CM RizwanColumn

صنف نازک کے ساتھ تیزاب گردی

جگائے گا کون؟
صنف نازک کے ساتھ تیزاب گردی
تحریر : سی ایم رضوان
گزشتہ دنوں ایک مرتبہ پھر کوئٹہ میں ایک لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کا واقعہ پورے ملک کے حساس طبقے کو بالخصوص اور بالعموم طبی برادری اور بلوچستان کے عوام کو تشویش میں مبتلا کر گیا۔ کوئٹہ کے سول سنڈیمن اسپتال میں ڈیوٹی پر مامور ایک پوسٹ گریجوایٹ خاتون ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب پھینکنے کا یہ سفاکانہ واقعہ ہفتہ 6جون 2026 ء کو پیش آیا۔ کوئٹہ کی اس سب سے بڑی سرکاری علاج گاہ کے جنرل سرجری یونٹ ( سرجیکل وارڈ) میں ڈاکٹر ماہ نور ناصر معمول کے مطابق اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھا رہی تھیں کہ ایک شخص نے اچانک ان کے چہرے اور جسم پر تیزاب پھینک دیا اور فرار ہو گیا۔ ڈاکٹر کو بچانے کی کوشش میں وہاں موجود ایک وارڈ بوائے سمیت مزید دو افراد بھی تیزاب کے اثرات سے معمولی زخمی ہوئے۔ حکومت بلوچستان کی طرف سے وارڈ بوائے کو بہادری کے ساتھ ڈاکٹر کو بچانے کی کوشش پر ایوارڈ دیئے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ حملہ آور ملزم کی شناخت ہمایوں شاہ کے نام سے ہوئی۔ تازہ ترین تحقیقات کے مطابق وہ اسی سول اسپتال میں لفٹ آپریٹر کے طور پر کام کرتا تھا اور اس کا تعلق ضلع نوشکی سے تھا۔ واقعے کے بعد پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزم کا تعاقب کیا اور اسے نوشکی بس اسٹاپ کے قریب گھیر لیا۔ پولیس کے مطابق ملزم کو ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا گیا لیکن اس نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دی۔ جوابی فائرنگ کے تبادلے میں ملزم موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ ملزم کا موبائل فون فرانزک کے لئے بھیج دیا گیا ہے تاکہ حملے کی اصل وجوہات کا پتا لگایا جا سکے۔ تیزاب گردی کے فوراً بعد ڈاکٹر ماہ نور کو سول اسپتال میں ابتدائی طبی امداد دی گئی اور بعد میں ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا۔ جہاں ناکافی طبی سہولیات کی بناء پر وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے احکامات پر حکومتِ بلوچستان کے خرچے پر متاثرہ ڈاکٹر کو ایئر ایمبولینس کے ذریعے فوری طور پر مزید علاج کے لئے کراچی منتقل کیا گیا۔ آغا خان یونیورسٹی اسپتال کراچی کے طبی معائنے کے مطابق ڈاکٹر ماہ نور کا قریباً 13فیصد جسم ( بشمول چہرہ، پیٹ، رانیں اور دایاں ہاتھ) تیزاب سے متاثر ہوا ہے۔ حملے سے ان کی دونوں آنکھیں بھی متاثر ہوئیں تاہم ڈاکٹروں کے مطابق ان کی بینائی محفوظ ہے اور اب ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ اس درندانہ واقعے کے خلاف ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے سخت احتجاج جاری ہے۔ سوشل میڈیا پر ماہرہ خان سمیت کئی نامور شخصیات اور عوام نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور خواتین و ہیلتھ کیئر ورکرز کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ ملزم کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت نے اس کیس پر کئی سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ عوامی حلقوں میں اس ان کائونٹر پر ایک سوال یہ کیا جا رہا ہے کہ کیا یہ سچائی کو چھپانے کی کوشش تھی؟ دوسرا سب سے بڑا سوال یہ کہ کیا ملزم محض اکیلا تھا یا اس گھنانے جرم کے پیچھے کچھ بااثر چہرے بھی شامل تھے جنہیں وہ بے نقاب کر سکتا تھا؟۔
اکثر ایسے ہائی پروفائل کیسز میں جب عوام اور میڈیا کا شدید دبائو ہوتا ہے، تو پولیس طویل عدالتی کارروائی سے بچنے اور فوری واہ واہ سمیٹنے کے لئے ایسے شارٹ کٹ اپناتی ہے۔ لیکن یہ طریقہ کار جرائم کی جڑ کو ختم نہیں کرتا بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عوام کے اعتماد کو مزید کمزور کرتا ہے۔ ملزم کی اس طرح ہلاکت سے متاثرہ لیڈی ڈاکٹر اور ان کے خاندان کو شاید ایک فوری تسلی تو ملی ہو، لیکن قانونی اور آئینی طور پر انصاف کا وہ تقاضا پورا نہیں ہو سکا جو ایک مہذب معاشرے کی نشانی ہے۔ یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ ہمارے ہاں نہ صرف خواتین کے خلاف جرائم کی نوعیت خوفناک ہے، بلکہ ان جرائم سے نمٹنے کے لئے جو ریاستی اور پولیس کے طریقے کار ہیں، وہ بھی خود قانون کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہیں۔
ایک قابل لیڈی ڈاکٹر کو محض اس کی صنف ( خاتون ہونے) کی وجہ سے تیزاب پھینک کر جان کے خطرے سے دوچار کر دینا کسی بھی مہذب معاشرے کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ یہ رویہ راتوں رات جنم نہیں لیتا، بلکہ اس کے پیچھے صدیوں پرانی سوچ، ناقص تربیت اور کمزور نظامِ انصاف کار فرما ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے کے ایک بڑے حصے میں مرد کو ’’ بالادست‘‘ اور عورت کو ’’ ماتحت ‘‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ جب کوئی بااختیار یا پڑھی لکھی خاتون ( جیسے لیڈی ڈاکٹر) کسی غلط بات، رشتے یا رویے پر ’’ ناں‘‘ کہتی ہے، تو روایتی مردانہ انا اسے اپنی توہین سمجھتی ہے۔ عام طور پر مرد اس انکار کو ہضم نہیں کر پاتے اور تشدد پر اتر آتے ہیں۔ جب ایک خاتون پڑھ لکھ کر معاشرے میں ایک بڑا مقام حاصل کرتی ہے، معاشی طور پر مستحکم ہوتی ہے اور اپنے فیصلے خود کرنے کے قابل ہوتی ہے، تو جاہلانہ سوچ رکھنے والے مرد خود کو کم تر محسوس کرنے لگتے ہیں۔ یہ احساسِ کمتری حسد اور پھر دشمنی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ بچپن ہی سے لڑکوں اور لڑکیوں کی تربیت میں تفریق کی جاتی ہے۔ لڑکوں کو اکثر یہ باور کرایا جاتا ہے کہ وہ عورتوں کے مالک یا محافظ ہیں، جس کا غلط مطلب یہ نکال لیا جاتا ہے کہ وہ عورت کی زندگی اور موت کے فیصلے بھی کر سکتے ہیں۔ ایسے واقعات کے جنم لینے کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ماضی میں تیزاب پھینکنے یا تشدد کرنے والے مجرموں کو یا تو سیاسی پشت پناہی حاصل رہی یا وہ قانون کی گرفت سے بچ نکلے۔ حالانکہ جب تک مجرموں کو سرِعام عبرت ناک سزا نہیں ملتی، دوسرے جرائم پیشہ عناصر دلیر رہتے ہیں۔ تاہم اس تیزابی زہریلے رویے کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے کثیر الجہتی کوششوں کی ضرورت ہے۔ سکولوں اور گھروں میں لڑکوں کی تربیت اس طرح کی جائے کہ وہ خواتین کی عزت کریں اور انہیں اپنے برابر کا انسان سمجھیں۔ ہمارے تعلیمی نصاب میں بھی اخلاقیات کا ایسا حصہ شامل ہونا چاہیے جو بچوں کو سکھائے کہ ہر انسان کو اپنے فیصلے کرنے کا حق ہے، اور کسی کی ’’ ناں‘‘ کا مطلب دشمنی نہیں ہوتا۔ تیزاب پھینکنے یا خواتین پر تشدد کرنے کے کیسز کے لئے فاسٹ ٹریک کورٹس ہونی چاہئیں، جہاں عدالتی روایات سے ہٹ کر مہینوں یا سالوں کے بجائے چند ہفتوں میں فیصلہ ہو۔ مجرموں کو ایسی عبرت ناک سزائیں دی جائیں کہ آئندہ کسی کو ایسی گھنائونی حرکت کی جرات نہ ہو۔
پاکستان میں تیزاب گردی کے خلاف قوانین تو موجود ہیں جیسے ایسڈ کنٹرول اینڈ ایسڈ کرائم پریونشن ایکٹ لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ تیزاب کی سرِ عام خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد ہو اور اس کا ریکارڈ رکھا جائے۔ پولیس متاثرہ خواتین کی شکایات پر فوری ایکشن لے، نہ کہ گھریلو معاملہ کہہ کر ٹال دے۔ مساجد اور مذہبی خطبات میں خواتین کے حقوق، ان کے تحفظ اور اسلام میں ان کے باعزت مقام پر کھل کر بات کی جائے تاکہ مذہبی اور اخلاقی طور پر معاشرے کی اصلاح ہو۔ واضح رہے کہ ایک قابل لیڈی ڈاکٹر صرف ایک فرد نہیں ہوتی، وہ پورے معاشرے کا سرمایہ ہوتی ہے۔ لیکن اسے بھی محض ایک عورت سمجھ کر اس پر تیزاب پھینک دینے کے اس رویے کو بدلنے کے لئے ہمیں ’’ عورت کو کم تر‘‘ سمجھنے کی سوچ کو بدلنا ہو گا، اور یہ تبدیلی کر گھر کے صحن سے شروع ہو کر ہر عدالت کے کٹہرے تک جانی چاہئے۔ ہمارے موجودہ قوانین ایسے جرائم کو روکنے کے لئے ناکافی ہیں، ان میں مزید سختی کی ضرورت ہے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر معاشرے میں خواتین پر ہونے والے تشدد اور مردانہ انا پسندی کی ایک المناک مثال بن کر سامنے آیا ہے جس میں ایک قابل خاتون ڈاکٹر کی زندگی کو ذاتی عناد کا نشانہ بنایا گیا۔
ہمارے ہاں خواتین کو محض صنف نازک ہونے کے ناطے جان تک کے خطرات سے دوچار کر دینا کیا ہمارے معاشرے کے غیر مہذب ہونے کی واضح دلیل نہیں ہے۔ یہ سوال محض ایک سوال نہیں، بلکہ ایک گہرا درد، مایوسی اور اس گھٹن کا اظہار ہے جو ہم سب اس معاشرے میں سانس لیتے ہوئے محسوس کرتے ہیں۔ یہ رجحان کب ختم ہو گا؟ اس کا جواب کسی ایک تاریخ، قانون یا جادو کی چھڑی سے ممکن نہیں، لیکن یہ رجحان اس وقت ختم ہونا شروع ہو گا جب ہم بطور معاشرہ اس حقیقت کو تسلیم کریں گے کہ یہ مسئلہ کسی ایک بیمار ذہن کا نہیں، بلکہ اس نظام کا ہے جو ایسے ذہن پیدا کرتا ہے۔
