Column

صفائی کے محافظوں کو تنخواہوں سے محروم کیوں؟

صفائی کے محافظوں کو تنخواہوں سے محروم کیوں؟
تحریر : رفیع صحرائی
پنجاب حکومت کی جانب سے ستھرا پنجاب کے نام سے صفائی کا مربوط نظام قائم کرنا بلاشبہ ایک قابلِ تحسین اقدام ہے۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اس منصوبے کے ذریعے صوبے میں صفائی کے نظام کو ایک نئے انداز سے منظم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس منصوبے کے مثبت اثرات پنجاب کے مختلف شہروں، قصبوں اور دیہی علاقوں میں بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ حقیقت میں ہمیں اب پنجاب چمکتا دمکتا نظر آ رہا ہے۔ سڑکوں، گلیوں اور بازاروں کی صفائی بہتر ہوئی ہے جس سے سب کو خوشگواریت کا احساس ہوتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ستھرا پنجاب کے کارکن اس پورے نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ صبح سویرے جب اکثر لوگ اپنے گھروں میں آرام کر رہے ہوتے ہیں، یہ محنت کش اپنے کام پر پہنچ چکے ہوتے ہیں اور ہمیں صفائی میں مصروف نظر آتے ہیں۔ شدید گرمی ہو یا سردی، بارش ہو یا آندھی، یہ اپنے فرائض کی بجا آوری پوری تندہی سے انجام دیتے ہمیں دکھائی دیتے ہیں۔ گزشتہ موسمِ سرما کے دوران رات کے وقت شدید دھند اور سردی میں کام کرتے میں نے خود انہیں دیکھا ہے۔ یہ گلیوں، سڑکوں اور بازاروں سے کوڑا اٹھاتے ہیں، تعفن اور گندگی کا سامنا کرتے ہیں اور شہریوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے کے لیے اپنی صحت اور آرام کی قربانی دیتے ہیں۔
یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ ستھرا پنجاب منصوبے کے ذریعے ہزاروں افراد کو روزگار کے مواقع میسر آئے۔ ایسے وقت میں جب ملک میں بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ ہے اور نوجوان سرکاری و نجی شعبے میں ملازمتوں کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں، اگر کسی منصوبے کے ذریعے لوگوں کو باعزت روزگار ملتا ہے تو یہ یقیناً ایک مثبت پیش رفت ہے۔ حیرت انگیز طور پر بہت سے پڑھے لکھے نوجوان بھی روزگار کی تلاش میں ستھرا پنجاب کا حصہ بنے ہیں اور اپنے ہاتھوں میں جھاڑو اٹھا کر صفائی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس منظر کو ہمیں محنت کی توہین نہیں بلکہ محنت کی عظمت کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ کوئی کام چھوٹا نہیں ہوتا، چھوٹا وہ رویہ ہے جو محنت کرنے والے انسان کو حقیر سمجھتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ پنجاب میں صفائی کے نظام میں بہتری نظر آ رہی ہے۔ کئی مقامات پر پہلے کے مقابلے میں سڑکیں اور بازار زیادہ صاف دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم کسی بھی منصوبے کی کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپی جا سکتی کہ صفائی کا عملہ سڑکوں پر موجود ہے یا نہیں۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب یہ نظام مستقل بنیادوں پر مضبوط ہو، اس کے کارکنوں کو بروقت تنخواہیں ملیں، انہیں حفاظتی سامان فراہم کیا جائے، ان کی صحت اور جان کی حفاظت کا خیال رکھا جائے اور صفائی کے نظام کو سیاسی تبدیلیوں سے بالاتر ہو کر ایک مستقل ادارہ بنا دیا جائے۔
یہاں ایک انتہائی اہم اور افسوس ناک پہلو ہماری توجہ کا مستحق ہے۔ اطلاعات کے مطابق ستھرا پنجاب کے بعض کارکنوں کو دو، دو اور کہیں تین، تین ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں۔ کہیں پر یہ شکایت سامنے آئی ہے کہ دو ماہ بعد انہیں آدھی تنخواہ ملی ہے۔ اگر یہ شکایات درست ہیں تو یہ ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ ایک طرف ہم ان کارکنوں سے توقع کرتے ہیں کہ وہ صبح سے شام تک شہر کو صاف رکھیں، بارش اور آندھی میں بھی اپنی ڈیوٹی انجام دیں، عید اور تہواروں کے موقع پر اضافی کام کریں اور شہریوں کو صاف ماحول فراہم کریں، دوسری طرف اگر انہیں مہینوں تک ان کی محنت کی اجرت نہ دی جائے تو یہ انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
