گھر سے کاروبار تک: پنجاب میں خواتین کے لیے مواقع کا نیا دور

گھر سے کاروبار تک: پنجاب میں خواتین کے لیے مواقع کا نیا دور
عظمی رباب
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب حکومت خواتین کی فلاح و بہبود، معاشی خودمختاری اور سماجی ترقی کے ایک جامع وژن پر عمل پیرا ہے۔ حکومت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ خواتین کو ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے بغیر پائیدار اور جامع ترقی کا خواب پورا نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں خواتین کی تعلیم، صحت، معاشی شمولیت، کاروباری ترقی، ڈیجیٹل مہارتوں اور محفوظ ماحول کی فراہمی کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ پنجاب اس وعن کو عملی شکل دینے کے لیے مختلف منصوبوں اور پروگراموں پر تیزی سے کام کر رہا ہے تاکہ خواتین کو زندگی کے ہر شعبے میں آگے بڑھنے کے مساوی مواقع میسر آ سکیں۔
مالی سال 2026۔27 کے لیے ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے سالانہ ترقیاتی پروگرام(ADP)میں 1.5ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو خواتین کی ترقی اور بااختیار بنانے کے لیے حکومت پنجاب کے عزم کا واضح اظہار ہے۔ اس ترقیاتی پروگرام کے تحت 777ملین روپے جاری منصوبوں کے لیے جبکہ 723ملین روپے نئے منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ منصوبے نہ صرف خواتین کی موجودہ ضروریات کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ انہیں مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی تیار کریں گے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اپنے دورِ حکومت میں خواتین کی ترقی کو خصوصی ترجیح دی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ خواتین کو معاشی طور پر مضبوط بنائے بغیر معاشرے کی مجموعی ترقی ممکن نہیں۔ اسی سوچ کے تحت پنجاب حکومت نے ایسے پروگرام متعارف کروائے ہیں جو خواتین کو روزگار، کاروبار، تربیت اور قیادت کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ خواتین کے لیے محفوظ اور سازگار ماحول کی فراہمی بھی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے تاکہ وہ اعتماد کے ساتھ تعلیم، ملازمت اور کاروبار کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکیں۔
سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت جاری منصوبوں میں ورکنگ ویمن ہاسٹل گوجرانوالہ کی عمارت کی تعمیر نو ایک اہم منصوبہ ہے۔ یہ منصوبہ ملازمت پیشہ خواتین کو محفوظ، باوقار اور معیاری رہائشی سہولیات فراہم کرنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ جدید سہولیات سے آراستہ ہاسٹل خواتین کو بہتر ماحول فراہم کرے گا اور ان کے لیے روزگار کے مواقع سے فائدہ اٹھانا آسان بنائے گا۔
اسٹریٹجک پلاننگ اینڈ امپلیمنٹیشن یونٹ (SPIU)محکمہ ویمن ڈویلپمنٹ کے منصوبوں کی موثر منصوبہ بندی، نگرانی اور عملدرآمد کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس یونٹ کے ذریعے مختلف پروگراموں کی پیش رفت کا جائزہ لیا جاتا ہے اور ان کے اثرات کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ بہتر حکمت عملی اور مضبوط نگرانی کے نظام کے ذریعے خواتین کی ترقی کے منصوبوں کو زیادہ موثر اور نتیجہ خیز بنایا جا رہا ہے۔
پنجاب ڈے کیئر فنڈ سوسائٹی کے ذریعے ڈے کیئر سینٹرز کا قیام بھی ایک اہم منصوبہ ہے جو خواتین کے لیے عملی سہولت فراہم کرتا ہے۔ بہت سی خواتین ملازمت یا کاروبار کے دوران بچوں کی دیکھ بھال کے مسائل کا سامنا کرتی ہیں۔ ڈے کیئر سینٹرز کے قیام سے نہ صرف خواتین کو ذہنی سکون حاصل ہوگا بلکہ وہ اپنے پیشہ ورانہ فرائض بہتر انداز میں انجام دے سکیں گی۔ یہ اقدام خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت بڑھانے کے لیے بھی معاون ثابت ہوگا۔
اسکل انہانسمنٹ تھرو ہوم ریچ (SEHR)پروگرام کے ذریعے خواتین کو گھر کی دہلیز پر جدید اور مارکیٹ سے ہم آہنگ مہارتوں کی تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس پروگرام کا مقصد ایسی خواتین تک پہنچنا ہے جو مختلف سماجی یا معاشی وجوہات کی بنا پر تربیتی مراکز تک نہیں پہنچ سکتیں۔ اس پروگرام کے ذریعے ہزاروں خواتین ہنر حاصل کر کے اپنی آمدنی میں اضافہ کرنے کے قابل بن رہی ہیں۔
محکمہ ویمن ڈویلپمنٹ کی ڈیجیٹلائزیشن بھی جاری منصوبوں میں شامل ہے۔ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق سرکاری خدمات کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ شفافیت، رفتار اور سہولت کو فروغ دیا جا سکے۔ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے خواتین کو مختلف خدمات اور معلومات تک آسان رسائی حاصل ہوگی جبکہ انتظامی امور میں بھی بہتری آئے گی۔
دیہی خواتین کی معاشی خودمختاری کے لیے ٹیکسٹائل سیکٹر میں شروع کیے گئے اقدامات بھی خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ پنجاب کے دیہی علاقوں میں بے شمار خواتین دستکاری اور ٹیکسٹائل سے وابستہ ہیں لیکن مناسب تربیت اور مارکیٹ تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پاتیں۔ اس منصوبے کے تحت خواتین کو تربیت، رہنمائی اور کاروباری مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ معاشی طور پر خودمختار بن سکیں۔ویمن بزنس انکیوبیشن سینٹر (WBIC)فیز۔Iخواتین میں کاروباری صلاحیتوں کے فروغ کے لیے ایک منفرد اقدام ہے۔ اس مرکز کے ذریعے خواتین کو کاروبار شروع کرنے، مارکیٹنگ، مالیاتی منصوبہ بندی اور جدید کاروباری حکمت عملیوں کے حوالے سے تربیت دی جاتی ہے۔ اس منصوبے نے خواتین میں کاروباری رجحانات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور متعدد خواتین کو اپنے کاروبار قائم کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔
مالی سال 2026۔27کے لیے متعارف کروائے گئے نئے منصوبے بھی خواتین کی ترقی کے سفر میں ایک نئی جہت کا اضافہ کریں گے۔ ’’ ویمنز ایمپاورمنٹ تھرو کمیونیکیشن اینڈ انٹرپرائز‘‘ منصوبہ خواتین کی ابلاغی صلاحیتوں، قیادت اور کاروباری استعداد کو فروغ دینے کے لیے متعارف کروایا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے خواتین کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ مہارتیں فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ مختلف شعبوں میں موثر کردار ادا کر سکیں۔انٹرپرینیوریل فی میل یوتھ پچ کمپیٹیشن فیز۔IIنوجوان خواتین میں کاروباری سوچ کو فروغ دینے کے لیے شروع کیا جا رہا ہے۔ اس مقابلے کے ذریعے نوجوان طالبات اور کاروبار شروع کرنے کی خواہشمند خواتین کو اپنے کاروباری آئیڈیاز پیش کرنے اور انہیں عملی شکل دینے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اس پروگرام کا مقصد نئی نسل میں اختراع، تخلیقی صلاحیت اور کاروباری قیادت کو فروغ دینا ہے۔
ایمبیسیڈر پروگرام برائے طالبات فیز۔IIبھی ایک اہم منصوبہ ہے جس کے ذریعے یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طالبات کو قیادت، اعتماد اور سماجی خدمت کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ یہ پروگرام نوجوان خواتین کو اپنے اداروں اور کمیونٹیز میں مثبت تبدیلی کے سفیر کے طور پر کردار ادا کرنے کے قابل بنائے گا۔
پنجاب بھر میں خواتین کی کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ویمن انٹرپرینیورشپ ایکسپو فیز۔IIبھی متعارف کروایا جا رہا ہے۔ اس ایکسپو کے ذریعے خواتین کاروباری شخصیات کو اپنی مصنوعات اور خدمات کی نمائش، خریداروں سے روابط اور کاروباری مواقع حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔ اس اقدام سے خواتین کے کاروباروں کو نئی منڈیاں اور ترقی کے مزید مواقع میسر آئیں گے۔
ان منصوبوں کی کامیاب منصوبہ بندی اور عملدرآمد میں پارلیمانی سیکرٹری برائے ویمن ڈویلپمنٹ سعدیہ تیمور کا کردار قابلِ ذکر ہے۔ انہوں نے خواتین کی ترقی سے متعلق پروگراموں کی نگرانی، مختلف اداروں کے درمیان رابطے اور پالیسی اقدامات کے فروغ میں فعال کردار ادا کیا ہے۔ ان کی مسلسل کاوشوں کے نتیجے میں خواتین کے لیے متعدد نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں اور مختلف پروگراموں کے دائرہ کار میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
سعدیہ تیمور خواتین کی معاشی خودمختاری، تعلیم اور قیادت کے فروغ کے لیے ہمیشہ سرگرم رہی ہیں۔ ان کی رہنمائی میں ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے ایسے پروگراموں کو ترجیح دی ہے جو خواتین کو براہِ راست فائدہ پہنچاتے ہیں اور انہیں خود انحصاری کی جانب گامزن کرتے ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ خواتین کی ترقی دراصل پورے معاشرے کی ترقی ہے اور خواتین کو ہر شعبے میں مساوی مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
سیکرٹری ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ثمن رائے کی قیادت میں محکمہ نے ادارہ جاتی اصلاحات، شفافیت اور موثر عملدرآمد کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کی انتظامی صلاحیتوں اور وعن کے باعث محکمہ کے متعدد منصوبوں میں پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ ثمن رائے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں کہ خواتین کے لیے شروع کیے گئے تمام منصوبے مقررہ اہداف کے مطابق مکمل ہوں اور ان کے ثمرات زیادہ سے زیادہ خواتین تک پہنچ سکیں۔ اسی وجہ سے ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو خواتین کی ترقی کے حوالے سے ایک متحرک اور موثر اداری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پنجاب حکومت کے یہ اقدامات اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ خواتین کی ترقی اور خودمختاری محض ایک نعرہ نہیں بلکہ عملی ترجیح ہے۔ روزگار، کاروبار، تربیت، محفوظ رہائش، ڈے کیئر سہولیات، ڈیجیٹل خدمات اور قیادت سازی کے پروگراموں کے ذریعے خواتین کو ایک ایسا ماحول فراہم کیا جا رہا ہے جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں اور معاشی و سماجی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا ویژن ایک ایسے پنجاب کی تشکیل ہے جہاں خواتین کو ترقی کے مساوی مواقع حاصل ہوں، ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور انہیں اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی طاقت ملے۔ ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے مالی سال 2026۔27کے ترقیاتی منصوبے اسی وژن کی عملی تعبیر ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ ان کے مثبت اثرات آنے والے برسوں میں صوبے بھر کی لاکھوں خواتین کی زندگیوں میں نمایاں بہتری کا باعث بنیں گے۔ خواتین کی ترقی میں سرمایہ کاری درحقیقت پنجاب کے روشن، خوشحال اور ترقی یافتہ مستقبل میں سرمایہ کاری ہے، اور حکومت پنجاب اسی عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔





