سکون
سکون
تحریر : صفدر علی حیدری
’’ سکون کی تلاش میں میں سارا دن بے سکون رہتا ہوں‘‘۔ یہ جملہ بظاہر بہت معمولی ہے، مگر شاید ہماری پوری زندگی کی سب سے بڑی سچائی اسی ایک جملے میں چھپی ہوئی ہے۔ ہم سکون چاہتے ہیں، لیکن سکون کے حصول کے لیے ایسی دوڑ میں شامل ہیں جس نے ہمیں مزید بے سکون کر دیا ہے۔ ہم آرام چاہتے ہیں، مگر آرام کے لیے اتنا کام کرتے ہیں کہ آرام کا وقت ہی نہیں ملتا۔ ہم خوشی چاہتے ہیں، مگر خوشی کی تلاش میں اپنی زندگی کو اتنی خواہشوں سے بھر لیتے ہیں کہ جو کچھ ہمارے پاس موجود ہے، اس کی قدر کرنے کا وقت نہیں رہتا۔
انسان نے زندگی کو آسان بنانے کے لیے بے شمار چیزیں ایجاد کیں۔ مشینیں بنائیں، ٹیکنالوجی کو ترقی دی، علاج کے نئے ذرائع پیدا کیے، سفر آسان کیا، رابطے کے وسیلے بڑھائے اور معلومات کا ایک وسیع سمندر اپنے سامنے کھول دیا۔ مگر اس ساری ترقی کے باوجود آج انسان پہلے سے زیادہ بے چین، زیادہ پریشان اور زیادہ تنہا دکھائی دیتا ہے۔
گھر بڑے ہو گئے ہیں، مگر دلوں میں گنجائش کم ہو گئی ہے۔ رابطے بڑھ گئے ہیں، مگر تعلق کی گہرائی کم ہو گئی ہے۔ گفتگو کے ذرائع بے شمار ہیں، مگر ایک دوسرے کو سننے کا صبر کم ہو گیا ہے۔
کوئی نیند کی کمی سے پریشان ہے، کوئی مستقبل کے خوف میں مبتلا ہے، کوئی ماضی کے دکھ سے نکل نہیں پا رہا، کوئی معاشی مسائل سے لڑ رہا ہے اور کوئی بظاہر کامیاب ہونے کے باوجود اندر سے ٹوٹا ہوا ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ زندگی میں پریشانیاں بڑھ گئی ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے اندر سکون کم ہو گیا ہے۔ دل اطمینان کھو چکا ہے اور روح بے قرار ہے۔
ہم نے سکون کو غلط جگہوں پر تلاش کیا۔ کسی نے دولت میں، کسی نے شہرت میں، کسی نے عہدے میں، کسی نے آسائشوں میں، کسی نے محبت میں، کسی نے مسلسل مصروف رہنے میں اور کسی نے دنیا بھر کے سفر میں۔ ہم سمجھتے رہے کہ جب یہ چیز ہمارے پاس آ جائے گی تو سکون بھی آ جائے گا، مگر ایک خواہش پوری ہوتی تو دوسری خواہش پیدا ہو جاتی۔ یوں انسان ساری زندگی سکون کی تلاش میں بھاگتا رہا اور سکون اس سے دور ہوتا چلا گیا۔جیسے کوئی اپنے سائے کو پکڑنے کے لیے دوڑے۔ جتنا دوڑے، سایہ اتنا ہی آگے بڑھتا جائے۔
بعض اوقات انسان کی پریشانی کسی بڑے المیے سے نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی فکروں کے جمع ہو جانے سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک باپ اپنے بچوں کی تعلیم کے بارے میں پریشان ہے، ایک ماں ان کی تربیت اور حفاظت کے بارے میں فکر مند ہے، ایک شخص روزگار کے بارے میں سوچ رہا ہے، دوسرا بیماری کے بارے میں، تیسرا مہنگائی کے بارے میں اور چوتھا اپنے مستقبل کے بارے میں۔ یہ چھوٹی چھوٹی فکریں مل کر ایک ایسا بوجھ بن جاتی ہیں جو انسان کی سانسوں کو بھاری کر دیتا ہے۔
