
پاکستان کے نجی ٹی وی چینل کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی رابطوں اور پس پردہ مذاکرات کے حوالے سے دلچسپ تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان مذاکرات کو کامیاب بنانے اور حساس معلومات کو خفیہ رکھنے کے لیے متعدد ممالک نے اہم کردار ادا کیا، جن میں پاکستان، قطر، عمان اور آذربائیجان شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے مختلف مراحل انتہائی رازداری میں مکمل کیے گئے تاکہ کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت یا معلومات کے افشا ہونے کے خدشات کو کم کیا جا سکے۔ بعض اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ابتدائی رابطے مختلف خفیہ مقامات پر ہوئے، جبکہ کچھ اہم ملاقاتیں ایسے مقامات پر بھی منعقد کی گئیں جہاں میڈیا اور دیگر غیر متعلقہ عناصر کی رسائی ممکن نہ تھی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سفارتی پیغامات اور حساس معلومات کی ترسیل کے لیے روایتی اور غیر روایتی دونوں ذرائع استعمال کیے گئے۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ سامنے آیا ہے کہ ہاتھ سے تحریر کیے گئے خطوط کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کیا گیا تاکہ الیکٹرانک نگرانی اور سائبر جاسوسی کے خطرات سے بچا جا سکے۔
اطلاعات کے مطابق مذاکراتی عمل کے دوران مختلف فریقین کی جانب سے معلومات کے بہاؤ کو محدود رکھنے کے لیے خصوصی حکمت عملی اپنائی گئی۔ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ غلط یا گمراہ کن معلومات بھی مختلف حلقوں تک پہنچائی گئیں تاکہ اصل مذاکراتی سرگرمیوں اور ملاقاتوں کی تفصیلات خفیہ رہ سکیں۔
سفارتی امور کے ماہرین کے مطابق بین الاقوامی سطح کے حساس مذاکرات میں رازداری برقرار رکھنا ایک معمول کی حکمت عملی سمجھی جاتی ہے، کیونکہ قبل از وقت معلومات کے افشا ہونے سے مذاکراتی عمل متاثر ہو سکتا ہے۔
تاہم مذکورہ دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ متعلقہ ممالک کی جانب سے بھی ان تفصیلات پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ اس کے باوجود ذرائع کا کہنا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی پیش رفت کو ممکن بنانے کے لیے متعدد ممالک نے پس پردہ اہم کردار ادا کیا۔
نوٹ : ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق معتبر بین الاقوامی ذرائع سے نہیں ہو سکی







