Column

وفاقی بجٹ 2026۔27: عوام کو ریلیف ملے گا یا نئے بوجھ؟

وفاقی بجٹ 2026۔27: عوام کو ریلیف ملے گا یا نئے بوجھ؟
غلام مصطفیٰ جمالی
پاکستان میں وفاقی بجٹ ہمیشہ سے محض سرکاری آمدنی اور اخراجات کی تفصیل نہیں رہا بلکہ یہ ایک ایسی قومی دستاویز تصور کیا جاتا ہے جس کے اثرات ملک کے ہر شہری، ہر کاروبار، ہر صنعت اور ہر ادارے تک پہنچتے ہیں۔ بجٹ کے اعلان سے پہلے ملک بھر میں بحث و مباحثہ شروع ہو جاتا ہے، ماہرین اپنی آراء پیش کرتے ہیں، تاجر برادری تجاویز دیتی ہے، صنعت کار مراعات کی امید لگاتے ہیں، سرکاری ملازمین تنخواہوں میں اضافے کے منتظر ہوتے ہیں جبکہ عام آدمی اس سوال کا جواب تلاش کر رہا ہوتا ہے کہ آیا اس کی زندگی آسان ہوگی یا مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ سال 2026۔27 کا وفاقی بجٹ بھی ایسے ہی حالات میں پیش ہونے جا رہا ہے جہاں ایک طرف حکومت معاشی استحکام کے دعوے کر رہی ہے اور دوسری طرف عوام مہنگائی، بے روزگاری اور کم ہوتی قوت خرید کے باعث پریشان دکھائی دیتے ہیں۔
گزشتہ چند برس پاکستان کی معیشت کے لیے آسان نہیں رہے۔ عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی صورتحال، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھائو، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات، اندرونی مالی مشکلات اور قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ نے ملکی معیشت کو متاثر کیا۔ حکومتوں نے مختلف اوقات میں اصلاحات، سبسڈیز، ٹیکس اقدامات اور مالیاتی پالیسیوں کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی، لیکن عام آدمی آج بھی یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی معاشی مشکلات کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی ہیں۔ ایسے میں وفاقی بجٹ 2026۔27سے توقعات بھی غیر معمولی ہیں۔
عوام کی سب سے بڑی امید مہنگائی میں کمی اور روزمرہ زندگی میں آسانی ہے۔ جب آٹے، چینی، گھی، دالوں، سبزیوں، بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں تو کسی بھی معاشی کامیابی کے دعوے عام شہری کے لیے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار اگرچہ معاشی بہتری کی نشاندہی کریں، لیکن اصل پیمانہ عوام کی جیب اور گھر کا بجٹ ہوتا ہے۔ اگر ایک خاندان اپنے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مشکلات کا شکار ہے تو اس کے لیے معاشی استحکام کے دعوے اطمینان کا باعث نہیں بن سکتے۔
حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ ایک ایسا بجٹ پیش کرے جو ایک طرف مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھے اور دوسری طرف عوام کو ریلیف بھی فراہم کرے۔ پاکستان اس وقت قرضوں کی ادائیگی، مالی خسارے اور محصولات کے اہداف جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں حکومت کے پاس وسائل محدود ہوتے ہیں اور فیصلے مشکل ہو جاتے ہیں۔ تاہم کامیاب حکومتیں وہی سمجھی جاتی ہیں جو محدود وسائل کے باوجود عوامی فلاح کو ترجیح دینے میں کامیاب رہتی ہیں۔
پاکستان کا ٹیکس نظام بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ ایک طویل عرصے سے یہ شکایت موجود ہے کہ ٹیکس کا اصل بوجھ تنخواہ دار طبقے اور عام صارفین پر پڑتا ہے جبکہ کئی بااثر شعبے مناسب حصہ ادا نہیں کرتے۔ بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے اشیائے ضروریہ مہنگی ہوتی ہیں اور اس کا سب سے زیادہ اثر کم آمدنی والے طبقے پر پڑتا ہے۔ اگر حکومت واقعی عوام دوست بجٹ پیش کرنا چاہتی ہے تو اسے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، ٹیکس چوری کی روک تھام اور منصفانہ ٹیکس نظام کے قیام پر توجہ دینا ہوگی۔
