Column

سندھ طاس معاہدہ، بھارتی آبی جارحیت اور پاکستان کی سفارتی کامیابی

سندھ طاس معاہدہ، بھارتی آبی جارحیت اور پاکستان کی سفارتی کامیابی
غلام مصطفیٰ جمالی
برصغیر کی تقسیم کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جن مسائل نے مسلسل کشیدگی کو جنم دیا، ان میں پانی کا مسئلہ سب سے حساس، پیچیدہ اور خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ زراعت، معیشت، توانائی، صنعت اور انسانی زندگی کی بنیاد ہے۔ پاکستان جیسے زرعی ملک کے لیے دریائوں کا پانی شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی، آبی منصوبوں کی تعمیر یا دریاں کے بہائو میں مداخلت کی خبریں سامنے آتی ہیں تو پاکستان میں شدید تشویش پیدا ہو جاتی ہے۔ حالیہ دنوں بین الاقوامی ثالثی عدالت کی جانب سے رتلے اور کشن گنگا منصوبوں کے معاملے پر کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی، قانونی اور اخلاقی کامیابی کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس فیصلے نے نہ صرف پاکستان کے موقف کو تقویت دی بلکہ دنیا پر یہ بھی واضح کر دیا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کے تحت حاصل اختیارات سے تجاوز نہیں کر سکتا۔
سندھ طاس معاہدہ انیس سو ساٹھ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا۔ اس معاہدے کو دنیا کے کامیاب ترین آبی معاہدوں میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان جنگوں، سیاسی کشیدگی اور سفارتی تنا کے باوجود یہ معاہدہ برقرار رہا۔ اس معاہدے کے تحت سندھ، جہلم اور چناب کے دریائوں کا حق پاکستان کو دیا گیا جبکہ راوی، بیاس اور ستلج بھارت کے حصے میں آئے۔ معاہدے کے مطابق بھارت کو مغربی دریائوں پر محدود نوعیت کے منصوبے بنانے کی اجازت ہے لیکن وہ ایسا کوئی ڈھانچہ تعمیر نہیں کر سکتا جس سے پاکستان کے پانی کے بہائو کو نقصان پہنچے یا اسے روکنے کی صلاحیت حاصل ہو جائے۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس پر پاکستان مسلسل اپنے تحفظات پیش کرتا رہا ہے۔
بھارت نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران مقبوضہ کشمیر میں متعدد آبی منصوبے شروع کیے جن میں بگلیہار، کشن گنگا اور رتلے منصوبے خاص طور پر متنازع بنے۔ پاکستان کا موقف یہ رہا کہ ان منصوبوں کے ڈیزائن سندھ طاس معاہدے کی روح کے خلاف ہیں کیونکہ ان کے ذریعے بھارت کو پانی ذخیرہ کرنے اور بہائو کو کنٹرول کرنے کی اضافی صلاحیت حاصل ہو سکتی ہے۔ پاکستان نے بارہا اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی مگر بھارت کی جانب سے غیر سنجیدہ رویہ اختیار کیا گیا۔ آخرکار پاکستان نے عالمی فورمز سے رجوع کیا اور ثالثی عدالت میں اپنا مقدمہ پیش کیا۔
حالیہ فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ پاکستان کے اعتراضات قابل سماعت ہیں اور بھارت یکطرفہ طور پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ عدالت کو اس معاملے پر اختیار حاصل نہیں۔ عدالت کا یہ فیصلہ دراصل پاکستان کے موقف کی بڑی توثیق ہے کیونکہ بھارت مسلسل یہ موقف اپناتا رہا کہ یہ تنازع غیر جانبدار ماہر کے ذریعے حل ہونا چاہیے، جبکہ پاکستان کا کہنا تھا کہ معاملہ صرف تکنیکی نہیں بلکہ قانونی اور معاہداتی نوعیت کا بھی ہے۔ عدالت نے کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ دے کر بھارت کے اس موقف کو کمزور کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان کا مقدمہ محض سیاسی نہیں بلکہ سائنسی اور قانونی بنیادوں پر مضبوط ہے۔ پاکستان نے عدالت میں تفصیلی تکنیکی شواہد پیش کیے، آبی ماہرین کی رپورٹس جمع کرائیں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ بھارتی منصوبوں کے مخصوص ڈیزائن مستقبل میں پاکستان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ عدالت نے ان نکات کو سنجیدگی سے لیا اور بھارت کو معلومات کی فراہمی کا پابند قرار دیا۔ اس سے پاکستان کو مستقبل میں اپنے تحفظات مزید موثر انداز میں پیش کرنے کا موقع ملے گا۔
