Column

عوام پر ہی بوجھ کیوں !

عوام پر ہی بوجھ کیوں !
تحریر : شاہد ندیم احمد
پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر پٹرولم مصنوعات کی قیمتیں نہ صرف مقرر ہو نے جارہی ہیں، بلکہ پٹرولیم مصنوعات میں بتدریج اضافہ بھی ہو نے جارہا ہے، یہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار اضافہ، محض ایک معاشی فیصلہ نہیں رہا ہے ، بلکہ عوامی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے، ہر چند روز بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی خبر نہ صرف عوام کی قوتِ خرید کو متاثر کرتی ہے، بلکہ مہنگائی کی ایک نئی لہر کو بھی جنم دیتی ہے، پیٹرول صرف گاڑی چلانے کا ایندھن نہیں، بلکہ معیشت کی شہ رگ ہے، اس کی قیمت بڑھنے سے ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش، ادویات، بجلی کی پیداوار، زرعی لاگت اور صنعتی سرگرمیوں سمیت ہر شعبہ متاثر ہوتا ہے، اس کا براہِ راست بوجھ عام شہری کو ہی برداشت کرنا پڑتا ہے، آخر ہر بار عوام پر ہی سار بوجھ کیوں ؟۔
اس پر حکومت کا موقف عموماً ہوتا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت، شرحِ مبادلہ اور مالی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ریاست کو ترقیاتی منصوبوں، دفاع، قرضوں کی ادائیگی اور دیگر اخراجات پورے کرنے کے لیے محصولات درکار ہوتے ہیں، اس لیے پٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسز اہم ذریعہ آمدن ہیں، لیکن دوسری جانب عوام اور اپوزیشن جماعتیں سوال اٹھاتی ہیں کہ جب پیٹرول کی قیمت میں ایک بڑا حصہ مختلف ٹیکسز اور لیوی کی صورت میں وصول کیا جاتا ہے تو حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے ان محصولات میں کمی کیوں نہیں کرتی ہے؟
اس پر ناقدین کا کہنا ہے کہ پٹرول کی اصل قیمت سے کہیں زیادہ بوجھ مختلف حکومتی محصولات کی وجہ سے صارف پر منتقل ہوتا ہے، اگر حکومت واقعی مہنگائی پر قابو پانا چاہتی ہے تو اسے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسز اور لیوی کا ازسرِ نو جائزہ لینا چاہیے۔ اس پر ان کا استدلال ہے کہ ٹیکسوں میں کمی سے نہ صرف پٹرول سستا ہوگا، بلکہ اس کے اثرات اشیائے ضروریہ، ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور کاروباری لاگت میں بھی نمایاں کمی کی صورت میں سامنے آئیں گے، جبکہ حکومت کا نقط نظر مختلف ہے، اس کے مطابق پاکستان مالی دبائو، بجٹ خسارے اور بیرونی قرضوں کے بوجھ کا سامنا کر رہا ہے، اگر ایسے حالات میں حکومت اچانک پٹرولیم لیوی یا دیگر ٹیکسز ختم کر دے تو قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہو سکتا ہے، اس کے نتیجے میں ترقیاتی منصوبے، سماجی بہبود کے پروگرام اور دیگر سرکاری اخراجات متاثر ہو سکتے ہیں۔
اگر ایسا ہی سب کچھ ہے تو کیا قومی مالی مشکلات کا تمام تر بوجھ صرف عوام ہی برداشت کریں؟ جبکہ تنخواہ دار طبقہ پہلے ہی بڑھتے ہوئے ٹیکسوں، مہنگی بجلی، گیس کے نرخوں اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے سے پریشان ہے تو پیٹرول مزید مہنگا ہونے سے مشکلات کئی گنا بڑھ جاتی ہیں، ایک رکشہ ڈرائیور، ٹیکسی چلانے والا، کسان، مزدور، چھوٹا دکاندار اور متوسط طبقے کا ملازم سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، کیونکہ ان کی آمدنی کی رفتار سے نہیں بڑھتی کہ جس رفتار سے اخراجات بڑھ رہے ہیں، اس کیلئے ٹیکس پالیسی میں وسیع اصلاحات کی ضرورت ہے، اگر ٹیکس نیٹ کو موثر انداز میں وسعت دی جائے، ٹیکس چوری کی روک تھام کی جائے، سرکاری اخراجات میں کفایت شعاری اختیار کی جائے اور خسارے میں چلنے والے اداروں کی اصلاح کی جائے تو عوام کو بھی کچھ ریلیف دیا جا سکتا ہے۔
حکومت کے مالی تقاضے اپنی جگہ اہم ہیں اور عوامی مشکلات اپنی جگہ ایک تلخ حقیقت ہیں، لیکن پائیدار معاشی استحکام اسی وقت ممکن ہے کہ جب مالیاتی نظم و ضبط اور عوامی ریلیف کے درمیان متوازن حکمتِ عملی اختیار کی جائے، اگر حکومت کبھی جنگ کا سہارا لے کر اور کبھی معاشی بحران کا واویلا کر کے صرف محصولات بڑھانے پر انحصار کرے گی تو مہنگائی، بے چینی اور معاشی دبائو میں اضافہ ہوگا، جبکہ اگر مالی ضروریات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جائے تو ریاستی معاملات چلانا بھی مشکل ہو سکتا ہے، اس کیلئے حکومت، پارلیمنٹ، معاشی ماہرین، کاروباری طبقی اور عوامی نمائندے مل بیٹھ کر ایک ایسی پالیسی مرتب کریں کہ جس میں قومی خزانے کی ضروریات بھی پوری ہوں اور عام شہری کو ہی زندہ رہنے کے لیے مسلسل قربانیاں نہ دینی پڑیں، کیو نکہ عوام اب قربانیاں دے کر تنگ آچکے ہیں اور اس قابل بھی نہیں رہے ہیں کہ مزید کوئی قر بانی دے سکیں ، جبکہ عوام اور حکومت کے درمیان بے اعتمادی کا فقدان بڑھتا جارہا ہے، عوام کو یقین ہی نہیں ہے کہ ان سے ہر چیز پر لیا جانے والا ٹیکس شفاف انداز میں استعمال ہورہا ہے اور حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ مہنگائی کے بوجھ میں کمی لائی جاسکے، ایک طرف عوام کی بے اعتمادی کو دور کرنا ہو گا تو دوسری طرف یقین دلا ہو گا کہ اس بار اُن کے ساتھ اشرافیہ بھی قر بانی دے رہی ہے، یہ ہی ایک ایسا راستہ ہے، جو کہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کو مضبوط کر سکتا ہے اور معیشت کو زیادہ پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button