Column

ہمیں ایک نئے خواب کی ضرورت ہے

ہمیں ایک نئے خواب کی ضرورت ہے
تحریر : شکیل سلاوٹ
قریباً آٹھ دہائیاں گزرنے کو ہیں۔ جنوبی ایشیا نے آزادی دیکھی، تقسیم کا درد سہا، جنگیں دیکھیں، سرحدی کشیدگیاں برداشت کیں اور بے شمار سیاسی اتار چڑھا کا سامنا کیا۔ لیکن ایک سوال آج بھی اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے کیا ہماری آئندہ نسلیں بھی اسی نفرت، بداعتمادی اور خوف کی میراث کی امین رہیں گی، یا ہم ان کے لیے ایک مختلف مستقبل کا انتخاب کریں گے؟
یہ خطہ دنیا کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی کا گھر ہے۔ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا، بھوٹان، مالدیپ اور افغانستان، اپنے سیاسی نظام، قومی مفادات اور تاریخی تجربات میں یقیناً مختلف ہیں، مگر ان کی تہذیبی جڑیں ایک دوسرے سے گہری وابستگی رکھتی ہیں۔ ہماری زبانیں ایک دوسرے کو سمجھتی ہیں، ہمارے کھانے، لباس، موسیقی، شاعری اور لوک روایات صدیوں سے ایک مشترکہ تہذیبی سفر کی گواہ ہیں۔افسوس یہ ہے کہ ہم نے اپنی مشترکہ تاریخ سے زیادہ اپنی مشترکہ تلخیوں کو یاد رکھا۔
آج دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ عالمی سیاست تبدیل ہو رہی ہے، معیشت نئے تقاضے پیش کر رہی ہے، اور ترقی یافتہ ممالک اپنی سرحدوں اور امیگریشن پالیسیوں کو پہلے سے زیادہ منظم اور سخت بنا رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں جنوبی ایشیا کے لاکھوں نوجوان اب بھی اپنی کامیابی کا خواب اپنے وطن سے ہزاروں میل دور تلاش کرتے ہیں۔ یہ ان کی خواہش نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی نظام کی ناکامی کا اظہار ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ہمارے نوجوان بیرونِ ملک کیوں جانا چاہتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم انہیں اپنے ممالک اور اپنے خطے میں وہ مواقع کیوں فراہم نہیں کر سکے جن کے وہ مستحق ہیں۔
جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی ضرورت اسلحے کی نئی دوڑ نہیں بلکہ علم، تحقیق، تجارت، ٹیکنالوجی، صحت، ماحولیات اور انسانی ترقی میں مشترکہ سرمایہ کاری ہے۔ یہ تعاون قومی خودمختاری کے خلاف نہیں، بلکہ اس کی مضبوطی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں۔ سرحدی تنازعات، سیاسی اختلافات اور سلامتی کے خدشات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ پائیدار امن ہمیشہ مذاکرات، اعتماد سازی اور مسلسل رابطوں سے پیدا ہوتا ہے، نہ کہ دائمی نفرت سے۔
اس خطے کے روحانی اور فکری رہنمائوں نے بھی یہی سبق دیا تھا۔ بابا بلھے شاہؒ نے محبت کو انسان کی اصل پہچان قرار دیا، گرو نانک نے انسانیت اور برابری کا پیغام دیا، شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ نے عشق، برداشت اور امن کی تعلیم دی۔ ان بزرگوں نے انسان کو انسان سے جوڑنے کی بات کی، جدا کرنے کی نہیں۔
جنوبی ایشیا کو آج ایک نئی سیاسی بصیرت کی ضرورت ہے۔ ایسی بصیرت جو اختلافات کو ختم کرنے کے بجائے انہیں پرامن طریقے سے سنبھالنے کا حوصلہ پیدا کرے؛ جو نوجوانوں کو نفرت کے بیانیے کے بجائے تحقیق، اختراع اور ترقی کا راستہ دکھائے، جو ثقافتی، تعلیمی اور معاشی روابط کو خطرہ نہیں بلکہ موقع سمجھے۔
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ خوشحال خطے وہی بنتے ہیں جہاں ممالک مقابلے کے ساتھ تعاون بھی کرتے ہیں۔ اقتصادی روابط، تعلیمی تبادلے، مشترکہ تحقیقی منصوبے، سیاحت، کھیل اور ثقافتی تعلقات نہ صرف معیشت کو مضبوط کرتے ہیں بلکہ عوام کے درمیان اعتماد بھی پیدا کرتے ہیں۔
ہمیں اپنی آنے والی نسلوں سے ایک سوال ضرور پوچھنا چاہیے: کیا ہم انہیں نفرت کی داستانیں دے کر رخصت ہوں گے، یا ایک ایسا جنوبی ایشیا جہاں اختلاف کے باوجود احترام، مقابلے کے ساتھ تعاون، اور سیاست کے ساتھ انسانیت بھی زندہ ہو؟شاید وقت آ گیا ہے کہ جنوبی ایشیا اپنی شناخت جنگوں سے نہیں بلکہ علم، معاشی ترقی، انسانی وقار اور باہمی احترام سے بنائے۔ کیونکہ قومیں صرف سرحدوں سے نہیں، بلکہ اپنے خوابوں سے بھی پہچانی جاتی ہیں۔ اور اب اس خطے کو نفرت نہیں، ایک نئے خواب کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

Back to top button