بھارت کی آبی پالیسی پر اگر غور کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ نئی دہلی پانی کو ایک اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ کئی بھارتی رہنما ماضی میں یہ بیانات دے چکے ہیں کہ پاکستان کو اس کا حصہ کا پانی نہیں ملنا چاہیے۔ بعض مواقع پر بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکیاں بھی دیں۔ اگرچہ عالمی قوانین اور معاہدے اسے مکمل طور پر ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتے، لیکن عملی طور پر بھارت مختلف منصوبوں کے ذریعے دبائو بڑھانے کی حکمت عملی اپناتا رہا ہے۔
پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت پر ہے اور زراعت کا دارومدار دریائی پانی پر قائم ہے۔ پنجاب اور سندھ کے وسیع زرعی علاقے انہی دریاں سے سیراب ہوتے ہیں۔ اگر پانی کے بہائو میں کمی آتی ہے تو اس کے اثرات صرف کھیتی باڑی تک محدود نہیں رہتے بلکہ خوراک کی پیداوار، برآمدات، روزگار اور دیہی معیشت بھی متاثر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام پانی کے معاملے کو قومی سلامتی کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔
اس وقت پاکستان پہلے ہی پانی کی قلت کا شکار ہے۔ آبادی میں تیزی سے اضافہ، موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کے پگھلائو اور ناقص آبی انتظام نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے کئی مرتبہ خبردار کر چکے ہیں کہ پاکستان مستقبل میں شدید آبی بحران کا سامنا کر سکتا ہے۔ ایسے حالات میں اگر بھارت کی جانب سے پانی کے بہائو پر اثر انداز ہونے والے منصوبے تعمیر کیے جاتے ہیں تو پاکستان کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان نے طویل عرصے تک اپنی آبی پالیسی کو مطلوبہ ترجیح نہیں دی۔ بڑے آبی ذخائر کی تعمیر میں تاخیر، پانی کے ضیاع، پرانے نہری نظام اور ناقص منصوبہ بندی نے صورتحال کو پیچیدہ بنایا۔ اگرچہ بھارت کی آبی جارحیت ایک حقیقت ہے لیکن پاکستان کو اپنے داخلی مسائل پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ صرف عالمی عدالتوں میں مقدمات جیتنا کافی نہیں بلکہ ملک کے اندر پانی کے موثر استعمال اور ذخیرہ اندوزی کے نظام کو بہتر بنانا بھی ناگزیر ہے۔
حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کی سفارت کاری کو بھی تقویت دی ہے۔ دنیا بھر میں یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی پاسداری چاہتا ہے جبکہ بھارت بعض معاملات میں جارحانہ طرز عمل اختیار کر رہا ہے۔ اس فیصلے کے بعد پاکستان کو چاہیے کہ وہ عالمی برادری کو مزید موثر انداز میں اعتماد میں لے اور پانی کے مسئلے کو انسانی بقا سے جوڑ کر پیش کرے۔
ماہرین کے مطابق آنے والے برسوں میں دنیا میں پانی پر تنازعات میں اضافہ ہوگا۔ مشرق وسطیٰ، افریقہ اور جنوبی ایشیا میں پانی مستقبل کی سیاست کا اہم ترین عنصر بنتا جا رہا ہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں، اس لیے ان کے درمیان پانی کا تنازع خطے کے امن کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری سندھ طاس معاہدے کو برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔
بھارت کی جانب سے رتلے اور کشن گنگا جیسے منصوبوں کی تعمیر کو پاکستان صرف تکنیکی معاملہ نہیں سمجھتا بلکہ اسے اسٹریٹجک دبا کا حصہ قرار دیتا ہے۔ اگر کسی ملک کو یہ صلاحیت حاصل ہو جائے کہ وہ دوسرے ملک کے پانی کے بہا کو محدود یا متاثر کر سکے تو یہ صورتحال مستقبل میں سیاسی بلیک میلنگ کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ پاکستان اسی خطرے کی نشاندہی کرتا رہا ہے۔
پاکستانی عوام کے لیے یہ امر اطمینان بخش ہے کہ بین الاقوامی عدالت نے پاکستان کے اعتراضات کو نظر انداز نہیں کیا۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ اگر کوئی ملک مضبوط تیاری، شواہد اور قانونی دلائل کے ساتھ عالمی فورمز پر اپنا مقدمہ پیش کرے تو اسے سنا جاتا ہے۔ پاکستان کو اس کامیابی کو ایک مستقل حکمت عملی کا حصہ بنانا ہوگا۔