صنعتی شعبہ کسی بھی معیشت کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان میں صنعت کاروں کو توانائی کی بلند قیمتوں، شرح سود، خام مال کی لاگت اور دیگر انتظامی مسائل کا سامنا ہے۔ اگر صنعتیں ترقی نہیں کریں گی تو روزگار پیدا نہیں ہوگا، برآمدات نہیں بڑھیں گی اور معیشت مضبوط نہیں ہو سکے گی۔ بجٹ میں صنعتی شعبے کے لیے ایسی پالیسیاں متعارف کروانے کی ضرورت ہے جو سرمایہ کاری کو فروغ دیں اور پیداواری لاگت کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں۔
برآمدات میں اضافہ پاکستان کی معاشی ضرورت ہے۔ ایک ایسا ملک جو درآمدات پر زیادہ انحصار کرتا ہو اور برآمدات محدود ہوں، اسے زرمبادلہ کے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ ٹیکسٹائل، زرعی مصنوعات، آئی ٹی خدمات اور دیگر برآمدی شعبوں کو خصوصی مراعات اور سہولیات فراہم کر کے برآمدات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر بجٹ میں اس حوالے سے واضح حکمت عملی دی جاتی ہے تو یہ معیشت کے لیے مثبت قدم ہوگا۔
زرعی شعبہ پاکستان کی معیشت کا اہم ستون ہے۔ لاکھوں افراد کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے اور غذائی تحفظ کا انحصار بھی اسی شعبے پر ہے۔ کسان اس وقت بڑھتی ہوئی لاگت، پانی کی کمی، موسمیاتی تبدیلیوں اور مارکیٹ کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ کھاد، بیج اور زرعی ادویات کی قیمتوں میں اضافے نے ان کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ بجٹ میں کسانوں کے لیے آسان قرضوں، جدید ٹیکنالوجی اور زرعی تحقیق کے فروغ کے اقدامات شامل کیے جانے چاہئیں۔
تعلیم کے شعبے کو ہمیشہ ترقی کی بنیاد کہا جاتا ہے، لیکن پاکستان میں تعلیم پر خرچ ہونے والے وسائل اب بھی ناکافی سمجھے جاتے ہیں۔ لاکھوں بچے معیاری تعلیم سے محروم ہیں جبکہ سرکاری تعلیمی اداروں کو بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا ہے۔ اگر بجٹ میں تعلیم کے لیے خاطر خواہ فنڈز مختص کیے جائیں اور اس شعبے میں شفافیت اور کارکردگی کو یقینی بنایا جائے تو یہ مستقبل کی سرمایہ کاری ثابت ہوگی۔
صحت کا شعبہ بھی خصوصی توجہ کا متقاضی ہے۔ سرکاری اسپتالوں پر بوجھ بڑھتا جا رہا ہے جبکہ طبی سہولیات کی دستیابی اور معیار کے حوالے سے متعدد شکایات موجود ہیں۔ ایک صحت مند قوم ہی ترقی کے سفر میں موثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس لیے صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کو خرچ نہیں بلکہ قومی ترقی میں سرمایہ کاری سمجھا جانا چاہیے۔
توانائی کے شعبے کے مسائل پاکستان کی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ بجلی کے نرخ، گردشی قرضہ اور ترسیلی نقصانات جیسے مسائل کئی سالوں سے موجود ہیں۔ بجلی مہنگی ہونے سے نہ صرف گھریلو صارفین متاثر ہوتے ہیں بلکہ صنعتوں کی پیداواری لاگت بھی بڑھ جاتی ہے۔ اگر بجٹ میں توانائی کے شعبے کی اصلاحات کے لیے موثر اقدامات شامل کیے جائیں تو اس کے مثبت نتائج پوری معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
نوجوان پاکستان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ ملک کی بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، لیکن روزگار کے محدود مواقع ان کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکے ہیں۔ ہر سال لاکھوں نوجوان تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں لیکن مناسب ملازمتیں دستیاب نہیں ہوتیں۔ اس صورتحال میں ہنر مندی، ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معیشت اور کاروباری مواقع کے فروغ کے لیے بجٹ میں خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے۔
