تازہ ترینخبریںپاکستان

وفاقی بجٹ: حکومت کا سرکاری ملازمین کی تنخواہیں نہ بڑھانے پر غور

اسلام آباد: حکومت آئندہ بجٹ میں سرکاری و نجی شعبے کے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے لیے انکم ٹیکس کی شرح میں کمی اور قابلِ ٹیکس آمدن کی حد بڑھانے پر غور کر رہی ہے، جبکہ تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا امکان کم دکھائی دے رہا ہے۔

باخبر ذرائع کے مطابق وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بوجھ کم کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے، کیونکہ یہ طبقہ ریٹیلرز، تھوک فروشوں، برآمد کنندگان اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے مقابلے میں زیادہ ٹیکس ادا کرتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہ کرنے سے حاصل ہونے والی مالی گنجائش کو ٹیکس ریلیف دینے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ حکام کے مطابق اگر تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے تو ملازمین زیادہ ٹیکس سلیب میں چلے جائیں گے، جس سے ان کی حقیقی آمدن میں خاطر خواہ فرق نہیں پڑے گا۔

ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ کم ٹیکس شرح اور قابلِ ٹیکس آمدن کی حد میں اضافے کی صورت میں سرکاری ملازمین مالی طور پر نقصان میں نہیں رہیں گے بلکہ انہیں براہِ راست ریلیف ملے گا۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 60 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ نجی شعبے میں مہنگائی اور کم معاشی ترقی کے باعث اجرتوں میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔

حکام نے بتایا کہ ٹیکس پالیسی آفس اور بعض آزاد مشاورتی ادارے مختلف تجاویز پر کام کر رہے ہیں، جن پر 15 مئی سے شروع ہونے والے بجٹ مذاکرات میں آئی ایم ایف مشن کے ساتھ مشاورت کی جائے گی۔

جواب دیں

Back to top button