نسک کارڈ اور حاجی

نسک کارڈ اور حاجی
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
جیسا کہ آپ جانتے ہیں حج کو چند روز باقی ہیں دنیا بھر سے لاکھوں عازمین حج مکہ مکرمہ پہنچ چکے ہیں۔ جوں جوں حج قریب آرہا ہے ضیوف الرحمٰن کے دلوں کی دھڑکنیں تیز ہو رہی ہیں۔ بس ایک ہی تمنا دل میں ہوتی ہے وہ کسی طرح عرفات میں پہنچ جائیں اور وقوف عرفہ کرکے حج کی سعادت سے بہرہ ور ہو جائیں۔ دنیا کا کوئی مذہب ایسا نہیں جس کو ماننے والے اتنی بڑی تعداد میں حق تعالیٰ کی رضا او ر اپنے گناہوں کی معافی کے لئے اللہ سبحانہ تعالیٰ کے حضور حاضری دیتے ہوں۔ عرفات کا دن ایک ایسا روز ہے جس کے لئے مسلمان زندگی بھر انتظار میں رہتے ہیں وہ کسی طرح اپنے خالق کو راضی کرنے کے لئے عرفہ کے دن میدان عرفات میں پہنچ جائیں۔ مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہیں جب عمرہ کے لئے جانے والے زائرین کی بہت بڑی تعداد رمضان المبارک کے بعد مکہ مکرمہ میں ٹھہر جاتی تھی تاکہ وہ کسی طرح حج کی سعادت حاصل کر سکیں، لیکن اب ایسا ممکن نہیں رہا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ سعودی حکومت نے بہت سختی کر دی ہے۔ دراصل سعودی حکومت کا مقصد دنیا کے گوشے گوشے سے آنے والے اللہ تعالیٰ کے مہمانوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرکے ان کے لئے فریضہ حج کی ادائیگی آسان بنا نا مقصود ہے۔ سعودی حکومت اگر عمرہ زائرین اور مقامی طور پر رہنے والے اسلامی ملکوں کے لوگوں پر حج کی پابندیاں نہ لگائے تو حج کے لئے آنے والوں کے لئے مشکلات کا بڑھ جانا قدرتی امر ہے۔ چنانچہ اسی خدشے کے پیش نظر آج کل ہر حاجی کو ایک نسک کارڈ فراہم کیا جاتا ہے جس کے بغیر حجاج کرام نہ تو مسجد الحرام نہ ہی مسجد نبویؐ میں داخل ہو سکتے ہیں۔ آپ یقین کریں امسال تو جو لوگ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں حصول روزگار کے لئے گئے ہوئے ہیں انہیں بغیر تصریع لئے گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔ حجاج کرام کے رش کے پیش نظر سعودی حکومت ان دنوں عزیزیہ سے حجاج کو مسجد الحرام لانے والی بسوں کی آمدورفت بند کر دیتی ہے۔ گزشتہ روز سے حجاج کرام اپنے انتظام کے تحت عزیزیہ سے مکہ مکرمہ آرہے ہیں۔ ایک وقت تھا جب پاکستان سے جانے والے حجاج مکہ مکرمہ قرب و جوار میں ہوٹلوں اور عام عمارات میں قیام کرتے تھے مگر اب سعودی حکومت نے کئی کئی میل ان عمارات کی بجائے فائیو اسٹار ہوٹل تعمیر کر دیئے ہیں جہاں ایک عام حاجی کے لئے قیام کرنا مشکل ہوتا ہے۔ منی روانگی سے تین روز قبل تک مکہ مکرمہ میں ہوٹلز میں تین روز ہ قیام کا کرایہ دس سے پندرہ ہزار ریال مقرر ہے جو ایک عام حاجی کی دسترس سے باہر ہے۔ قدم قدم پر سعودی پولیس کے اہلکار کھڑے دکھائی دیتے ہیں، وہ ہر آنے والے کا نسک کارڈ چیک کرنے کے بعد اسے حرم شریف کی طرف جانے کی اجازت دیتے ہیں۔ پاکستانی حجاج کی بہت کم تعداد ایسی ہے جو ان دنوں عزیزیہ سے مسجد الحرام تک آرہی ہے کیونکہ ٹرانسپورٹ بند ہونے سے آنے جانے کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے ۔ حجاج نے چوبیس مئی کی شام سے منی روانگی شروع کر دینی ہے لہذا دو روز بہت کم تعداد حاجیوں کی مکہ مکرمہ آنے کو ترجیح دیتی ہے۔ عام طور پر سعودی حکومت یکم ذوالحجہ کو عزیزیہ سے مکہ مکرمہ آنے والی ٹرانسپورٹ بند کر دیتی ہے مگر اس مرتبہ گزشتہ روز سے بسوں کی آمدورفت بند کر دی گئی ہے۔ دنیا بھر سے آنے والے حق تعالیٰ کے مہمان اب یوم عرفہ کے منتظر ہیں کہ وہ وقوف عرفہ کر سکیں۔ جو لوگ حج کی سعادت حاصل کر چکے ہیں ایک عجیب منظر ہوتا ہے، مرد و خواتین اپنے خالق کو راضی کرنے کی جستجو میں ہوتے ہیں۔ کسی کو کسی کی طرف دیکھنے کی فرصت نہیں ہوتی، بس ایک ہی مقصد ہوتا ہے، وہ آنسوئوں کی جھڑی میں اپنے خالق کو راضی کر سکیں۔ یوم عرفات کی فضیلت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد اگر کوئی عرفات میں نہیں وقوف نہیں کرے گا اس کا حج نہیں ہوتا۔ جب کہ سعودی حکومت کی ذمہ داری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے اگر کوئی حاجی شدید علیل ہے تو بھی اسے مکہ مکرمہ سے آکیسجن کے ٹینٹ میں براہ راست عرفات میں وقوف کے لئے لے جایا جاتا ہے تاکہ اس کا حج ضائع نہ ہو۔ چنانچہ عرفہ کے دن کی اہمیت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے۔ رسالت مآبؐ نے عرفہ میں جبل رحمت پر اپنا تاریخی خطبہ ارشاد فریایا تھا، جو بنی نوع انسان کے لئے تا قیامت مشعل راہ ہے۔ بنی کریمؐ نے ارشاد فرمایا تھا، میں تمہارے درمیان ایک ایسی کتاب چھوڑے جا رہا ہوں اگر تم اسے تھامے رکھوں گے کبھی گمراہ نہیں ہو گئے۔ آپ غور کریں آج امت مسلمہ نے اللہ سبحانہ تعالیٰ کے احکامات اور سرکار دو جہاںؐ کے فرمودات کو بھلا رکھا ہے، شائد اسی لئے امہ زوال پذیر ہے۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ تعداد میں ہونے کی باوجود اغیار کے دست نگر ہیں۔ ان دنوں مکہ مکرمہ میں تل دھرنے کو جگہ نہیں ملتی خصوصا منیٰ روانگی سے دو روز پہلے ہوٹلوں کے کرایوں میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ وہ لوگ جو چند روز کے لئے آتے ہیں وہ مکہ مکرمہ میں ایک دو روز قیام کے بعد منی میں چلے جاتے ہیں۔ بعض سعودی مکہ مکرمہ سے براہ راست میدان عرفات میں چلے جاتے ہیں جو حج کو رکن اعظم ہے۔ ایک ہی لباس اور ایک ہی خالق کے پیروکار وقوف کے بعد مغرب اور عشاء کی نمازوں کی ادائیگی کے لئے مزدلفہ روانہ ہو جاتے ہیں، جہاں مغرب اور عشاء کی قصر نمازوں کو ادا کرنے کے بعد منعم حقیقی سے اپنے گناہوں کے بخشیش کے لئے رات بھر عبادات میں مصروف رہتے ہیں۔ اگلی صبح فجر کی نماز اور سورج کے طلوع ہوتے ہی منیٰ میں جمرات کی رمی کے لئے روانہ ہو جاتے ہیں۔ جمرات کے قریب اب بھگڈر کے بہت امکانات ختم ہو گئے ہیں، جس راستے سے حجاج کنکریاں مارنے کے لئے جاتے ہیں، اس راستے سے انہیں واپس آنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا وہ ہم سب کو حج کی سعادت سے بہرہ مند فرمائے، آمین۔





