ووٹر کی عمر بڑھانے کی کوششیں

ووٹر کی عمر بڑھانے کی کوششیں
روشن لعل
ووٹر کی عمر اور اہلیت کیا ہونی چاہیے ، یہ سوال ان ملکوں میں پیدا ہوتا ہے جہاں حکومتوں کے قیام اور اختتام کی بنیاد جمہوری نظام ہو۔ گو کہ یہ مقولہ ’’ بدترین جمہوریت ، بہترین آمریت سے بہتر ہوتی ہے‘‘، ہمیشہ سے متنازعہ ہے ، لیکن پھر بھی اکثر اسے کمزور ترین جمہوریتوں یا ہائبرڈ جمہوری نظام کے حق میں دلیل کے طور پیش کیا جاتا ہے۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ کسی ملک کا جمہوری نظام چاہے ہائبرڈ ہو یا ہر حد تک شفاف ، وہ ملک اگر مضبوط معیشت کی بنیاد بننے والے وسائل سے محروم ہو تو وہاں غیر متنازعہ انتخابی عمل کے نتیجے میں منتخب ہونے والی حکومت کے لیے بھی عوام کو مطمئن رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس اگر کوئی ملک وسائل سے مالا مال ہو تو وہاں ہائبرڈ جمہوریت کیا ، مطلق العنان بادشاہت بھی عوام کو زندگی کی بنیادی ضرورتوں کی فراہمی ممکن بنا دیتی ہے۔ جن ملکوں کے جمہوری نظام کو عصر حاضر میں شفاف اور دھاندلی جیسی آلائشوں سے پاک سمجھا جاتا ہے وہاں جمہوری نظام ازل سے موجود نہیں ہے۔ ان ملکوں کے اندر کسی وقت خام حالت میں شروع ہونے والا جمہوری نظام، وقت گزرنے کے ساتھ عوام کی خواہشوں اور مطالبات کے مطابق مثبت تبدیلیوں سے مزین ہوتا رہا۔ جن ملکوں کا یہاں حوالہ دیا گیا ہے ، وہاں جمہوری نظام کے ڈھانچے میں تبدیلی کو حکومت کی من مرضی یا طاقتور حلقوں کی منشا کے مطابق نہیں بلکہ پارلیمنٹ میں موجود یا غیر موجود سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے ممکن بنایا گیا۔ انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لیے جمہوری نظام میں اتفاق رائے سے مثبت تبدیلیوں کے جو اہداف حاصل کیے گئے ،شاید ہی کبھی ایسا ہوا کہ انہیں پھر سے پہلے والی حالت میں واپس لے جانے کی ضرورت پیش آئی ہو۔ اگر پاکستان کی بات کی جائے تو یہاں معاملہ ترقی یافتہ دنیا سے الٹ ہے۔ وطن عزیز کی پارلیمانی تاریخ میں 1973ء کے آئین اور اٹھارویں ترمیم کے علاوہ کچھ بھی ایسا نہیں جسے اتفاق رائے سے تشکیل دیا گیا ہو۔ اتفاق رائے پیدا کیا جانا تو دور کی بات، یہاں تو معمولی سے اختلاف رائے کو برداشت کرنے کی بجائے اسے جگ ہنسائی کا باعث بننے والی حرکتوں کے ذریعے بلڈوز کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس قسم کے رویوں کی وجہ سے یہاں بحیثیت قوم ہمارا سفر ناک کی سیدھ میں آگے بڑھنے کی بجائے اس طرح دائرے میں جاری رکھا گیا کہ جو اصول پہلے رد کر دیئے گئے ہوتے ہیں انہیں ہی دوبارہ سنہری اصولوں کا نام دے کر گلے کا طوق بنا لیا جاتا ہے۔
اب یہاں مبینہ طور پر اٹھارویں ترمیم آئین سے حذف کرنے کے لیے اٹھائیسویں ترمیم کا جو خاکہ زیر گردش ہے ، کہاجارہا ہے کہ اس میں ووٹر کی عمر 18سال سے بڑھا کر 25سال کرنے کا بھی ذکر ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں ووٹر کی عمر کی کم سے کم حد جو پہلے 21برس تھی اسے سابق صدر جنرل ( ر) پرویز مشرف نے اپریل 2002ء میں کم کر کے 18برس کیا۔ مشرف کے ایسا کرنے سے کچھ عرصہ پہلے، بے نظیر بھٹو شہید عوام کے سامنے ووٹر کی عمر 18سال مقرر کرنے کی بات کر چکی تھیں۔ پرویز مشرف کے آمر ہونے میں کوئی شک نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ان کے جن کاموں کو سراہا جاتا ہے ان میں ووٹر کی عمر 18برس مقرر کیا جانا بھی شامل ہے۔ پرویز مشرف کی طرف سے ووٹر کی عمر 18مقرر کیے جانے کی اصل وجہ یہ تھی کہ وہ خود کو خاص طور پر یورپی یونین کے لیے قابل قبول بنانا چاہتے تھے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران امریکہ نے تو اپنی باتیں آنکھیں بند کر کے ماننے والے مشرف کو غیر مشروط آشیر باد دے دی تھی لیکن یورپی یونین اسے قابل قبول سمجھنے کے لیے اس سے پاکستان کے معاشی، سیاسی، جمہوری، سماجی اور عدالتی نظام میں ایسی اصلاحات کی طالب تھی جو یورپ میں رائج اصولوں سے مشابہ ہوں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دور ان یورپی یونین نے مشرف حکومت کے لیے اپنی امداد، اس سے طلب کردہ اصلاحات کے نفاذ کے ساتھ مشروط کر دی تھی۔ یورپی یونین کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے مشرف نے ماڈریٹ لبرل ازم کے نام پر جو اصلاحات کیں ان میں ووٹر کی عمر 18سال مقرر کیا جانا بھی شامل تھا۔
یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ زمانہ قدیم میں جہاں جس حد تک جمہوری نظام قائم ہوا وہاں ووٹر کی اہلیت ریاست کا عام شہری ہونا نہیں بلکہ ایک خاص حد تک جائیداد کا مالک ہونے سے مشروط تھی۔ سترہویں سے انیسویں صدی تک یورپ اور امریکہ میں ووٹ دینے کا حق صرف اسے حاصل تھا جو سفید فام ہونے کے علاوہ خاص حد تک جائیداد کا مالک اور ٹیکس دہندہ ہو۔ عورتیں ، ان شرائط کو پورا کرنے کے باوجود ووٹ ڈالنے کا حق نہیں رکھتی تھیں۔ عورتوں کو ووٹ ڈالنے کا حق سب سے پہلے نیوزی لینڈ نے 1893ء میں دیا ، اس کے بعد بیسویں صدی کی دوسری دہائی میں امریکہ میں بھی عورتوں کے ووٹ ڈالنے کا حق تسلیم کر لیا گیا۔ اس کے بعد پھر یورپی ملکوں میں عورتوں کی ووٹر لسٹوں میں شمولیت کا عمل شروع ہوا۔ سال 1965میں امریکہ میں ووٹنگ رائٹ ایکٹ کے تحت ووٹرز کی اہلیت کے لیے نسلی امتیاز کا قانون متروک کر دیا گیا ۔ اسی تسلسل میں ترقی یافتہ ملکوں میں بلاامتیاز ایک انسان ایک ووٹ کے حق کو انتخابی چارٹر کا حصہ بنایا گیا۔ ایک انسان ایک ووٹ کا قانون رائج ہونے کے بعد اکثر ملکوں میں ووٹر کی عمر 21 سال مقرر کی گئی لیکن دوسری جنگ عظیم کے بعد مختلف ملکوں میں ووٹر کی عمر 18سال طے کرنے کا آغاز ہوا۔ اکتوبر 2020 ء میں دنیا کے 237ملکوں کا ایک جائزہ لیا گیا جس کے مطابق ، پاکستان سمیت205ملک ایسے ہیں جہاں ووٹر کی عمر کی حد 18سال ہے۔ ان ملکوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جہاں ووٹر کی عمر کی حد 16یا 17برس کر دی گئی ہے۔ متحدہ عرب امارات میں گو کہ حکومت یا اسمبلی کا انتخاب ووٹوں کے ذریعے نہیں ہوتا لیکن وہاں فیڈرل نیشنل کونسل کے نام سے مجلس شوریٰ کے ارکان کا انتخاب کرنے کے لیے رائے دہندگان کی عمر کی حد 25برس رکھی گئی ہے۔
پاکستان میں جب ووٹر کی عمر 21سال سے کم کر کے 18مقرر کی گئی تو یہ کہا گیا تھا کہ ہمارے ملک نے اب مثالی جمہوری نظام کے قیام کی طرف سفر شروع کر دیا ہے۔ ووٹر کی عمر 18سال مقرر ہونے کے بعد بھی یہاں جتنے الیکشن منعقد ہوئے ان سب کے نتائج کو انجینئرڈ دھاندلی سے منسوب کیا گیا۔ ہمارے جمہوری نظام کے ساتھ وابستہ اس طرح کے شکوک و شبہات کو ختم کرنے کی بجائے اگر ووٹر کی عمر 18سے بڑھا کر 25سال کی گئی تو یہ عمل دنیا میں ہماری مزید جگ ہنسائی کا باعث بننے کے ساتھ یہ تاثر بھی جھوڑے گا کہ ہم پاکستان کو مستقبل میں شفاف جمہوری نظام کا حامل ملک بنانے کی بجائے اسے واپس ماضی کے اندھیروں میں دھکیل دینا چاہتے ہیں۔