اس سارے معاملے میں ایک اور اہم پہلو پاکستان کی داخلی سیاسی اور معاشی صورتحال بھی ہے۔ حالیہ دنوں ملکی کرنٹ اکائونٹ مسلسل تین ماہ سرپلس رہنے کے بعد دوبارہ خسارے میں چلا گیا ہے۔ مہنگائی، بیرونی قرضی، توانائی بحران اور معاشی دبا نے پہلے ہی عوام کو مشکلات میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایسے وقت میں پانی کے مسئلے پر کسی قسم کی غیر یقینی صورتحال معیشت پر مزید منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
پاکستان میں بجلی کی پیداوار کا ایک بڑا حصہ پن بجلی سے حاصل کیا جاتا ہے۔ اگر دریاں کے بہائو میں کمی آتی ہے تو نہ صرف زراعت متاثر ہوگی بلکہ بجلی کی پیداوار بھی کم ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں صنعتی سرگرمیاں متاثر ہوں گی، بے روزگاری بڑھے گی اور معاشی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آبی تنازع دراصل قومی بقا کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اس عدالتی کامیابی کو محض وقتی فتح سمجھنے کے بجائے طویل المدتی حکمت عملی مرتب کرے۔ ملک میں نئے ڈیموں کی تعمیر، پانی کے ضیاع کی روک تھام، جدید آبپاشی نظام، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے منصوبے اور آبی سفارت کاری کو قومی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔ ساتھ ہی نوجوان نسل میں پانی کی اہمیت کے حوالے سے شعور بیدار کرنا بھی ضروری ہے۔
پاکستان کو چاہیے کہ وہ عالمی ماحولیاتی اداروں، اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ مل کر جنوبی ایشیا میں پانی کے تحفظ کے لیے موثر آواز بلند کرے۔ موسمیاتی تبدیلی نے پورے خطے کو متاثر کیا ہے۔ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور بارشوں کے غیر متوازن نظام نے پانی کے مسائل کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ اگر علاقائی ممالک نے دانشمندی کا مظاہرہ نہ کیا تو آنے والے برسوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
پاکستانی قیادت کے لیے یہ لمحہ غور و فکر بھی ہے۔ قومی سلامتی صرف سرحدوں کے دفاع سے وابستہ نہیں بلکہ پانی، خوراک اور معیشت کا تحفظ بھی اس کا حصہ ہے۔ اگر پاکستان اپنے آبی وسائل کے تحفظ میں ناکام رہتا ہے تو مستقبل میں مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی سطح پر آبی پالیسی ترتیب دی جائے۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان اعتماد کا فقدان پہلے ہی شدید ہے۔ ایسے ماحول میں آبی تنازعات دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔ اگرچہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں لیکن پانی جیسا حساس مسئلہ جذبات کو بھڑکا سکتا ہے۔ اس لیے دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی پاسداری کریں اور مسائل کا حل مذاکرات اور قانونی ذرائع سے تلاش کریں۔
بین الاقوامی عدالت کے حالیہ فیصلے نے پاکستان کو اخلاقی اور قانونی برتری ضرور دی ہے مگر اصل کامیابی تب ہوگی جب پاکستان اپنے داخلی نظام کو بھی مضبوط کرے گا۔ آبی وسائل کا بہتر انتظام، شفاف منصوبہ بندی، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور قومی یکجہتی ہی پاکستان کو مستقبل کے آبی خطرات سے محفوظ بنا سکتی ہے۔
یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ پانی زندگی ہے اور زندگی پر کسی بھی قسم کا خطرہ پوری قوم کے مستقبل کو متاثر کرتا ہے۔ سندھ طاس معاہدہ صرف ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں سے جڑا ہوا معاہدہ ہے۔ اگر اس معاہدے کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے اثرات صرف پاکستان یا بھارت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔
پاکستان نے اس مقدمے میں ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر قانونی اور سفارتی راستہ اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کامیابی کو قومی بیداری، موثر پالیسی سازی اور عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے تاکہ آنے والی نسلوں کو محفوظ اور مستحکم مستقبل فراہم کیا جا سکے۔

جواب دیں

Back to top button