سرکاری سکولوں کا زوال

سرکاری سکولوں کا زوال
تحریر : رفیع صحرائی
ایک سوال دن رات دماغ پر ہتھوڑے برساتا ہے کہ کیا ہمارے حکمرانوں نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ یہ ان کا آخری اقتدار ہے اور اس کے بعد انہوں نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر کے کسی ٹھنڈے یورپی ملک میں باقی زندگی سکون سے گزارنی ہے؟
اگر ایسا نہیں، تو پھر آخر کیوں اس ریاست کی بنیادوں کو مسلسل کمزور کیا جا رہا ہے؟ کیوں وہ ادارے، جو کسی قوم کی تعمیر اور بقا کی علامت ہوتے ہیں، ایک ایک کر کے ختم کیے جا رہے ہیں؟ اور سب سے بڑھ کر، کیوں تعلیم جیسے مقدس شعبے کو بھی منافع اور خسارے کے پیمانے پر تولا جا رہا ہے؟ کیوں محکمہ صحت جیسے خدمت کے شعبے کو تاجروں کے حوالے کر کے ان کی جھولیاں بھری جا رہی ہیں؟
پاکستان میں سرکاری اداروں کی تباہی کوئی نئی داستان نہیں۔ کبھی قومی ایئر لائن کو خسارے کے اندھیروں میں دھکیلا گیا، کبھی پاکستان اسٹیل ملز کو سکریپ کا ڈھیر بنا دیا گیا، کبھی ریلوے کو دانستہ غیر موثر بنایا گیا، اور کبھی زراعت جیسے بنیادی شعبے کو ایسی پالیسیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا جنہوں نے کسان کو بدحال کر دیا۔ سوال یہ ہے کہ ان اداروں کی تباہی کا ذمہ دار کون تھا؟ کیا یہ عام شہری، مزدور، کسان یا اساتذہ تھے؟ یا وہ پالیسی ساز جو ہر ناکامی کے بعد بھی خود کو عقلِ کل سمجھتے رہے؟
افسوس کہ اب یہی سوچ تعلیم کے شعبے پر مسلط کر دی گئی ہے۔ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، شعور اور تہذیب کی بنیاد ہوتی ہے، مگر پنجاب میں گزشتہ دو دہائیوں سے سرکاری سکولوں کی تعداد مسلسل کم کی جا رہی ہے۔ ’’ اصلاحات‘‘، ’’ ریشنلائزیشن‘‘ اور’’ آئوٹ سورسنگ‘‘ جیسے دلکش الفاظ کے پیچھے دراصل سرکاری تعلیم کے وجود کو محدود کیا جا رہا ہے۔ اعداد و شمار ایک خوفناک منظرنامہ پیش کرتے ہیں:
سال 2000میں پنجاب میں 66770سرکاری سکول تھے۔ 2018ء میں یہ تعداد 52394رہ گئی۔ سال 2022ء میں 48ہزار سکول باقی بچے۔ 2025ء میں تعداد کم ہو کر 42805تک پہنچ گئی اور فیز تھری کے بعد صرف 38105سکول رہ جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ پرائمری سکولوں کے بعد اب ایلیمنٹری سکولوں کی باری بھی آ گئی ہے جبکہ سرکاری کالجز بھی ٹھیکیداروں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔
یہ صرف عمارتوں کی تعداد میں کمی نہیں بلکہ غریب کے خوابوں، دیہات کے مستقبل اور لاکھوں بچوں کی امیدوں کے چراغ بجھانے کے مترادف ہے۔
افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ایک لاکھ سے زائد اساتذہ کی خالی آسامیوں کو پُر کرنے کے بجائے سکولوں کو ٹھیکیداری نظام کے حوالے کر دیا گیا ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ گویا ریاست اپنی آئینی ذمہ داری سے دستبردار ہو رہی ہے۔ اگر کوئی پرائیویٹ ٹھیکیدار سکول کو’’ کم منافع بخش‘‘ سمجھے تو وہ اسے بے یار و مددگار چھوڑ کر چلا جاتا ہے اور پھر وہی سکول جن میں کبھی بچوں کی آوازیں گونجتی تھیں، ویران کھنڈرات میں بدل جاتے ہیں۔
یہاں ایک اہم سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ گزشتہ حکومت نے’’ انصاف آفٹر نون سکولز‘‘ کے نام سے ایک منصوبہ شروع کیا تھا جس کے تحت ہزاروں نوجوانوں کو روزگار ملا اور سرکاری سکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی۔ مگر موجودہ حکومت نے بیک جنبشِ قلم اس منصوبے کو ختم کر دیا اور ہزاروں نوجوان بے روزگار ہو گئے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ضمانت ہے کہ موجودہ حکومت کی آئوٹ سورسنگ پالیسی بھی آنے والی حکومتیں جاری رکھیں گی؟ اگر پالیسی تبدیل ہو گئی تو کیا ان سکولوں کا انجام بھی یوٹیلٹی اسٹورز کی طرح نہیں ہوگا؟ کیا کل کو سرکاری سکولوں کی عمارتیں، فرنیچر اور وسائل بھی نیلامی کی نذر نہیں ہو جائیں گے؟
یہ خدشات محض اندیشے نہیں بلکہ زمینی حقائق سے جڑے ہوئے سوالات ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پنجاب کی موجودہ پالیسی صوبے کے تعلیمی مستقبل کو ایسی دلدل کے حوالے کر رہی ہے جس میں آنے والی نسلیں غرق ہو سکتی ہیں۔
سرکاری سکولوں اور اساتذہ کو ناکام ثابت کرنے کی ایک منظم فضا بھی قائم کی جا رہی ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ صرف ساہیوال بورڈ 2025ء کے نتائج اس کی واضح مثال ہیں۔ کل 71789طلبہ نے میٹرک کا امتحان دیا، جن میں 35197طلبہ سرکاری سکولوں سے تھے۔ ان میں سے 25096بچے کامیاب ہوئے اور نتیجہ 71فیصد رہا۔
یہ وہ بچے ہیں جن کے والدین اکثر ماہانہ بیس روپے بھی مشکل سے ادا کرتے ہیں۔ جنہیں نہ مہنگی ٹیوشنز میسر ہوتی ہیں، نہ جدید سہولیات، نہ ایئرکنڈیشنڈ کلاس رومز اور نہ ہی بھاری فیسوں والے تعلیمی ماحول۔ اس کے باوجود یہی بچے نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ دوسری طرف نجی سکولوں کے نتائج کا موازنہ کرتے وقت یہ حقیقت نظر انداز کر دی جاتی ہے کہ وہاں داخلہ بھی ٹیسٹ کے بعد دیا جاتا ہے، والدین بھاری فیسیں ادا کرتے ہیں، الگ سے ٹیوشنز کا نظام موجود ہوتا ہے اور بچوں کو ہر ممکن سہولت میسر ہوتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر سرکاری سکولوں سے یہ سہارا بھی چھین لیا گیا تو غریب آدمی کا بچہ کہاں جائے گا؟
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سرکاری سکول صرف تعلیمی ادارے نہیں بلکہ سماجی انصاف کی آخری امید ہیں۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں ایک مزدور کا بچہ، ایک کسان کی بیٹی، ایک یتیم طالب علم اور ایک سفید پوش گھرانے کا نوجوان اپنے بہتر مستقبل کا خواب دیکھتا ہے۔ اگر یہ دروازے بند ہو گئے تو پھر معاشرے میں طبقاتی تقسیم ناقابلِ واپسی شکل اختیار کر لے گی۔
دنیا کی ترقی یافتہ قوموں نے تعلیم پر سرمایہ لگایا، اساتذہ کو عزت دی، سکولوں کو مضبوط کیا اور نئی نسل کو قومی سرمایہ سمجھا۔ مگر ہم الٹا سفر کر رہے ہیں۔ ہم سکول بند کر رہے ہیں، اساتذہ کو بدنام کر رہے ہیں اور غریب کے بچے سے تعلیم کا حق چھین رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ہر ادارے میں کچھ خامیاں اور کچھ کالی بھیڑیں موجود ہوتی ہیں، مگر چند کمزور مثالوں کی بنیاد پر پورے نظام کو تباہ کر دینا دانش مندی نہیں۔
اصلاح ضرور ہونی چاہیے، احتساب بھی ضروری ہے مگر اداروں کو ختم کرنا کسی مسئلے کا حل نہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سرکاری سکولوں کو جدید سہولیات فراہم کرے، خالی اسامیوں کو فوری پُر کرے، دیہی علاقوں میں تعلیمی انفراسٹرکچر بہتر بنائے اور تعلیم کو کاروبار کے بجائے قومی ذمہ داری سمجھے۔ کیونکہ جو قومیں اپنے سکول ویران کر دیتی ہیں، اُن کے بازار تو آباد ہو سکتے ہیں مگر مستقبل تاریک ہو جاتا ہے۔
سرکاری سکول ہمارے دیہات، قصبوں اور شہروں کا حسن ہیں۔ یہ وہ چراغ ہیں جن کی روشنی سے اس وطن کا ہر گوشہ روشن ہوتا رہا ہے۔ ان چراغوں کو بجھانے کے بجائے مزید روشن کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ شاید صاحبِ اختیار تو اس ملک سے باہر چلے جائیں مگر اس دھرتی کے غریب لوگوں نے تو یہیں رہنا ہے۔ ان کے بچوں سے علم کا حق نہ چھینیں۔