اگر کسی والدین کو اپنے بچوں کے لیے ایک ایسا اچھا سکول مل جائی جہاں انہیں معیاری تعلیم کے ساتھ اخلاقی تربیت بھی دی جائے، محفوظ ماحول ملے اور باصلاحیت اساتذہ ان کی رہنمائی کریں تو والدین کی ایک بڑی پریشانی کم ہو جاتی ہے۔ ایک اچھا سکول صرف بچے کو علم نہیں دیتا، والدین کو ذہنی سکون بھی دیتا ہے۔ جب ماں باپ اپنے بچے کو اعتماد کے ساتھ سکول کے دروازے پر چھوڑتے ہیں تو گویا وہ اپنی ایک بڑی فکر بھی وہیں چھوڑ آتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ تعلیم کا ایک اچھا نظام صرف بچوں کا مستقبل نہیں سنوارتا، پورے معاشرے کے ذہنی سکون میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔
لیکن کیا صرف بیرونی سہولتیں سکون کی ضمانت ہیں؟، نہیں۔
دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کے پاس دولت ہے، شاندار گھر ہیں، قیمتی گاڑیاں ہیں، شہرت ہے، عہدہ ہے، مگر نیند نہیں۔ وہ بستر پر لیٹتے ہیں تو جسم تھکا ہوا ہوتا ہے، مگر ذہن جاگ رہا ہوتا ہے۔ خیالات کا ایک ہجوم انہیں گھیر لیتا ہے۔ سب کچھ ہونے کے باوجود دل مطمئن نہیں ہوتا۔
یہاں ہمیں سکون کے اصل مفہوم کو سمجھنا ہوگا۔ سکون کا مطلب یہ نہیں کہ زندگی میں کوئی پریشانی نہ ہو۔ سکون کا مطلب یہ ہے کہ پریشانی موجود ہو مگر انسان اندر سے بکھر نہ جائے۔ سکون یہ نہیں کہ آنکھ کبھی نہ برسے، بلکہ یہ ہے کہ رونے کے بعد انسان میں دوبارہ اٹھنے کی طاقت باقی رہے۔ سکون یہ نہیں کہ خوف کبھی دل میں داخل نہ ہو، بلکہ یہ ہے کہ خوف کے عالم میں بھی انسان کو یقین رہے کہ وہ اکیلا نہیں۔
قرآن مجید ہمیں سکون کا بنیادی راز بتاتا ہے: ’’ بے شک ! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے‘‘۔
یہ صرف ایک آیت نہیں، انسانی زندگی کا ایک ابدی اصول ہے۔ جسم کو غذا چاہیے، جسم کو نیند چاہیے، مگر روح کو اپنے خالق سے تعلق چاہیے۔ انسان کا دل دنیا کی چیزوں سے مصروف تو ہو سکتا ہے، مگر مطمئن صرف اللہ کے ذکر سے ہوتا ہے۔
ہم اس حقیقت کو جانتے ہیں، مگر عملی زندگی میں اکثر اسے بھول جاتے ہیں۔ پریشانی آتی ہے تو ہم ہر دروازے پر دستک دیتے ہیں، ہر شخص سے مشورہ کرتے ہیں، دوستوں اور رشتہ داروں کو فون کرتے ہیں، خود کو مصروف رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر اس دروازے کو بھول جاتے ہیں جہاں حقیقی سکون ملتا ہے۔
ذکرِ الٰہی کا مطلب دنیا سے بھاگ جانا نہیں۔ اسلام ہمیں محنت بھی سکھاتا ہے اور توکل بھی۔ علاج بھی کروانے کا حکم دیتا ہے اور دعا بھی کرنے کا۔ تدبیر بھی ضروری ہے اور اللہ پر بھروسہ بھی۔
