Column

وہ آخری آواز

وہ آخری آواز
تحریر : علیشبابگی
’’ ابو، میں مرنا نہیں چاہتی، مجھے بچا لیں۔ ابو، میری ٹانگوں سے روح نکل رہی ہے۔ میں مر رہی ہوں۔ مجھے بچا لیں‘‘۔ بعض جملے صرف الفاظ نہیں ہوتے، وہ انسان کی پوری زندگی کا تعاقب کرتے ہیں۔ وقت گزر جاتا ہے، موسم بدل جاتے ہیں، پیارے بچھڑ جاتے ہیں، لیکن کچھ آوازیں اور کچھ یادیں دل کے کسی تاریک کمرے میں ہمیشہ کے لیے قید ہو جاتی ہیں۔ جب بھی کسی مشابہ آواز کی بازگشت سنائی دیتی ہے، وہ زخم پھر سے تازہ ہو جاتے ہیں۔ مشہور پاکستانی اداکار محسن گیلانی کی زندگی میں بھی ایک ایسی ہی آواز ہمیشہ کے لیے بس گئی۔ ان کی بیٹی سیدہ فاطمہ ماں بننے والی تھیں۔ انہوں نے اپنے والد سے ایک ننھا سا وعدہ لیا تھا۔ ’’ ابو، جیسے آپ نے مجھے اپنی گود میں اٹھایا تھا، ویسے ہی میری بیٹی کو بھی دنیا میں آتے ہی سب سے پہلے آپ اپنی گود میں اٹھائیں گے‘‘۔ یہ صرف ایک خواہش نہیں تھی، ایک بیٹی کا اپنے باپ پر اعتماد تھا۔ اپنے باپ سے بے پناہ پیار تھا۔ محسن گیلانی شوٹنگ چھوڑ کر فوراً اسلام آباد پہنچ گئے۔ ننھی بچی دنیا میں آگئی، لیکن قدرت نے خوشی کے اس لمحے کو ایک ایسا امتحان بنا دیا جس کی کوئی تیاری ممکن نہیں ہوتی۔ فاطمہ کی شدید بلیڈنگ شروع ہوگئی۔ وہ اپنے باپ کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے بار بار کہہ رہی تھیں، ’’ ابو، میں مرنا نہیں چاہتی۔ مجھے بچا لیں‘‘۔ ڈاکٹر انہیں اسٹریچر پر ڈال کر ایمرجنسی کی طرف دوڑ پڑے۔ ایک بے بس باپ بھی اس اسٹریچر کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔ ہسپتال کا مختصر سا کوریڈور اس لمحے اسے صدیوں پر محیط سفر محسوس ہو رہا تھا۔ پھر وہ لمحہ آیا جس سے ہر والدین پناہ مانگتے ہیں۔ ڈاکٹر باہر آئے، سر جھکایا اور آہستہ سے کہا ’’ ہم آپ کی بیٹی کو نہیں بچا سکے‘‘۔ ایک لمحے میں ایک باپ کی دنیا اجڑ گئی۔ غم کی شدت نے انہیں ساکت کر دیا۔ تبھی ایک نرس نے قریب آکر کہا’’ آپ بیٹی کے غم میں اپنی نواسی کو بھول گئے ہیں‘‘۔ یہ سن کر انہیں بیٹی کا آخری وعدہ یاد آیا۔ انہوں نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اپنی نوزائیدہ نواسی کو گود میں اٹھایا، سینے سے لگایا اور برسوں کا مضبوط انسان بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ اس کے بعد اسلام آباد سے ملتان تک دس گھنٹے کا سفر شروع ہوا۔ ایک گاڑی میں ایک ٹوٹا ہوا باپ اپنی ننھی نواسی کو سینے سے لگائے بیٹھا تھا، جبکہ اس کے پیچھے چلتی ایمبولینس میں اس کی جوان بیٹی ہمیشہ کی نیند سو رہی تھی۔ کہتے ہیں وقت ہر زخم بھر دیتا ہے، لیکن یہ بات ہر زخم پر سچ ثابت نہیں ہوتی۔ آج بھی جب محسن گیلانی کسی ایمبولینس کا سائرن سنتے ہیں تو ان کے دل کی دھڑکن بدل جاتی ہے، کیونکہ وہ سائرن ان کے لیے صرف آواز نہیں، ان کی زندگی کے سب سے المناک دن کی بازگشت ہے۔
اولاد کی جدائی دنیا کا وہ دکھ ہے جسے الفاظ مکمل طور پر بیان نہیں کر سکتے۔ جن والدین نے اپنے بچوں کو کھویا ہو، وہ جانتے ہیں کہ اس دکھ کے بعد انسان زندہ تو رہتا ہے، مگر پہلے جیسا نہیں رہتا۔ قرآن مجید ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ’’ ہر جان نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے‘‘۔ موت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے نہ کوئی طاقت بچ سکتی ہے، نہ دولت، نہ شہرت اور نہ ہی اختیار۔ لیکن اس حقیقت کو جان لینا اور اسے برداشت کر لینا، دونوں الگ باتیں ہیں۔
اپنی آنکھوں کے سامنے جوان اولاد کو رخصت ہوتے دیکھنا، والدین کے لیے زندگی کا سب سے بڑا امتحان ہوتا ہے۔ اس کرب کو وہی سمجھ سکتا ہے جس نے اپنے دل کا ٹکڑا اپنے ہاتھوں سے قبر کے سپرد کیا ہو۔
زندگی ہمیں ہر روز یہ سبق دیتی ہے کہ ہمارے پاس جو لوگ ہیں، وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ نہیں رہیں گے۔ اس لیے محبت کا اظہار موخر نہ کریں، والدین کی قدر کریں، اولاد سے شفقت کریں، رشتوں کو وقت دیں، معاف کرنا سیکھیں اور دعا کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ کیونکہ ایک دن صرف یادیں رہ جاتی ہیں۔ اور بعض اوقات ایک جملہ انسان کا ساری عمر پیچھا کرتا رہتا ہے: ’’ ابو، میں مرنا نہیں چاہتی، مجھے بچا لیں‘‘۔

جواب دیں

Back to top button