پاکستانی عوام آئی ایم ایف کے رحم و کرم پر

پاکستانی عوام آئی ایم ایف کے رحم و کرم پر
تحریر : غلام مصطفیٰ جمالی
پاکستان کی معیشت ایک بار پھر ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں حکمران، ماہرینِ معیشت، تاجر برادری اور عام شہری سب ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیں کہ آخر یہ بحران کب ختم ہوگا؟ عالمی مالیاتی ادارہ International Monetary Fund یعنی آئی ایم ایف نے پاکستان سے دوبارہ سخت معاشی شرائط پوری کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جن میں ٹیکس نیٹ بڑھانا، بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہے۔ یہ مطالبات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ملک کا عام آدمی پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ مزدور، کسان، سرکاری ملازمین، چھوٹے تاجر اور متوسط طبقہ اپنی روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
پاکستان کی سیاسی اور معاشی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی ملک معاشی بحران میں مبتلا ہوا، حکمرانوں نے عالمی مالیاتی اداروں کے دروازے پر دستک دی۔ ہر بار قرض ملا، لیکن اس کے ساتھ ایسی شرائط بھی آئیں جن کا اصل بوجھ عوام پر ڈالا گیا۔ آج بھی صورتحال مختلف نہیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے بغیر معیشت کو سنبھالنا ممکن نہیں، جبکہ عوام کا کہنا ہے کہ یہ شرائط ان کی زندگی مزید دشوار بنا رہی ہیں۔
ٹیکس نیٹ بڑھانے کی بات بظاہر درست محسوس ہوتی ہے کیونکہ ہر ریاست کو اپنے اخراجات چلانے کے لیے آمدنی درکار ہوتی ہے، مگر پاکستان میں مسئلہ یہ ہے کہ ٹیکس کا بوجھ ہمیشہ انہی لوگوں پر ڈالا جاتا ہے جو پہلے ہی ٹیکس ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ بڑے جاگیردار، طاقتور کاروباری حلقے اور غیر دستاویزی معیشت سے وابستہ بااثر افراد اکثر ٹیکس نظام سے باہر رہتے ہیں، جبکہ تنخواہ دار طبقہ اور عام صارف ہر نئے ٹیکس کا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہوتا ہے۔
بجلی کی قیمتوں میں اضافہ پاکستانی عوام کے لیے کسی نئے عذاب سے کم نہیں۔ ملک میں پہلے ہی بجلی کے بل لوگوں کی قوتِ برداشت سے باہر ہو چکے ہیں۔ کئی خاندان ایسے ہیں جو بچوں کی تعلیم، علاج یا دیگر ضروریات قربان کرکے بجلی کے بل ادا کر رہے ہیں۔ صنعتکاروں اور تاجروں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتیں کاروبار تباہ کر رہی ہیں۔ چھوٹی فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں، پیداوار کم ہو رہی ہے اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔
گیس کی قیمتوں میں اضافہ بھی عوام کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوگا۔ پاکستان میں لاکھوں گھرانے کھانا پکانے اور دیگر ضروریات کے لیے گیس پر انحصار کرتے ہیں۔ گیس مہنگی ہونے سے گھریلو اخراجات کے ساتھ ساتھ صنعتوں کی پیداواری لاگت بھی بڑھے گی۔ ہوٹل، بیکریاں، کارخانے اور چھوٹے کاروبار متاثر ہوں گے، جس کا نتیجہ مزید مہنگائی کی صورت میں نکلے گا۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ پوری معیشت پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ جب پٹرول اور ڈیزل مہنگے ہوتے ہیں تو ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں، جس سے آٹا، سبزیاں، دالیں، چینی اور دیگر روزمرہ اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ پاکستان میں پہلے ہی مہنگائی خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے۔ ایسے میں مزید اضافے سے عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہو جائے گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلے مجبوری کے تحت کیے جا رہے ہیں۔ حکومتی نمائندوں کے مطابق اگر آئی ایم ایف کی شرائط پوری نہ کی گئیں تو پاکستان کو قرض نہیں ملے گا، زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو جائیں گے، روپے کی قدر مزید گر جائے گی اور معیشت شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔ بعض معاشی ماہرین بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ مالی نظم و ضبط کے بغیر معیشت کو مستحکم کرنا ممکن نہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ قربانی صرف عوام ہی کیوں دیں؟
پاکستان میں حکمران طبقے کے اخراجات، سرکاری پروٹوکول، غیر ضروری مراعات اور فضول خرچی اب بھی بدستور جاری ہے۔ اگر ملک واقعی معاشی بحران میں ہے تو سب سے پہلے حکمرانوں کو اپنے اخراجات کم کرنے چاہئیں۔ عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ جب ملک مشکل حالات سے گزر رہا ہے تو حکمران اشرافیہ کیوں شاہانہ انداز میں زندگی گزار رہی ہے؟۔