انسان اس وقت سب سے زیادہ بے سکون ہوتا ہے جب وہ ہر چیز کو اپنے مکمل اختیار میں رکھنا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہر معاملہ اس کی مرضی کے مطابق ہو، ہر شخص اس کے ساتھ ویسا ہی برتائو کرے جیسا وہ چاہتا ہے اور مستقبل بھی اسی نقشے کے مطابق چلے جو اس نے اپنے ذہن میں بنایا ہے۔
مگر زندگی ہمیشہ ہمارے منصوبے کے مطابق نہیں چلتی۔
جو ہمارے اختیار میں ہے، اس کے لیے بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔ جو ہمارے اختیار میں نہیں، اسے اللہ کے سپرد کرنا سیکھنا چاہیے۔ یہی توکل ہے، یہی بھروسہ ہے اور شاید سکون کا سب سے بڑا راز بھی یہی ہے۔
مولا علیؓ سے منسوب ایک حکمت آموز قول ہے: ’’ دنیا گزرنے کی جگہ ہے، ٹھہرنے کی جگہ نہیں‘‘۔
ہم نے اس گزرگاہ کو منزل سمجھ لیا ہے۔ ہم یہاں ایسے گھر بناتے ہیں جیسے ہمیشہ رہنا ہے، ایسے رشتے جوڑتے ہیں جیسے کبھی جدا نہیں ہونا اور ایسا مال جمع کرتے ہیں جیسے ہمیشہ ہمارا ساتھ دے گا۔ پھر جب دنیا کی کوئی چیز ہم سے چھن جاتی ہے تو ہم ٹوٹ جاتے ہیں۔
سکون اس وقت پیدا ہوتا ہی جب انسان اپنی اصل منزل کو پہچان لیتا ہے۔ جب اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ کہاں سے آیا ہے، کیوں آیا ہے اور آخرکار کہاں جانا ہے۔ اور یہی حقیقت سجدہ انسان کو بار بار یاد دلاتا ہے۔
رسولؐ اللہ نے فرمایا: ’’ بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے، لہٰذا سجدے میں زیادہ دعا کیا کرو‘‘۔
سجدہ صرف پیشانی زمین پر رکھنے کا نام نہیں۔ سجدہ اپنی بے بسی کا اعتراف ہے۔ سجدہ یہ مان لینا ہے: یا اللہ! میں نہیں جانتا، تو جانتا ہے۔ میں نہیں کر سکتا، تو کر سکتا ہے۔ میں کمزور ہوں، تو طاقتور ہے۔ میں پریشان ہوں، تو میرے حال سے باخبر ہے۔ میں رو رہا ہوں، تو میرے آنسوئوں کا مطلب جانتا ہے۔
شاید انسان کو بعض اوقات کسی بڑے فلسفے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسے صرف اتنا چاہیے ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب کے سامنے دل کھول کر رو لے، اپنا بوجھ اس کے حضور رکھ دے اور چند لمحوں کے لیے دنیا سے نکل کر اپنے خالق کے قریب ہو جائے۔
ہمیں اپنے بچوں کو صرف کامیابی کا راستہ نہیں سکھانا چاہیے۔ ہم انہیں یہ بھی سکھائیں کہ اگر اچھے نمبر، اچھی نوکری، دولت اور شہرت کے باوجود دل بے چین ہو جائے تو پھر کیا کرنا ہے۔ ہم نے انہیں مقابلہ کرنا سکھایا، مگر قناعت کم سکھائی۔ آگے بڑھنا سکھایا، مگر رک کر اپنے اندر جھانکنا نہیں سکھایا۔ دنیا جیتنے کا خواب دیا، مگر اپنے رب سے تعلق کی اہمیت کم بتائی۔
