Column

مہنگائی کے طوفان میں بجلی کا نیا جھٹکا

مہنگائی کے طوفان میں بجلی کا نیا جھٹکا
تحریر: رفیع صحرائی
اطلاعات کے مطابق حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے دبائو کے تحت بجلی کے دو سو یونٹس پر دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ پاکستان ایک ایسے نازک معاشی مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں ہر نیا حکومتی فیصلہ براہِ راست عام آدمی کی زندگی پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ ایک طرف حکومت عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط پوری کرنے، بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور معیشت کو سہارا دینے کے لیے کوشاں ہے تو دوسری طرف عوام مہنگائی، بے روزگاری، کم آمدنی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے ہاتھوں شدید ذہنی و معاشی دبائو کا شکار ہیں۔ ایسے حالات میں اگر ماہانہ دو سو یونٹ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے دی جانے والی سبسڈی ختم کر دی جاتی ہے تو یہ فیصلہ محض ایک مالیاتی اقدام نہیں بلکہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے ایک نئے بحران کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسا فیصلہ غریب اور متوسط طبقے کے معاشی قتل کے مترادف ہو گا۔ اطلاعات یہی بتا رہی ہیں کہ حکومت آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت بجلی کے شعبے میں مزید اصلاحات پر غور کر رہی ہے جن میں کم یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کو دی جانے والی رعایت کا خاتمہ بھی شامل ہے۔ بظاہر یہ اقدام حکومتی خزانے پر بوجھ کم کرنے کے لیے تجویز کیا جا رہا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کا سب سے زیادہ اثر اُن گھروں پر پڑے گا جہاں پہلے ہی چولہا جلانا مشکل ہو چکا ہے۔
آج بجلی کوئی عیش و عشرت نہیں بلکہ بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔ شدید گرمی میں پنکھا چلانا، پانی کی موٹر استعمال کرنا یا بچوں خصوصاً طلبہ کو رات میں روشنی فراہم کرنا بھی عام آدمی کی مجبوری ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں گرمی کی شدت مسلسل بڑھ رہی ہے وہاں بجلی کا استعمال کم کرنا اکثر ممکن ہی نہیں رہتا۔ ایسے میں اگر دو سو یونٹ تک استعمال کرنے والوں سے بھی سبسڈی واپس لے لی گئی تو لاکھوں گھرانوں کے بجٹ بری طرح متاثر ہوں گے۔ یہ فیصلہ صرف گھریلو صارفین تک محدود نہیں رہے گا۔ چھوٹے کاروبار، دکاندار، درزی، حجام، ویلڈر، موچی، ریڑھی بان اور روزانہ اجرت پر زندگی گزارنے والے مزدور بھی اس کی زد میں آئیں گے۔ ایک چھوٹا سا پنکھا، بلب یا سلائی مشین چلانے والا شخص بھی بجلی کے بڑھتے بلوں کے سامنے بے بس دکھائی دے گا۔ یوں معیشت کا وہ طبقہ، جو پہلے ہی کمزور بنیادوں پر کھڑا ہے مزید دبائو کا شکار ہو جائے گا۔
یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ آخر معاشی اصلاحات کا بوجھ ہمیشہ عام آدمی پر ہی کیوں ڈالا جاتا ہے؟ کیا ملک کے معاشی مسائل کی واحد وجہ وہ غریب صارف ہے جو بمشکل دو سو یونٹ بجلی استعمال کرتا ہے؟ کیا اشرافیہ کی مراعات، پروٹوکول، سرکاری عیاشیاں، خسارے میں چلنے والے قومی ادارے، ٹیکس چوری اور بجلی کی اربوں روپے کی لائن لاسز ختم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ ایک طرف غریب آدمی بجلی کا بل ادا کرنے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہے جبکہ دوسری طرف بااثر طبقے کے محلات، فارم ہائوسز اور سرکاری دفاتر بے دریغ بجلی استعمال کرتے ہیں۔ اگر حکومت واقعی معاشی استحکام چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے اخراجات کم کرنا ہوں گے۔ وزراء اور اعلیٰ حکام کی مراعات محدود کرنا، غیر ضروری سرکاری گاڑیوں اور پروٹوکول کا خاتمہ، بجلی چوری کے خلاف سخت کارروائی اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا وہ اقدامات ہیں جن سے اربوں روپے بچائے جا سکتے ہیں۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ ہر بار اصلاحات کا آغاز کمزور طبقے سے کیا جاتا ہے جبکہ طاقتور طبقہ بدستور مراعات سے لطف اندوز ہوتا رہتا ہے۔ یہی احساس محرومی عوام میں بے چینی اور بداعتمادی کو جنم دیتا ہے۔ اگر حکومت صرف آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے لیے غریب آدمی کی آخری سہولت بھی چھین لے گی تو اس کے سماجی اثرات انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔
ماہرین معیشت بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ معاشی اصلاحات میں انسانی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی کم آمدنی والے طبقات کو سبسڈی، فوڈ سپورٹ، صحت کی سہولتوں اور توانائی رعایتوں کے ذریعے تحفظ فراہم کیا جاتا ہے تاکہ مہنگائی کا بوجھ براہِ راست ان پر نہ پڑے۔ پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے، جہاں ریلیف امیر کے لیے اور قربانی غریب کے لیے مخصوص ہوتی جا رہی ہے۔
بجلی کی قیمتوں میں اضافہ صرف ایک بل بڑھانے کا مسئلہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے اثرات پورے معاشی نظام پر مرتب ہوتے ہیں۔ جب بجلی مہنگی ہوتی ہے تو صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھتی ہے، کاروبار سکڑتے ہیں، بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے اور مہنگائی کی نئی لہر جنم لیتی ہے۔ دیہی علاقوں میں، جہاں پہلے ہی بنیادی سہولیات کا فقدان ہے، ایسے فیصلے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت معاشی فیصلے کرتے وقت صرف مالیاتی اعداد و شمار نہ دیکھے بلکہ عوام کی قوتِ برداشت کو بھی مدنظر رکھے۔ اگر سبسڈی میں کمی ناگزیر ہے تو اس کے ساتھ متبادل ریلیف پیکیج بھی دیا جائے۔ احساس، بینظیر انکم سپورٹ اور دیگر سماجی تحفظ کے پروگراموں کو مزید موثر بنایا جائے۔ کم یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کے لیے مرحلہ وار اصلاحات متعارف کروائی جائیں تاکہ عوام اچانک معاشی جھٹکے کا شکار نہ ہوں۔ ریاست کی اصل طاقت اس کے خزانے سے زیادہ اس کے عوام کے اعتماد میں ہوتی ہے۔ جب ایک باپ اپنے بچوں کی تعلیم، علاج اور بجلی کا بل ادا کرنے کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہو جائے تو معاشی ترقی کے دعوے کھوکھلے محسوس ہونے لگتے ہیں۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ معاشی استحکام صرف اعداد و شمار سے نہیں بلکہ عام آدمی کے چہرے پر اطمینان سے آتا ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان میں ایسی معاشی پالیسی تشکیل دی جائے جس میں اصلاحات بھی ہوں اور رحم دلی بھی، استحکام بھی ہو اور سماجی انصاف بھی۔ کیونکہ اگر معاشی ترقی کی قیمت صرف غریب آدمی نے ہی ادا کرنی ہے تو پھر یہ ترقی نہیں، ایک ایسی معاشی ناانصافی ہے جس سے کمزور طبقہ پس کر رہ جائے گا۔

جواب دیں

Back to top button