آئی ٹی کا شعبہ پاکستان کے لیے روشن امکانات رکھتا ہے۔ دنیا تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے اور پاکستان کے نوجوان اس شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ اگر حکومت آئی ٹی برآمدات، فری لانسنگ، اسٹارٹ اپس اور ٹیکنالوجی پارکس کے فروغ کے لیے موثر پالیسیاں متعارف کروائے تو یہ معیشت کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔
سرکاری ملازمین اور پنشنرز بھی بجٹ سے بڑی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ مہنگائی نے ان کی آمدنی کی حقیقی قدر کو متاثر کیا ہے۔ اگر تنخواہوں اور پنشن میں مناسب اضافہ کیا جاتا ہے تو اس سے لاکھوں خاندانوں کو کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔ تاہم حکومت کو اس حوالے سے مالی وسائل اور اخراجات کے توازن کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کی اہمیت بھی غیر معمولی ہوتی ہے۔ سڑکیں، پل، اسکول، اسپتال، ڈیم اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے منصوبے نہ صرف ترقی کا ذریعہ بنتے ہیں بلکہ روزگار کے مواقع بھی پیدا کرتے ہیں۔ تاہم ضروری ہے کہ ترقیاتی فنڈز سیاسی بنیادوں کے بجائے قومی ضرورت اور شفافیت کے اصولوں کے تحت استعمال کیے جائیں۔
پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے سنگین چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ سیلاب، خشک سالی، گرمی کی شدید لہریں اور پانی کے مسائل معیشت اور عوام دونوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ بجٹ میں ماحولیات، آبی ذخائر، جنگلات اور قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے وسائل مختص کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی بجٹ کی کامیابی کا فیصلہ پریس کانفرنسوں یا سرکاری بیانات سے نہیں بلکہ عوام کی زندگی میں آنے والی حقیقی تبدیلی سے ہوتا ہے۔ اگر ایک مزدور اپنی بنیادی ضروریات پوری کر سکے، ایک کسان اپنی فصل کا مناسب معاوضہ حاصل کر سکے، ایک نوجوان کو روزگار مل سکے اور ایک متوسط طبقے کا خاندان مہنگائی کے بوجھ سے کچھ نجات پا سکے تو بجٹ کو کامیاب قرار دیا جا سکتا ہے۔
وفاقی بجٹ 2026۔27حکومت کے لیے ایک اہم امتحان ہے۔ عوام یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا معاشی استحکام کے دعوے ان کی زندگی میں عملی بہتری کی صورت اختیار کرتے ہیں یا نہیں۔ اگر بجٹ میں عوامی فلاح، معاشی ترقی، سرمایہ کاری، روزگار اور سماجی تحفظ کے درمیان متوازن حکمت عملی اپنائی گئی تو یہ ملک کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر بوجھ ایک بار پھر عام آدمی پر منتقل ہوا تو عوامی بے چینی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
پاکستان کے عوام اب صرف وعدوں اور نعروں سے مطمئن نہیں ہوتے۔ وہ نتائج چاہتے ہیں، عملی اقدامات چاہتے ہیں اور اپنی زندگی میں بہتری دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہی وہ پیمانہ ہے جس پر وفاقی بجٹ 2026۔27کو پرکھا جائے گا۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ یہ بجٹ عوام کے لیے امید کی نئی کرن ثابت ہوتا ہے یا پھر مشکلات کے ایک نئے باب کا آغاز۔

جواب دیں

Back to top button