نتیجہ یہ ہے کہ بہت سے نوجوان بظاہر کامیاب ہیں مگر اندر سے تھکے ہوئے ہیں۔ وہ لوگوں کے درمیان ہیں مگر تنہا ہیں۔ وہ مسکرا رہے ہیں مگر خوش نہیں۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ذہنی بیماری کو محض کمزوری یا ایمان کی کمی نہیں سمجھنا چاہیے۔ جس طرح جسم بیمار ہوتا ہے، ذہن بھی بیمار ہو سکتا ہے۔ بے چینی، ڈپریشن، خوف اور تنہائی حقیقی مسائل ہیں۔ ضرورت ہو تو ماہرِ نفسیات سے مشورہ لینا چاہیے، علاج کروانا چاہیے اور مدد طلب کرنی چاہیے۔ دعا اپنی جگہ، علاج اپنی جگہ۔
اللہ نے شفا کے دروازے مختلف رکھے ہیں۔ مگر دل کا تعلق اپنے خالق سے قائم رکھنا بھی ضروری ہے۔ کیونکہ انسان دنیا سے جڑ کر اللہ سے کٹ جائے تو بہت کچھ حاصل کر کے بھی اندر سے خالی رہ سکتا ہے، اور اللہ سے جڑ جائے تو بہت کچھ کھو کر بھی مکمل طور پر ٹوٹتا نہیں۔
شاید سکون کسی خاص جگہ کا نام نہیں۔ یہ ایک کیفیت ہے۔ یہ ایک روحانی حالت ہے جو محل میں بھی مل سکتی ہے اور جھونپڑی میں بھی، دولت کے ساتھ بھی اور سادگی میں بھی۔ مگر اس کیفیت کی بنیاد دل کا اطمینان ہے، اور دل کا اطمینان اللہ کے ذکر سے پیدا ہوتا ہے۔
ہمیں اپنی زندگی کی رفتار کچھ کم کرنی ہوگی۔ تھوڑا رکنا ہوگا۔ کبھی خود سے پوچھنا ہوگا: میں کہاں جا رہا ہوں؟ کیوں جا رہا ہوں؟ کس کے لیے بھاگ رہا ہوں؟ جو کچھ حاصل کر رہا ہوں، کیا اس سے میرے دل کو سکون ملے گا؟،زندگی مختصر ہے۔ ہمیں دنیا میں محنت بھی کرنی ہے، بچوں کی تعلیم و تربیت بھی کرنی ہے، گھر بھی بنانا ہے، معاشرے کے حقوق بھی ادا کرنے ہیں، مگر ان سب کے دوران اپنے دل کو ویران نہیں ہونے دینا۔
ایک اچھا سکول بچوں کا مستقبل سنوارتا ہے۔ ایک اچھا گھر انسان کو سہارا دیتا ہے۔ اچھے رشتے زندگی میں محبت بھرتے ہیں۔ مگر ذکرِ الٰہی دل کو وہ قرار دیتا ہے جس کے بغیر دنیا کی بڑی سے بڑی کامیابی بھی ادھوری رہتی ہے۔آئیے، آج کچھ دیر رکیں۔ اپنی پریشانیوں کو پہچانیں۔ جو ممکن ہے، اس کے لیے کوشش کریں۔ جو ممکن نہیں، اسے اللہ کے سپرد کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔ اور جب سجدے میں جائیں تو صرف اپنی خواہشوں کی فہرست نہ پڑھیں۔ اپنے رب کو یاد کریں۔ اس کا شکر ادا کریں۔ اس سے بات کریں۔ اسے اپنا ہم نشین بنائیں۔ کیونکہ شاید سکون اس دن نہیں آئے گا جب دنیا ہماری مرضی کے مطابق ڈھل جائے گی۔
شاید سکون اس دن آئے گا جب ہمارا دل اللہ کی رضا پر مطمئن ہو جائے گا۔ اور شاید سکون کی تلاش کا آخری مقام دنیا نہیں، وہ سجدہ ہے جہاں انسان اپنی پیشانی زمین پر رکھ کر اپنے رب سے کہتا ہے: یا اللہ! میں تھک گیا ہوں۔ اب تو ہی مجھے سنبھال۔آمین یا رب العالمین۔
صفدر علی حیدری





