ColumnImtiaz Aasi

گلگت بلتستان انتخابات اور پی ٹی آئی کا یوم سیاہ

گلگت بلتستان انتخابات اور پی ٹی آئی کا یوم سیاہ
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
گو گلگت بلتستان میں انتخابات پرامن ماحول میں ہوئے اور کسی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ انتخابات سے قبل سیاسی جماعتوں کا جلسے اور جلسوں کا انعقاد جمہوری روایات کا عکاس ہے ۔وہ جمہوریت ہی کیا جس میں سیاسی جماعتوں کو جلسے اور پرامن جلوس نکالنے کی اجازت نہ ہو۔ اس کے ساتھ یہ بھی جمہوریت کا حسن ہے تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی اپنی انتخابی مہم چلانے کی آزادی ہونی چاہیے۔ وہ کیسی جمہوریت جس میں سیاسی جماعتوں کو اپنے اپنے منشور عوام الناس کو بتانے کے مواقع میسر نہ ہوں۔1970ء میں ہونے والے انتخابات کا مجھے اچھی طرح یاد ہے جب پیپلز پارٹی سے وابستہ لوگ بھٹو آئے گا راج چلائے گا۔ سرخ ہے سرخ ایشیاء سرخ ہے۔ دوسری طرف جماعت اسلامی والوں کا نعرہ ہوتا تھا سبز سے سبز ایشیاء سبز ہے۔ ایک عجیب گہماگہمی ہوا کرتی تھی کالج کے طلبہ بڑے جوش و خروش سے اپنی اپنی پسندیدہ سیاسی جماعتوں کے نعرے لگاتے تھے۔ آپ یقین کریں ان انتخابات کے بعد آج تک جیتنے الیکشن ہوئے وہ ماحول دیکھنے میں نہیں آیا۔ آج جب جمہوریت کے نام پر سیاسی جماعتوں کو جلسے اور جلوس نہیں کرنے دیئے جاتے ہیں یا سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کو انتخابی جلسوں سے خطاب سے روکا جاتا ہے تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ کبھی سوچا نہیں تھا ملک میں ایسا وقت بھی آئے گا جب سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنمائوں کو انتخابی مہم میں شرکت سے روکا جائے گا۔ اگرچہ پی ٹی آئی اس وقت معتوب جماعت ہے ملک کے عوام کی اکثریت دل و جان سے پی ٹی آئی کے ساتھ ہے۔ پی ٹی آئی کے بانی کو آن گنت مقدمات میں پابند سلاسل رکھا گیا ہے یہاں تک کہ اس کی ملاقات پر قدغن ہے۔ عدلیہ کے پر کاٹ دیئے گئے ہیں عدالتوں کے احکامات پر عمل نہیں ہو رہا ہے عدالتی فیصلوں کی جو بے توقیری اس دور میں دیکھی ہے سات دہائیوں پر مشتمل ہماری حیات میں دیکھنے میں نہیں آئی ۔ جس وقت یہ سطور لکھی جا رہی تھیں اس وقت گلگت بلستان کے انتخابی نتائج کا سرکاری طور پر اعلان نہیں ہوا تھا لیکن غیر سرکاری نتائج کے مطابق بھٹو کی پیپلز پارٹی زیادہ نشستوں کے ساتھ سرفہرست تھی جب کہ دوسرے نمبر پر مسلم لیگ نون اور تیسرے نمبر پر پی ٹی آئی تھی۔ خبروں کے مطابق پیپلز پارٹی کا وزیراعلیٰ اور گورنر مسلم لیگ نون سے ہو گا۔ الیکشن سے قبل پی ٹی آئی رہنمائوں کو گلگت میں داخل ہونے سے روکا گیا یا پھر انہیں راستے سے واپس بھیج دیا گیا۔ اس کے برعکس مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف گلگت تشریف لائے اور اپنی خود ساختہ جلاوطنی کو رونا رو کر عوام کو متاثر کرنے کی بھرپور کوشش کی جس میں انہیں خاطر خواہ کامیابی نہیں ہو سکی۔ پاکستان کے عوام اچھی طرح جانتے ہیں میاں صاحب پرویز مشرف کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت سعودی عرب بھیجے گئے جب کہ دوسری مرتبہ پی ٹی آئی دور میں طاقتور حلقوں کی آشیرباد سے انہیں عمران خان نے لندن بھیجا تھا۔ نواز شریف نے گلگت کے عوام کو میٹرو بس سروس کی نوید سنائی جب کہ خواجہ سعد رفیق نے لوگوں کو این ایف سی ایوارڈ میں حصہ دلوانے کا وعدہ کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے گلگت کے لوگوں کو ملازمتیں دلوانے کا اعلان کیا۔ پی ٹی آئی کے امیدواروں نے انتخابی نشان کے بغیر آزاد امیدوار کے طورپر الیکشن میں حصہ لیا ایک معتوب جماعت کے امیدوار عوام سے کیا وعدہ کر سکتے تھے تاہم اس کے باوجود لوگوں نے آزاد امیدواروں کو ووٹ دے کر ثابت کیا گلگت بلستان میں پی ٹی آئی کا ووٹ بنک موجود ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے مقدمات تو پی ٹی آئی کے بانی کے خلاف ہیں جن کی پاداش میں وہ جیل میں ہے مگر گلگت بلستان کے عوام کا کیا قصور تھا جنہیں انتخابی مہم سے روکا گیا۔ پی ٹی آئی کے اسد قیصر اور بیرسٹر گوہر کو گلگت جانے کی اجازت نہیں تھی بعض رہنماوں کو راستے میں روک لیا گیا۔ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی رہنمائوں کو جلسوں سے خطاب سے روکنا حکومتی بوکھلاہٹ کی واضح نشانی تھی ورنہ پی ٹی آئی رہنمائوں کو جلسوں سے خطاب کرنے دیا جاتا تو کون سی قیامت آجاتی۔ حکومت نے پی ٹی آئی رہنمائوں کو انتخابی مہم سے روک کر الیکشن کے انعقاد کو مشکوک بنا دیا ہے۔ اب پی ٹی آئی نے حلف برداری کے روز یوم سیاہ منانے کا اعلان کرکے دنیا کو با آور کرا دیا ہے گلگت میں ہونے والے انتخابات شفاف اور غیر جانبدارانہ نہیں تھے۔ تازہ ترین گلگت کے الیکشن کمیشن نے پانچ انتخابی حلقوں کے نتائج روک لئے ہیں اور دس پولنگ اسٹیشن پر الیکشن دوبارہ ہوگا۔ دوسری طرف پی ٹی آئی رہنمائوں نے پندرہ نشستوں کے جیتنے کا دعویٰ کیا ہے۔ درحقیقت حکومت نے بذات خود انتخابات کے انعقاد کو مشکوک بنا دیا ہے اگر پی ٹی آئی کے رہنمائوں کو گلگت جا کر انتخابی مہم سے خطاب کرنے کا دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح موقع مل جاتا الیکشن کے انعقاد پر سوالات نہیں اٹھتے۔ حکومت پی ٹی آئی سے اس قدر خائف ہے اس کے رہنمائوں کو انتخابی جلسوں سے خطاب کرنے کا بھی موقع نہیں دیا گیا۔ آپ دیکھ لیں بنگلہ دیش میں کیا ہوا شیخ مجیب الرحمان کی بیٹی نے سیاسی جماعتوں اور عوام کی آزادیاں چھین لیں تھیں پھر ایک دن آیا جب اسے ملک چھوڑنا پڑ گیا، لہذا حکمرانوں کو ایسے وقت سے ڈرنا چاہیے۔ آزاد کشمیر میں دیکھ لیں ایکشن کمیٹی کے ساتھ بات چیت کی بجائے لاٹھی گولی سے بات چیت ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہو گئی ہیں، جو حکمرانوں کی نااہلی کا بین ثبوت ہے۔ وفاق اور پنجاب میں مسلم لیگ نون کی حکومت نے غریب عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے، کمر توڑ مہنگائی نے عوام پر قیامت برپا کر رکھی ہے، لیکن اس کے دعویٰ کرتے ہیں کہ ملک کے معاشی حالات بہتر ی کی طرف جا رہے ہیں۔ مسلم لیگ نون ہو یا پیپلز پارٹی ملک میں جب کبھی منصفانہ انتخابات ہوئے، عوام انہیں کبھی ووٹ نہیں دیں گے۔ جیلیں بھرنے اور مقدمات قائم کرنے سے کسی کو عوام کے دلوں سے نہیں نکالا جا سکتا۔ عوام کے دلوں پر وہی حکمرانی کر سکتے ہیں، جنہیں عوام کی مشکلات کا احساس ہو۔

جواب دیں

Back to top button