حکومت اور اپوزیشن کے درمیان برف پگھلنے لگی

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان برف پگھلنے لگی
غلام مصطفیٰ جمالی
پاکستان کی سیاست ایک مرتبہ پھر ایسے موڑ پر کھڑی دکھائی دے رہی ہے جہاں مسلسل کشیدگی، الزام تراشی، سیاسی محاذ آرائی اور بے یقینی کے ماحول کے درمیان مذاکرات کی نئی کوشش نے سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ حکومت کی جانب سے اپوزیشن کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دینا بظاہر ایک معمول کی سیاسی سرگرمی محسوس ہوتی ہے، لیکن درحقیقت اس کے اثرات ملکی سیاست، جمہوری عمل اور قومی استحکام پر گہرے مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس پیش رفت کو محض رسمی رابطہ نہیں بلکہ ایک ممکنہ سیاسی تبدیلی کے آغاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کو ملاقات کا پیغام بھجوایا گیا اور انہیں وزیراعظم آفس یا وزیراعظم ہائوس میں ملاقات کی دعوت دی گئی۔ اپوزیشن لیڈر نے اگرچہ وزیراعظم ہائوس میں ملاقات سے معذرت کر لی، تاہم غیر جانبدار مقام پر ملاقات کی تجویز دے کر انہوں نے مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا۔ ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر رانا ثناء اللہ کی رہائشگاہ پر ملاقات پر آمادگی ظاہر کی گئی۔ اس پیش رفت نے کئی سیاسی سوالات کو جنم دیا ہے کہ آیا یہ مذاکرات واقعی کسی بڑی سیاسی مفاہمت کا آغاز ہیں یا پھر صرف وقتی سیاسی ضرورت کے تحت شروع کیے گئے رابطے ہیں۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ یہاں مذاکرات کی روایت ہمیشہ موجود رہی لیکن اعتماد کی کمی نے اکثر کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ حکومتیں اور اپوزیشن جماعتیں ایک دوسرے پر بداعتمادی کا اظہار کرتی رہیں، جس کے باعث سیاسی بحران مزید گہرے ہوتے گئے۔ ماضی میں بھی کئی بار مذاکراتی عمل شروع ہوا لیکن سیاسی ضد، ذاتی انا اور اقتدار کی کشمکش نے معاملات کو بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب کیا۔ یہی وجہ ہے کہ عوام اب مذاکرات کے دعوئوں سے زیادہ عملی نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔
اس وقت ملک جن حالات سے گزر رہا ہے، ان میں سیاسی استحکام کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ پاکستان شدید معاشی دبائو، مہنگائی، بے روزگاری، سرمایہ کاری میں کمی، توانائی بحران اور عوامی بے چینی جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں سیاسی قوتوں کے درمیان مسلسل محاذ آرائی نہ صرف جمہوری نظام کو کمزور کرتی ہے بلکہ معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطوں کو کاروباری طبقہ، سرمایہ کار اور عام عوام بھی امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پیغام رسانی گزشتہ ہفتے ہوئی اور متوقع ملاقات میں سیاسی صورتحال کے ساتھ ساتھ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ممبران کی تقرری جیسے اہم معاملات بھی زیر غور آئیں گے۔ یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ پاکستان میں ہر انتخاب کے بعد انتخابی عمل پر اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں۔ کوئی جماعت دھاندلی کا الزام لگاتی ہے تو کوئی الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سوال اٹھاتی ہے۔ اس تناظر میں اگر حکومت اور اپوزیشن انتخابی نظام پر اعتماد بحال کرنے کے لیے سنجیدہ مذاکرات کرتے ہیں تو یہ جمہوریت کے لیے ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے۔
پاکستان میں سیاسی کشیدگی صرف پارلیمنٹ تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ جب سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف نفرت انگیز بیانات دیتی ہیں تو معاشرے میں تقسیم بڑھتی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی سیاسی کارکن ایک دوسرے کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے ہیں، جس سے برداشت کا کلچر کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی مذاکرات کو صرف سیاسی قیادت تک محدود معاملہ نہیں سمجھا جا رہا بلکہ اسے قومی ہم آہنگی کے لیے بھی ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔
محمود خان اچکزئی کی سیاست ہمیشہ جمہوری اصولوں اور پارلیمانی بالادستی کے گرد گھومتی رہی ہے۔ وہ اکثر سیاسی مسائل کے حل کے لیے مکالمے پر زور دیتے رہے ہیں۔ ان کی جانب سے غیر جانبدار مقام پر ملاقات کی تجویز کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ یہ دراصل ایک علامتی پیغام ہے کہ اپوزیشن خود کو کمزور فریق کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہتی بلکہ برابری کی بنیاد پر مذاکرات کی خواہاں ہے۔
