Column

دہشتگردی ناسور، خاتمہ جلد ہوگا

دہشتگردی ناسور، خاتمہ جلد ہوگا
پاکستان ایک بار پھر اس حقیقت کا سامنا کر رہا ہے کہ دہشت گردی صرف امن و امان کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، معاشی استحکام، سماجی ہم آہنگی اور ریاستی خودمختاری کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کی بے مثال قربانیوں کے نتیجے میں دہشت گردی کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں، تاہم دشمن عناصر مختلف طریقوں سے دوبارہ بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ریاستی اداروں کی جانب سے بروقت، مربوط اور موثر کارروائیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پاکستان دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔ بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں سیکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی اور جنوبی وزیرستان میں دہشت گرد حملے کو ناکام بنانے کا واقعہ اس عزم کی عملی مثال ہے۔ ان کارروائیوں میں متعدد دہشت گردوں کا ہلاک ہونا، ان کے ٹھکانے تباہ ہونا، اسلحہ، بارودی مواد اور دھماکا خیز آلات بنانے کا سامان برآمد ہونا اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ سیکیورٹی ادارے صرف ردعمل تک محدود نہیں، بلکہ پیشگی معلومات کی بنیاد پر دہشت گرد نیٹ ورکس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس حکمت عملی نے دہشت گرد تنظیموں کی نقل و حرکت، منصوبہ بندی اور کارروائیوں کی صلاحیت کو نمایاں طور پر محدود کیا ہے۔ جنوبی وزیرستان میں چیک پوسٹ پر خودکُش حملے کی کوشش کو ناکام بنانا بھی سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت، بروقت فیصلہ سازی اور جرأت مندانہ کردار کا مظہر ہے۔ اگر حملہ آور اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہوجاتے تو قیمتی جانوں کا نقصان اور بڑے پیمانے پر تباہی کا خدشہ تھا، لیکن جوانوں نے اپنی ذمے داری احسن انداز میں ادا کرتے ہوئے حملے کو ناکام بنایا اور دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا۔ ایسے واقعات اس حقیقت کو مزید مضبوط کرتے ہیں کہ پاکستان کے محافظ ہر لمحہ قومی سلامتی کے لیے مستعد اور قربانی کے جذبے سے سرشار ہیں۔دہشت گردی کے خلاف کامیابی صرف عسکری قوت سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے مربوط قومی حکمت عملی بھی ناگزیر ہے۔ اسی تناظر میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کوئٹہ کا دورہ، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ساتھ اعلیٰ سطح کا اجلاس اور انسداد دہشت گردی کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے فیصلے اہم پیش رفت ہیں۔ وفاق اور صوبے کے درمیان ہم آہنگی، وسائل کی فراہمی، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، انٹیلی جنس نظام کی مضبوطی اور پولیس کی پیشہ ورانہ استعداد میں اضافہ ایسے عوامل ہیں جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مزید موثر بنا سکتے ہیں۔ بلوچستان ایک ایسا صوبہ ہے جہاں امن کا قیام نہ صرف مقامی آبادی بلکہ پورے پاکستان کی ترقی سے جڑا ہوا ہے۔ قدرتی وسائل، جغرافیائی اہمیت، گوادر بندرگاہ اور علاقائی رابطوں کے منصوبے بلوچستان کو قومی معیشت کا اہم ستون بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان دشمن عناصر اور دہشت گرد گروہ اس خطے میں بدامنی پیدا کرکے ترقی کے سفر کو متاثر کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم ریاستی اداروں کی مسلسل کارروائیاں اور حکومت کی مربوط حکمت عملی اس امر کی عکاس ہیں کہ پاکستان اپنی ترقی اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، روزگار اور مثبت سرگرمیوں کی طرف لانے پر دیا جانے والا زور بھی نہایت اہم ہے۔ دہشت گرد تنظیمیں اکثر بے روزگاری، محرومی اور جہالت کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہیں۔ اگر نوجوانوں کو معیاری تعلیم، روزگار کے مساوی مواقع، فنی تربیت اور ترقی کا راستہ فراہم کیا جائے تو شدت پسند عناصر کے لیے انہیں گمراہ کرنا انتہائی مشکل ہوجائے گا۔ اس لیے سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ سماجی اور معاشی ترقی بھی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کا لازمی حصہ ہونی چاہیے۔ پاکستان کی مسلح افواج، پولیس، فرنٹیئر کور، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں اہلکاروں اور شہریوں نے وطن کے امن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان قربانیوں کی بدولت آج ملک کے بیشتر علاقوں میں امن کی فضا بحال ہوئی ہے۔ قوم پر یہ ذمے داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ سیکیورٹی اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کرے، مشتبہ سرگرمیوں کی بروقت اطلاع دے، افواہوں سے اجتناب کرے اور قومی یکجہتی کو ہر حال میں مقدم رکھے۔میڈیا کا کردار بھی اس جنگ میں انتہائی اہم ہے۔ ذمے دار صحافت قومی یکجہتی، عوامی شعور اور ریاستی بیانیے کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں، گمراہ کن پروپیگنڈے اور نفرت انگیز مواد کے خلاف موثر اقدامات بھی وقت کی اہم ضرورت ہیں، کیونکہ جدید دور میں معلومات کی جنگ بھی روایتی جنگ جتنی اہم ہوچکی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک طویل اور صبر آزما مرحلہ ہے، لیکن پاکستان نے ماضی میں ثابت کیا ہے کہ جب ریاست، سیکیورٹی ادارے اور عوام ایک صفحے پر ہوں تو بڑے سے بڑا چیلنج بھی شکست کھا جاتا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی اتحاد، مضبوط اداروں، جدید حکمت عملی اور عوامی تعاون کے ذریعے اس جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ امن ہی ترقی کی بنیاد ہے۔ جب امن قائم ہوگا تو سرمایہ کاری بڑھے گی، صنعتیں ترقی کریں گی، تعلیمی ادارے مضبوط ہوں گے، نوجوانوں کو روزگار ملے گا اور پاکستان معاشی و سماجی استحکام کی نئی منزلیں طے کرے گا۔ ریاست کی ذمے داری ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے جب کہ قوم کا فرض ہے کہ وہ اتحاد، یکجہتی اور حب الوطنی کے جذبے کے ساتھ اپنے اداروں کا ساتھ دے۔ اسی قومی عزم، مسلسل جدوجہد اور اجتماعی ذمے داری کے ذریعے پاکستان ایک پُرامن، مستحکم اور خوش حال مستقبل کی جانب مزید مضبوطی سے آگے بڑھ سکتا ہے۔
ادویہ کی بروقت دستیابی، قومی ضرورت
وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی جانب سے جان بچانے والی 52نئی رجسٹرڈ ادویہ کی قیمتوں کی منظوری ایک اہم اور بروقت پیش رفت ہے، جس کے مثبت اثرات ہزاروں ایسے مریضوں تک پہنچ سکتے ہیں جو عرصہ دراز سے جدید علاج کی سہولتوں کے منتظر تھے۔ کینسر، ذیابیطس، ہیموفیلیا اور پارکنسن جیسے پیچیدہ امراض میں استعمال ہونے والی دوائوں کی دستیابی کسی بھی ملک کے صحت کے نظام کی سنجیدگی کا معیار سمجھی جاتی ہے۔ اگر وفاقی کابینہ بھی اس فیصلے کی توثیق کر دیتی ہے تو پاکستان میں معیاری اور رجسٹرڈ ادویہ کی فراہمی مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔ صحت کا شعبہ صرف علاج تک محدود نہیں بلکہ عوام کے اعتماد، ریاستی ذمے داری اور موثر نگرانی سے بھی وابستہ ہے۔ ماضی میں کئی ایسی ادویہ قیمتوں کے تعین میں تاخیر کے باعث مارکیٹ میں دستیاب نہ ہوسکیں، جس کے نتیجے میں مریضوں کو غیر رجسٹرڈ، اسمگل شدہ یا انتہائی مہنگی درآمدی ادویہ خریدنا پڑیں۔ اس صورت حال نے نہ صرف مالی بوجھ بڑھایا بلکہ مریضوں کی صحت کو بھی خطرات سے دوچار کیا۔ بروقت منظوری کا عمل ان مسائل میں نمایاں کمی لاسکتا ہے۔ خصوصی طور پر جدید امیونو تھراپی دوا کی ٹروڈا سمیت دیگر اہم ادویہ کی منظوری اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ صحت کے شعبے میں جدید علاج کی اہمیت کو تسلیم کیا جارہا ہے۔ تاہم صرف قیمتوں کی منظوری کافی نہیں ہوگی، بلکہ ضروری ہے کہ یہ ادویہ ملک بھر کے سرکاری اور نجی طبی مراکز تک مناسب وقت میں پہنچیں، تاکہ ہر مریض بلاامتیاز ان سے استفادہ کر سکے۔ دیہی اور دوردراز علاقوں میں بھی ان ادویہ کی رسائی یقینی بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ ڈریپ اور متعلقہ اداروں پر یہ ذمے داری بھی عائد ہوتی ہے کہ قیمتوں کے تعین، رجسٹریشن اور مارکیٹ نگرانی کے نظام کو مزید شفاف، تیز رفتار اور مثر بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ جعلی ادویہ، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہے تاکہ عوام کو محفوظ، معیاری اور مناسب قیمت پر ادویات میسر آسکیں۔ صحت کے شعبے میں ہر مثبت قدم دراصل انسانی جانوں کے تحفظ سے جڑا ہوتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ حالیہ فیصلے پر فوری عملدرآمد، موثر نگرانی اور عوامی مفاد کو ہر مرحلے پر مقدم رکھا جائے، تاکہ علاج ہر مریض کا قابلِ حصول حق بن سکے

جواب دیں

Back to top button