دنیا کے کئی ممالک نے آئی ایم ایف سے قرض لیا، مگر بعد میں اپنی معیشت کو مضبوط بنا کر اس انحصار سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ پاکستان میں بدقسمتی سے ہر حکومت نے وقتی اقدامات کیے، لیکن طویل المدتی معاشی منصوبہ بندی پر سنجیدگی سے کام نہ کیا گیا۔ صنعت، زراعت، تعلیم، ٹیکنالوجی اور برآمدات پر مستقل توجہ نہ دینے کے باعث ملک بار بار قرضوں کے جال میں پھنستا چلا گیا۔
زراعت پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے، مگر کسان آج بھی مسائل کا شکار ہیں۔ پانی کی قلت، کھاد اور بیج کی مہنگائی، بجلی کے بڑھتے نرخ اور فصلوں کے کم دام کسانوں کو شدید مشکلات میں مبتلا کیے ہوئے ہیں۔ اگر زراعت کو جدید بنیادوں پر استوار کیا جائے تو پاکستان نہ صرف غذائی خود کفالت حاصل کر سکتا ہے بلکہ برآمدات میں بھی اضافہ ممکن ہے۔
صنعتی شعبے کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ مہنگی بجلی، گیس کی کمی، بڑھتے ٹیکس اور غیر یقینی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے سرمایہ کار پریشان ہیں۔ کئی صنعتیں بند ہو چکی ہیں یا اپنی پیداوار کم کر چکی ہیں۔ اس کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے روزگار ہو رہے ہیں، اور بے روزگاری کے ساتھ غربت اور جرائم میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
عام شہری کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کی آمدنی وہی ہے مگر اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ایک تنخواہ دار شخص کے لیے گھر چلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بچوں کی تعلیم، دوائوں کے اخراجات، ٹرانسپورٹ، بجلی اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں روز بروز بڑھ رہی ہیں۔ لوگ ذہنی دبائو، مایوسی اور بے یقینی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ پاکستان آخر کب تک قرضوں کے سہارے معیشت چلائے گا؟ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ملک کو اپنے وسائل پر انحصار کرنا ہوگا۔ پاکستان کے پاس زرخیز زمین، معدنی وسائل، نوجوان آبادی اور اہم جغرافیائی حیثیت جیسی بے شمار صلاحیتیں موجود ہیں۔ اگر درست پالیسیاں اپنائی جائیں تو ملک معاشی طور پر مضبوط ہو سکتا ہے۔
سیاسی عدم استحکام نے بھی معاشی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ حکومتوں کی تبدیلی، پالیسیوں کا تسلسل نہ ہونا اور سیاسی کشیدگی نے سرمایہ کاری کے ماحول کو متاثر کیا ہے۔ جب تک سیاسی استحکام نہیں ہوگا، معاشی استحکام بھی ممکن نہیں ہوگا۔
عوام کو یہ احساس بھی ستا رہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے صرف اعداد و شمار دیکھتے ہیں جبکہ زمینی حقائق مختلف ہوتے ہیں۔ کسی بھی معاشی فیصلے کا اصل اثر عام آدمی کی زندگی پر پڑتا ہے۔ اگر پالیسیاں ایسی ہوں جو عوام سے جینے کا حق ہی چھین لیں تو وہ کتنی ہی معاشی طور پر درست کیوں نہ ہوں، عوام کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوتیں۔
پاکستان کے حکمرانوں کے لیے یہ وقت سنجیدہ فیصلوں کا ہے۔ ملک کو صرف قرض لے کر چلانا اب ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسی پالیسیاں بنائی جائیں جو پیداوار بڑھائیں، برآمدات میں اضافہ کریں، نوجوانوں کو روزگار فراہم کریں اور ٹیکس نظام کو منصفانہ بنائیں۔ اگر ٹیکس صرف غریب اور متوسط طبقے سے لیا جاتا رہا اور طاقتور طبقے بدستور بچتے رہے تو عوامی بے چینی میں اضافہ ہوتا رہے گا۔
آج پاکستانی عوام ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں ہر نئی صبح کے ساتھ نئی مہنگائی کا خوف جڑا ہوا ہے۔ لوگ پریشان ہیں کہ اگلے مہینے بجلی کا بل کتنا آئے گا، گیس کی قیمت کہاں تک پہنچے گی اور پیٹرول مزید کتنا مہنگا ہوگا۔ یہ صورتحال کسی بھی معاشرے کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے کیونکہ معاشی مایوسی بالآخر سماجی بے چینی کو جنم دیتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت عوام سے سچ بولے، قومی سطح پر معاشی اصلاحات پر اتفاقِ رائے پیدا کرے اور ایسے اقدامات کرے جن سے معیشت کو مستقل بنیادوں پر اپنے پاں پر کھڑا کیا جا سکی۔ بصورتِ دیگر پاکستان بار بار آئی ایم ایف کے دروازے پر دستک دیتا رہے گا اور عوام ہر چند سال بعد نئی مہنگائی، نئے ٹیکس اور نئے معاشی بوجھ کا سامنا کرتے رہیں گے۔







