ColumnRoshan Lal

پنجاب کی زیبائشی ترقی اور بارش

پنجاب کی زیبائشی ترقی اور بارش
تحریر : روشن لعل
ہمارے بڑے بڑے میڈیا ہائوسز اور ان میڈیا ہائوسز پر عرصہ دراز سے لگی بندھی باتیں کرنے کے باوجود نامور بنا دیئے گئے میڈیا پرسنز، ان دنوں شاید اپنی صحافتی ناموری کے قریباً آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں ۔اس قسم کے میڈیا پرسن، پنجاب کے معاملات پر اپنی چپ کا روزہ وقت پر کھولنے کی بجائے ، چاہے جتنا بھی مزید مکروہ کیوں نہ کر لیں ، اب ان کے لیے پنجاب کی زیبائشی ترقی اور حسن کو اپنے بے اثر ہو چکے بیانیے کے نیچے چھپا نا ممکن نہیں رہا۔ ہمارے مین سٹریم میڈیا اور اس کے بڑے بڑے اینکر پرسنز کے جس بت نے سچ کے خزانے کو ایک عرصہ تک اپنے اندر چھپائے رکھا ، اس بت کو کسی تجربہ کار میڈیا پرسن نے نہیں بلکہ کچھ سچی اور تھوڑی جھوٹی باتوں کو مصالحہ دار بنا کر سوشل میڈیا پر پیش کرنے والے ،جنریشن زی کے نوجوانوں نے توڑا ہے۔ ان میڈیا ہائوسز اور میڈیا پرسنز کا جو بت خاص طور پر پنجاب کی زیبائشی ترقی کے حوالے سے اپنے اندر سچ کا خزانہ چھپا کر رکھتا ہے ، جنریشن زی کو اسے توڑنے کا موقع حالیہ بارشوں نے فراہم کیا ۔ حالیہ بارشوںنے صرف ، لاہور ، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور راولپنڈی جیسے پنجاب کے اہم ترین اضلاع میں ارب ہا روپے کے تصرف سے کی گئی زیبائشی ترقی کا پول نہیں کھولابلکہ ایسے حقائق کو بھی اجاگر کیا جو انکشافات نہیں بلکہ ایسے تاریخی حقائق ہیں جنہیںحقیت ہونے کے باوجود عرصہ دراز تک من پسند میڈیا کو الاٹ کیے جانے والے تشہیری مواد کے نیچے دبا کر رکھا گیا۔ مین سٹریم میڈیا کے نامور ، بنائے گئے چہروں نے نہ پہلے کبھی ان حقائق کو اپنے تبصروں کا موضوع بنایا اور نہ ہی اب ان سے ایسا کچھ کرنے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ ایسی کوئی توقع سوشل میڈیا پر سرگرم، جنریشن زی کے ساتھ بھی وابستہ نہیں کی جاسکتی کیونکہ ابھی ان کا علم اور مشاہدہ اتنا وسیع نہیں ہوسکا کہ وہ ان حقائق تک پہنچ سکیں جنہیں جان بوجھ کر تشہیری مواد کے نیچے چھپایا جاتا رہا۔
گو کہ پنجاب میں حقیقی ترقی کی نسبت زیبائش اور نمائش پر سب سے زیادہ توجہ دی جاتی ہے لیکن صرف یہ صوبہ نہیں بلکہ پورے پاکستان میں ملک کے سب سے بڑے مسئلے ، نکاسی آب کو حل کرنے کے نام پر جو ترقیاتی منصوبے تیار کیے جاتے ہیں، قریباً ان سب کے ساتھ یہ تلخ حقیقت جڑی ہوئی ہے کہ ان منصوبوں کے سنگ بنیاد یا افتتاح پر لگنے والی نمائشی تختیاں، منصوبے کے اصل ڈھانچے سے زیادہ پختہ ثابت ہوتی ہیں۔ لاہور اور پنجاب کے دیگر اضلاع میں ہونے والی حالیہ بارشوں کے دوران بھی نکاسی آب کے لیے کیے گئے زیبائشی ترقیاتی کام تو ابلتے ہوئے گٹروں کے پانی کے نیچے دفن تھے لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب کی تصویروں سے مزین فلیکس ہر جگہ نمایاں نظر آرہے تھے۔ اس طرح کی زیبائشی ترقی قریباً ہر مون سون کے دوران اپنا جلوہ دکھاتی ہے۔
یہ باتیں کچھ سابقہ تحریوں میں بھی بیان کی جاچکی ہیں کہ جس طرح پورے پاکستان میں مون سون ہوائوں کے ساتھ بارشوں کی آمد کوئی نئی بات نہیں اسی طرح ان بارشوں کے دوران نکاسی آب کا نظام درہم برہم ہونا بھی انوکھا واقعہ نہیں ہے۔ ہر سال موسم برسات سے قبل واسا جیسے اداروں کے توسط سے یہ پروپیگنڈہ سامنے آتا ہے کہ انہوں نے فراہمی و نکاسی آب کا ایسا مون سون ایکشن پلان تیار کر لیا ہے جس سے نہ صرف بروقت بارش کے پانی کا نکاس ممکن ہو گا بلکہ شہریوں کو گزشتہ برسوںکے دوران پیش آنیوالی مشکلات کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑے گا۔اس کے بعد ہوتا وہی کچھ ہے جو رواں مون سون کے دوران لاہور میں دیکھا گیا ۔ مختصر الفاظ میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ ہر سال کی طرح اس برس بھی واسا جیسے اداروں کا مون سون ایکشن پلان بری طرح ناکام رہا۔یہاں یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ ،مون سون ایکشن پلان تیار کس طرح تیار ہوتا ہے۔ واسا جیسے متعلقہ اداروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہر نئے برس کے آغاز پر گزشتہ برس کے مون سون ایکشن پلان کی ناکامیوں، کوتاہیوں اور خامیوں کا اقرارکرتے ہوئے،بہتری کے دعوئوں کے ساتھ فراہمی و نکاسی آب کا ایک نیا منصوبہ تشکیل دیں۔ تقریباً ہر برس مون سون ایکشن پلان کی ناکامی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نیا ایکشن پلان بناتے وقت سابقہ برس کی ناکامی کی وجوہات پر غور کرنے کی بجائے کئی دہائیوں سے چلے آرہے فارمولوں پر عمل کیا گیاہے۔
واضح رہے کہ کوئی عام سیاستدان ، اپنی نمائش کا شوقین ہونے کے ساتھ ، چاہے جس قدر بھی زمانہ شناس ہو ، وہ فراہمی و نکاسی آب جیسے کاموں کے تکنیکی امور کا ماہر نہیں ہو سکتا۔ اصل میں سیاستدانوں کا کام فراہمی و نکاسی آب کے ضمن میں پیدا ہونے والے مسائل کا حل پیش کرنا نہیں بلکہ ان کی نشاندہی کرنا ہے۔ ان مسائل کے حل کے لیے منصوبہ سازی خالصتا ًسول انجینئرنگ سے متعلق کام ہے اور کوئی کوالیفائیڈ سول انجینئر ہی یہ کام کر سکتا ہے۔ اس سلسلے میں حکمران سیاستدانوں کا زیادہ سے زیادہ کردار یہ ہے کہ وہ سول انجینئروں کی بالا دستی میں کام کرنے والے واسا جیسے اداروں کے تیار کردہ مون سون ایکشن منصوبوں کے لیے مناسب اور بروقت فنڈز فراہم کریں۔اس طرح کے فنڈز کی فراہمی اور کام کے معیار کی نگرانی صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ کسی صوبے میں چاہے جس بھی پارٹی یا سیاستدان کی حکومت ہو اس نے ، مون سون کے دوران نکاسی آب کے منصوبوں کے لیے طلب کردہ فنڈز ہمیشہ کسی حیل وحجت کے بغیر فراہم کیے۔ حکومتوں کی طرف سے محکموں کو فنڈز کی کما حقہ فراہمی کے باوجود اگر یہاں تجربہ کاری کے دعویدار سول انجینئروں کے تیار کردہ مون سون ایکشن پلان مسلسل ناکام ہو رہے ہیں تو کیا یہ رویہ درست ہے کہ نمائش کا شوقین ہونے کے باوجود تنقید کا نشانہ صرف حکمران سیاستدانوں کو ہی بنایا جائے اور گہرائی میں جا کر یہ نہ دیکھا جائے کہ اصل غلطی کہاں موجود ہے؟
ہمارے خطے میں ،فراہمی و نکاسی آب کے موجودہ نظام کی بنیاد انگریزدور میں رکھی گئی تھی۔ انگریز دور سے ہی یہاں تعمیراتی کاموں کے فنڈزسے کمیشن کی وصولی کا نظام رائج ہے ۔ انگریز دور میں کمیشن کو اپنا حق نہیں بلکہ رعایت سمجھ کر وصول کیاجاتا تھا اس لیے اس دور کے ا نجینئر، کام کے معیار پر سمجھوتہ نہیںکرتے تھے، جبکہ موجودہ دور کے اکثر انجینئر کمیشن کو اپنا حق سمجھ کر وصول کرتے ہوئے کام کے معیار کو ہرگز ترجیح نہیں دیتے ۔اسی وجہ سے یہاں مون سون ایکشن پلان جیسے منصوبوں پر عملدرآمد کے دوران مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو پاتے۔کمیشن مافیا کی وجہ سے نہ تویہاںفراہمی و نکاسی آب کے نظام کی تعمیربین الاقوامی معیار کے مطابق ہوتی ہے اور نہ ہی اس کی مرمت اور دیکھ بھال مناسب طریقے سے کی جاتی ہے۔اگر ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے کمیشن مافیا کو ایسے حکمران میسر آجائیں جن کی سب سے پہلی ترجیح اپنی حد درجہ نمائش ہو تو پھر کمیشن مافیا ،نمائش کے شوقین حکمرانوں کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسی قسم کی زیبائشی ترقی کے کام کرتا ہے جس قسم کی ترقی کا پول جنریشن زی کے نوجوانوں نے حالیہ بارشوں کے دوران سوشل میڈیا پر کھولا۔

جواب دیں

Back to top button