ColumnImtiaz Aasi

آنبائے ہرمز کے بعد باب المندب

آنبائے ہرمز کے بعد باب المندب

نقارہ خلق

امتیاز عاصی

امریکہ، ایران جنگ میں جہاں پاکستان ایک اہم ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے، وہاں سعودی عرب کو یمن کے حوثیوں کی طرف سے دھمکی اور باب المندب کو بند کرنے کی طرف اشارے نے ریاست پاکستان کو بھی فیصلہ کن موڑ پر کھڑا کر دیا ہے۔ بحراحمر کو بحرہند سے ملانے والی تنگ آبی گزرگاہ کو جہازوں کی آمدورفت کے لئے بند کرنے کے اعلان ایران امریکہ کے درمیان جنگ سے ایک خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ اس سے پہلے آبنائے ہرمز کو بند کرنے سے دنیا کی تیل اور گیس کی بیس فیصد ضروریات متاثر ہو رہی تھیں، لیکن باب المندب کو بند کرنے سے دنیا بھر کی بارہ فیصد تجارت جس میں تیل بھی شامل ہے متاثر ہو جائے گی۔ حوثیوں کے اس اقدام سے یورپ کا جنوبی مشرقی ایشیاء اور مشرق بعید کے ساتھ براہ راست اور کم فاصلے والا راستہ بند ہوجائے گا۔ چنانچہ یمن کے حوثیوں کی طرف سے اس اہم آبی راستے کو بند کرنے سے سب سے زیادہ سعودی عرب کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کے بند ہونے کے بعد سے سعودی عرب کے خام تیل کی بہت زیادہ مقدار کی برآمدات بحر احمر کے ساحل پر واقع اس کی بندرگاہوں سے آبنائے باب المندب کے راستے جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیاء کو بھیجی جاتی ہے۔ باب المندب کے بند ہونے سے پاکستان سیمت چین، جاپان، جنوبی کوریا اور بھارت بھی توانائی کے بحران کا شکار ہو جائیں گے۔ توجہ طلب پہلو یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے یہ ملک پہلے ہی تیل کے بحران کا شکار ہیں اور اب باب المندب کی بندش ہونے سے جو صورت حال پیدا ہو سکتی ہے اس سے ایران امریکہ جنگ کا ایک اور محاذ کھل جائے گا۔ ہمارا ملک جو پہلے ہی دہشت گردی کا شکار ہے بلوچستان آگ میں جل رہا ہے کے پی کے میں دہشت گردی ہے اور آزاد کشمیر کے حالات بھی تسلی بخش نہیں ہیں۔ چونکہ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کر رکھا ہے اور پاکستان نے حوثی ملیشیا کو خبر دار کر دیا ہے اگر باب المندب کی بندش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ دیکھا جائے تو باب المندب کی بندش دراصل سعودی عرب کی ناکہ بندی کے مترادف ہے۔ پاکستان نے حوثیوں پر واضح کر دیا ہے اگر پاکستان پرچم بردار جہازوں کو حوثیوں نے نشانہ بنایا گیا تو پاکستان اپنے دفاع میں طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کرے گا۔ حوثیوں کی طرف سے سعودی عرب کے تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے سے صورت حال کشیدہ ہو گئی ہے۔ چنانچہ موجودہ حالات میں ہمارے ملک کی تیل کی درآمدات زیادہ تر سعودی عرب کی بندرگاہ ینبع سے آرہی ہیں۔ چونکہ حوثیوں کا اعلان ہے سعودی عرب کا رخ کرنے والے تمام جہازوں کو نشانہ بنایا جائے گا چنانچہ اس صور ت حال میں پاکستان کا جوابی ردعمل ناگزیر ہو جائے گا ۔ اگر حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان معاملات میں کشیدگی بڑھتی ہے تو پاکستان کا الگ تھلگ رہنا ناممکن ہو جائے گا جس کے بعد ایران امریکہ جنگ کا دائرہ مزید وسیع شکل اختیار کر سکتا ہے۔ امریکہ نے رواں ماہ کے دوران ایران کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے بلکہ شہری آبادی کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ امریکہ نے نئے حملے ایران کے ساحلی علاقوں پر کئے ہیں جس کے بعد امریکہ نے دھمکی دی ہے اگر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تو امریکہ اس کے بدلے میں ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنائے گا۔ اگرچہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کا موازنہ تو نہیں کیا جا سکتا کیونکہ خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ سے دنیا کی ضروریات کا زیادہ سے زیادہ 25 فیصد تیل گذرتا ہے لیکن جن ملکوں کے تیل کا دارومدار آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل پر ہے وہ اس وقت توانائی کے بحران کا شکار ہو چکے ہیں۔ آبنائے ہرمز کے مقابلے میں باب المندب سے ہر روز کم سے کم ساٹھ لاکھ بیرل تیل دوسرے ملکوں کو جاتا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب سے گزرنے والے تیل کو روکا گیا تو عالمی دنیا کے وہ ملک جن کی معیشت کو دارومدار تیل کی درآمد پر ہے سخت بحران کا شکار ہو جائیں گے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے آبنائے ہرمز کے متبادل کے طور پر جو پائپ لائنیز تعمیر کر رکھی ہیں عملی طور پر بیکار ہو جائیں گی کیونکہ بحر احمر سے تیل باب المندب کے راستے تیل کی برآمد میں بند ش ہو گی۔ تازہ ترین صورت حال کے پیش نظر یورپی ملکوں میں بھی تشویش پائی جا رہی ہے کیونکہ وہ ملک اپنا زیادہ تر تیل باب المندب کے راستے منگواتے ہیں۔ یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ معاملہ کئی عشروں سے چل رہا ہے۔ حوثیوں نے یہ دھمکی بھی دی ہے سعودی عرب نے ان پر حملہ کیا تو وہ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے تباہ کر دیں گے۔ اللہ نہ کرے اگر ایسی صورت حال پیدا ہوئی تو ہمارا ملک اس جنگ میں براہ راست شامل ہوسکتا ہے جس کے بعد یہ جنگ خلیج فار س سے مشرق وسطیٰ سے باہر کے خطوں پر پھیل جائے گی لہذا بات المندب کی بندش ایک بڑی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ان حالات میں ایران اور امریکہ پر یہ بات منحصر ہے وہ اس جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں یا اس جنگ کا دائرہ مزید وسیع کرنے کی طرف راغب ہوتے ہیں، جس کا فیصلہ آنے والے وقت میں ہو جائے گا۔ امریکہ ایران جنگ میں خاص طور پر پاکستان اور دیگر مسلم ملکوں کی کاوشوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اس کے ساتھ اس جنگ کے دائرہ کار کے پھیلنے کے امکانات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آئیے! ہم سب مل کر اللہ کے حضور دعا کریں وہ مسلم امہ میں اتحاد اور اتفاق پیدا کرے تاکہ سب ملک کر اسلام دشمن قوتوں کا مقابلہ کرکے اسلام کی سر بلندی کا فریضہ ادا کر سکیں تاکہ ہمیں روز قیامت اللہ کے حضور شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

جواب دیں

Back to top button