خواتین کے ساتھ یہ زہریلا اور تیزابی رویہ اس دن ختم ہو گا جب ہم عورت کی مرضی اور انکار کو عزت دیں گے۔ ہمارے ہاں یہ رجحان اس دن دم توڑے گا جب مرد کو بچپن سے یہ سکھایا جائے گا کہ عورت کوئی جاگیر یا انا کا مسئلہ نہیں ہے کہ جس پر وہ حق جمائے۔ جب معاشرہ یہ قبول کر لے گا کہ کسی خاتون کو رشتہ، نوکری یا کسی بھی معاملے میں ناں (No) کہنے کا پورا حق ہے، اور اس کے انکار کا مطلب کسی کی مردانگی کی توہین نہیں، بلکہ اس کا ذاتی اور آئینی حق ہے۔ جب گھر کے صحن میں بیٹا اور بیٹی برابر ہوں گے یہ رویہ اس دن ختم ہو گا جب ماں باپ اپنے بیٹے کی ہر غلط بات پر پردہ ڈالنا اور بیٹی کو ہر بات پر سمجھوتہ کرنا سکھانا بند کریں گے۔ جب بیٹوں کو ہیرو اور بیٹیوں کو بوجھ سمجھنے کی سوچ ختم ہو گی، اور گھروں کے اندر لڑکوں کو خواتین کی خود مختاری کی عزت کرنا سکھایا جائے گا، تو معاشرے میں تیزابی ذہنیت خود بخود کم ہونا شروع ہو جائے گی۔ اس رویے کا خاتمہ تب ممکن ہو گا جب قانون کا خوف سفارش اور طاقت پر غالب آ جائے گا۔ تاہم اس نوعیت کے وحشیانہ رویے اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتے جب تک مجرموں کو یہ یقین رہے گا کہ وہ جرم کر کے سچ چھپا لیں گے، یا پیسے اور اثر و رسوخ کے بل بوتے پر بچ نکلیں گے۔ یہ رجحان اس دن ختم ہو گا جب تیزاب پھینکنے یا تشدد کرنے والے کو معلوم ہو گا کہ اس کی سزا فوری، عبرت ناک اور یقینی ہے، جہاں کوئی سفارش یا برادری کام نہیں آئے گی۔ جب میڈیا اور ڈرامے ’’ زبردستی‘‘ کو محبت کہنا چھوڑیں گے۔ ہمارے میڈیا اور ڈراموں میں بھی اکثر دکھایا جاتا ہے کہ ہیرو ہیروئن کا پیچھا کرتا ہے، اس پر زبردستی کرتا ہے، اور آخر میں اسے اپنا بنا لیتا ہے۔ یہ رجحان اس دن ختم ہو گا جب ہمارا میڈیا عورت پر ذہنی و جسمانی تشدد کو گلیمرائز کرنا بند کرے گا اور توجہ حاصل کرنے اور ’’ ہراساں کرنے‘‘ کے درمیان فرق کو واضح کرے گا۔ یہ جرم تب ختم ہو گا جب تیزاب کی بوتل عام سطح پر گلی محلوں میں ملنا بند ہو جائے گی۔ یعنی عملی طور پر یہ رجحان اس دن رکے گا جب تیزاب کی کھلے عام فروخت پر اتنی ہی سخت پابندی ہو گی جتنی کسی ممنوعہ ہتھیار پر ہوتی ہے۔ جب تک ہر چوک اور دکان پر تیزاب چند روپوں میں عام دستیاب رہے گا، مجرموں کے ہاتھ میں یہ خطرناک ہتھیار چمکتا رہے گا۔ یہ رجحان اس دن ختم ہو گا جب ہم کسی بھی واقعے کے بعد عورت کے لباس، اس کی نوکری یا اس کے باہر نکلنے پر سوال اٹھانے کے بجائے، صرف اور صرف مجرم کے گریبان پر ہاتھ ڈالیں گے۔ جب تک ہم مظلوم خاتون کے کردار میں کیڑے نکالتے رہیں گے، یہ تیزابی رویہ ہمارے معاشرے کو ایسے ہی جلاتا رہے گا۔ گو کہ اس تبدیلی کا سفر بہت طویل ہے، لیکن یہ اسی وقت شروع ہو سکتا ہے جب ہم سب لوگ اپنے دائرہ اختیار میں، اپنے گھروں سے اس سوچ کو بدلنے کا آغاز کریں گے۔

جواب دیں

Back to top button