دوسری طرف حکومت بھی اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی اصلاحات کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ عالمی مالیاتی ادارے، غیر ملکی سرمایہ کار اور بین الاقوامی طاقتیں بھی پاکستان میں سیاسی استحکام کو انتہائی اہمیت دیتی ہیں۔ اگر ملک میں مسلسل احتجاج، دھرنے اور سیاسی بحران جاری رہیں گے تو اس کا براہ راست اثر معیشت پر پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت شاید اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ رابطے بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پاکستان میں جمہوریت کی مضبوطی ہمیشہ ایک بڑا چیلنج رہی ہے۔ یہاں سیاسی نظام اکثر غیر یقینی صورتحال کا شکار رہا اور جمہوری ادارے مکمل طور پر مستحکم نہیں ہو سکے۔ اس کی ایک بڑی وجہ سیاسی قوتوں کے درمیان اتفاق رائے کا فقدان بھی ہے۔ سیاسی جماعتیں اقتدار میں آنے کے بعد اکثر وہی رویے اختیار کر لیتی ہیں جن پر وہ اپوزیشن میں تنقید کرتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کا سیاسی نظام پر اعتماد کمزور ہوا ہے۔
اگر حکومت اور اپوزیشن واقعی سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کا عمل آگے بڑھاتے ہیں تو اس کے کئی مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ سیاسی ماحول میں کشیدگی کم ہوگی اور قومی مسائل پر مشترکہ حکمت عملی بنانے کی راہ ہموار ہوگی۔ معیشت، انتخابی اصلاحات، پارلیمانی نظام، عدالتی اصلاحات اور صوبائی خودمختاری جیسے معاملات پر سیاسی قوتوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان کی سیاست میں ایک اہم مسئلہ یہ بھی رہا ہے کہ یہاں اپوزیشن کو اکثر دشمن سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ جمہوریت میں اپوزیشن ریاست کے خلاف نہیں بلکہ حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والی آئینی قوت ہوتی ہے۔ ترقی یافتہ جمہوری معاشروں میں حکومت اور اپوزیشن قومی مفاد کے معاملات پر ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر فیصلے کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی اگر یہی روایت مضبوط ہو جائے تو جمہوریت مزید مستحکم ہو سکتی ہے۔
سیاسی مذاکرات کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریق لچک کا مظاہرہ کریں۔ اگر حکومت صرف اپنی شرائط منوانے کی کوشش کرے گی یا اپوزیشن صرف سیاسی فائدے کے لیے مذاکرات میں شامل ہوگی تو اس عمل کے مثبت نتائج سامنے نہیں آئیں گے۔ اس وقت ملک کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے سنجیدہ قیادت کی ضرورت ہے۔
رانا ثناء اللہ کی رہائشگاہ پر ممکنہ ملاقات کی اطلاعات بھی خاصی اہمیت اختیار کر چکی ہیں۔ رانا ثناء اللہ کو حکومت اور اپوزیشن دونوں حلقوں میں ایک تجربہ کار مذاکراتی سیاست دان سمجھا جاتا ہے۔ ماضی میں بھی کئی سیاسی تنازعات میں انہوں نے رابطہ کار کا کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی رہائشگاہ کو ممکنہ ملاقات کے لیے موزوں مقام قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے چند ہفتے پاکستان کی سیاست کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ سیاسی درجہ حرارت کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے، لیکن اگر یہ عمل ناکام ہوا تو سیاسی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت تمام نظریں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے ممکنہ رابطوں پر مرکوز ہیں۔
عوام کی اکثریت اب سیاسی لڑائیوں سے تنگ آ چکی ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ سیاست دان اپنی توانائیاں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے بجائے عوامی مسائل کے حل پر صرف کریں۔ مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنا دی ہے، نوجوان بے روزگاری سے پریشان ہیں، کاروباری طبقہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے جبکہ متوسط طبقہ شدید معاشی دبا برداشت کر رہا ہے۔ ایسے میں اگر سیاسی قیادت مذاکرات کے ذریعے استحکام پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ ملک کے لیے خوش آئند پیش رفت ہوگی۔
پاکستان کو اس وقت صرف سیاسی نعروں کی نہیں بلکہ سنجیدہ اور ذمہ دار قیادت کی ضرورت ہے۔ اگر سیاسی قوتیں ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دیں تو ملک کے کئی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ مذاکرات کا عمل اسی سوچ کی طرف پہلا قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ سیاسی استحکام صرف حکومت کے لیے نہیں بلکہ پوری ریاست کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ جب ملک میں سیاسی بحران بڑھتے ہیں تو اس کے اثرات خارجہ پالیسی، معیشت، سرمایہ کاری اور داخلی سلامتی تک پہنچتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی ممالک اپنے سیاسی اختلافات کے باوجود قومی معاملات پر ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
پاکستان کی سیاست اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہی ہے۔ اگر موجودہ مذاکراتی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو یہ مستقبل کی سیاست کے لیے ایک نئی مثال بن سکتی ہیں۔ لیکن اگر یہ عمل ماضی کی طرح ناکام ہوا تو عوام کا سیاسی نظام پر اعتماد مزید کمزور ہو سکتا ہے۔
آخرکار حقیقت یہی ہے کہ جمہوریت میں مسائل کا حل مذاکرات ہی کے ذریعے نکلتا ہے۔ سیاسی قوتیں چاہے کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہوں، وہ مستقل طور پر ایک دوسرے کو نظر انداز نہیں کر سکتیں۔ پاکستان جیسے متنوع اور پیچیدہ سیاسی معاشرے میں مکالمہ ہی استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان برف پگھلنے کی حالیہ کوشش کو ملکی سیاست میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔





