کا ایک سینٹ بھی ایران کو نہیں جائے گا۔
انہوں نے عندیہ دیا ہے کہ اس منصوبے میں خلیجی عرب ممالک اور دیگر بین الاقوامی سرمایہ کار حصہ لے سکتے ہیں، جس سے خطے میں اقتصادی تعاون بڑھے گا اور پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
امریکی ڈیموکریٹ رہنماؤں نے اس مجوزہ فنڈ کو ملکی معاشی مسائل سے جوڑتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔
سینیٹر ایمی کلوبچر نے کہا ہے کہ 300 ارب ڈالرز سے امریکا میں بے گھر افراد کا مسئلہ ختم کیا جا سکتا ہے، کئی دہائیوں تک کینسر ریسرچ کی فنڈنگ کی جا سکتی ہے اور ہر بچے کو برسوں تک مفت پری اسکول تعلیم دی جا سکتی ہے، لیکن ٹرمپ یہ رقم ایران کو دینا چاہتے ہیں۔
اسی طرح سینیٹ میں ڈیموکریٹس کے قائد چک شومر نے کہا ہے کہ ڈیموکریٹس ایران کو 300 ارب ڈالرز بھیجنے میں ٹرمپ کا ساتھ نہیں دیں گے۔
چند ریپبلکن رہنماؤں نے بھی منصوبے پر اعتراضات اٹھائے ہیں، سینیٹر راجر وکر نے کہا ہے کہ اگرچہ یہ رقم امریکی خزانے سے نہ بھی آئے، تب بھی اس کا حجم اتنا بڑا ہے کہ یہ اوباما دور کے 2015ء کے جوہری معاہدے سے کہیں زیادہ فائدہ ایران کو پہنچا سکتی ہے۔
نئی مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کی تیل و گیس کی صنعت پر عائد پابندیاں فوری طور پر ختم کرنے، منجمد اثاثوں کی بحالی اور مزید معاشی پابندیوں میں نرمی کے لیے بھی مذاکرات شروع کیے جائیں گے۔







