
مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر جنگ کے بادل گہرے ہونے لگے ہیں، جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں نئے اضافے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بھی تیزی سے بڑھنا شروع ہو گئی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے جنگ بندی اور تنازع کے خاتمے کے لیے دیے گئے جواب کو “مکمل طور پر ناقابلِ قبول” قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ ٹروتھ سوشل پر اپنے مختصر بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے نمائندوں کی جانب سے بھیجا گیا جواب کسی صورت قابل قبول نہیں۔
ایران نے اپنا جواب پاکستان کے ذریعے امریکہ تک پہنچایا تھا، جبکہ پاکستان اس تنازع میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ تاہم ایرانی اور امریکی مؤقف میں سخت اختلافات کے باعث سفارتی کوششیں ایک بار پھر خطرے میں پڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کبھی دشمن کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا مطلب شکست تسلیم کرنا نہیں بلکہ قومی مفادات اور ایرانی عوام کے حقوق کا تحفظ ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران نے امریکہ سے آبنائے ہرمز پر ایران کی حاکمیت تسلیم کرنے، جنگی نقصانات کا معاوضہ ادا کرنے، منجمد اثاثے بحال کرنے اور پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر ختم کیے بغیر جنگ کو ختم شدہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
امریکی صدر کی جانب سے ایرانی جواب مسترد کیے جانے کے فوراً بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 4 فیصد اضافے کے ساتھ 105 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ امریکی خام تیل بھی 99 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
ماہرین کے مطابق 28 فروری سے جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کی عملی بندش نے عالمی توانائی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ کشیدگی میں مزید اضافے کی صورت میں نہ صرف تیل بلکہ عالمی معیشت پر بھی سنگین اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق اگر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات بحال نہ ہوئے تو مشرقِ وسطیٰ ایک نئی اور بڑی جنگ کی طرف بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا پر پڑیں گے۔