یہ کارکن دراصل وہ لوگ ہیں جن کی ماہانہ آمدن پہلے ہی محدود ہے۔ مہنگائی نے مڈل کلاس کو پیس کر رکھ دیا ہے، یہ بیچارے تو پھر بھی بہت کم آمدن والے ہیں۔ آٹا، گھی، دالیں، سبزیاں، بجلی، گیس، بچوں کی تعلیم اور مکان کا کرایہ، ہر چیز ان کی دسترس سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے میں دو یا تین ماہ کی تنخواہ رک جانا یا قسطوں میں ادا کرنا غریب محنت کش کے لیے پورے خاندان کے چولہے کے بجھ جانے کے مترادف ہے۔
اگر بدقسمتی سے بیمار پڑ جائیں تو دوا خریدنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بچوں کی فیس ادا نہیں ہو پاتی۔ گھر کا راشن ادھار لینا پڑتا ہے اور اب تو دکاندار بھی طویل ادھار دینے سے گھبراتے ہیں کہ ہر روز بڑھتی مہنگائی میں ادھار سراسر گھاٹے کا سودا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک طرف یہ محنت کش اپنے فرائض پوری ذمہ داری سے ادا کر رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف ان کی اپنے گھر معاشی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔
عیدالاضحیٰ کے موقع پر ستھرا پنجاب کے کارکنوں نے صفائی کے حوالے سے غیر معمولی خدمات انجام دیں۔ عید کے دنوں میں جانوروں کی قربانی کے باعث پیدا ہونے والے اضافی فضلے اور آلائشوں کو بروقت اٹھانا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر ان کارکنوں نے اپنی معمول کی ذمہ داری سے کہیں بڑھ کر کام کیا۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی جانب سے ان کی خدمات کے اعتراف میں بونس کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔ اگر اعلان کردہ بونس بھی ابھی تک کارکنوں کو نہیں ملا تو اس معاملے پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: جو لوگ پورے پنجاب کو صاف رکھنے کے ذمہ دار ہیں، کیا ان کے گھروں کا چولہا بھی صاف اور روشن رہنا حکومت کی ذمہ داری نہیں؟
یقیناً ہے! حکومت کا کوئی بھی فلاحی منصوبہ اس وقت تک مکمل کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک اس کے آخری درجے پر کام کرنے والے کارکن مطمئن نہ ہوں۔ اگر صفائی کے کارکن ذہنی دبا کا شکار ہوں، ان کے گھروں میں فاقے ہوں اور انہیں اپنی تنخواہ کے لیے دفتروں کے چکر لگانے پڑیں تو اس کا اثر بالآخر پورے نظام پر پڑتا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے گزارش ہے کہ وہ اس معاملے کا ذاتی طور پر نوٹس لیں۔ اگر ستھرا پنجاب کے کارکنوں کی تنخواہیں واقعی چند ماہ سے واجب الادا ہیں یا قسطوں میں دی جا رہی ہیں تو انہیں فوری طور پر ادا کیا جائے۔ عیدالاضحیٰ کے موقع پر اعلان کیا گیا بونس بھی اگر کہیں نہیں ملا تو بلا تاخیر دیا جائے۔ ساتھ ہی ایک ایسا شفاف اور خودکار نظام وضع کیا جائے جس کے تحت مستقبل میں کسی بھی صفائی کارکن کی تنخواہ ایک دن کے لیے بھی تاخیر کا شکار نہ ہو۔
یہ بھی ضروری ہے کہ صفائی کے کارکنوں کو محض مزدور سمجھنے کے بجائے شہری صحت کے محافظ کا درجہ دیا جائے۔ انہیں دستانے، ماسک، حفاظتی جوتے، یونیفارم اور دیگر ضروری حفاظتی سامان فراہم کیا جائے۔ ان کے لیے صحت کا باقاعدہ نظام، حادثات کی صورت میں مالی معاونت اور انشورنس کی سہولت بھی ہونی چاہیے۔ جو لوگ دوسروں کو بیماریوں سے بچانے کے لیے گندگی میں اترتے ہیں، ان کی صحت کی حفاظت بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔
ستھرا پنجاب کی کامیابی دراصل انہی محنت کش ہاتھوں کی مرہونِ منت ہے۔ ان ہاتھوں کو تنخواہ کے لیے ترسانا، ان کی محنت کی قدر کم کرنا اور ان کے مسائل سے آنکھیں چرانا کسی صورت مناسب نہیں۔ پنجاب کو چمکتا دمکتا دیکھنا ہے تو ستھرا پنجاب کے کارکنوں کے گھروں کے چراغ بھی روشن رکھنے ہوں گے۔

جواب دیں

Back to top button