پاکستان ہمیشہ زندہ باد

پاکستان ہمیشہ زندہ باد
تحریر : امتیاز احمد شاد
پاکستان کی تاریخ قربانیوں، بہادری، اتحاد اور قومی غیرت سے بھری ہوئی ہے۔ جب بھی وطنِ عزیز کو کسی بیرونی خطرے کا سامنا ہوا، پاکستانی قوم نے اپنے اختلافات بھلا کر ایک مضبوط دیوار کی مانند دشمن کے سامنے کھڑے ہونے کا عملی مظاہرہ کیا۔ ’’ آپریشن بنیان مرصوص‘‘ بھی ایک ایسا ہی تاریخی معرکہ تھا جس نے دنیا پر واضح کر دیا کہ پاکستان نہ صرف ایک ایٹمی قوت ہے بلکہ ایک زندہ، بیدار اور متحد قوم بھی ہے۔ یہ وہ لمحے تھے جب دشمن نے پاکستان کی سالمیت، خودمختاری اور دفاعی طاقت کو کمزور سمجھنے کی غلطی کی، مگر اسے ایسا جواب ملا جس نے اس کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ پاکستان کی بہادر افواج، باشعور عوام، ذمہ دار میڈیا اور موثر سفارتکاری نے مل کر ثابت کیا کہ وطنِ عزیز کے دفاع کیلئے پوری قوم ایک صف میں کھڑی ہے۔
آپریشن بنیان مرصوص کے دوران پاک فضائیہ نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت، جدید حکمتِ عملی اور بے مثال جرات کا ایسا مظاہرہ کیا جسے تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔ پاک فضائیہ کے شاہین جب فضائوں میں بلند ہوئے تو دشمن کے جنگی عزائم لرز اٹھے۔ دشمن کو شاید یہ گمان تھا کہ وہ اپنی عددی برتری یا جدید ہتھیاروں کے ذریعے پاکستان پر دبا ڈال سکے گا، مگر پاکستانی شاہینوں نے چند ہی لمحوں میں اس کی سوچ بدل دی۔ دشمن کے چھ جنگی طیارے تباہ کر کے پاک فضائیہ نے نہ صرف اپنی فضائی برتری ثابت کی بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی دیا کہ پاکستان کی فضائی حدود کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنی والا کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اس کامیابی کے پیچھے صرف جدید ٹیکنالوجی نہیں بلکہ وہ جذبہ حب الوطنی تھا جو ہر پاکستانی سپاہی کے دل میں موجزن ہے۔
بری فوج نے بھی اس معرکے میں شجاعت اور بہادری کی نئی داستانیں رقم کیں۔ سرحدوں پر موجود جوانوں نے ہر خطرے کا سینہ تان کر مقابلہ کیا۔ شدید دبائو، سخت موسم اور مسلسل خطرات کے باوجود ان کے حوصلے بلند رہے۔ پاکستانی فوج ہمیشہ سے دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہے اور آپریشن بنیان مرصوص نے اس حقیقت کو مزید مضبوط کیا۔ جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر یہ ثابت کیا کہ وطن کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ شہداء کا خون اس دھرتی کی حفاظت کی ضمانت بن گیا اور قوم ہمیشہ ان قربانیوں کی مقروض رہے گی۔ غازیوں کی جرات نے نئی نسل کو یہ سبق دیا کہ پاکستان کی حفاظت صرف فوج کی نہیں بلکہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
پاک بحریہ نے بھی سمندری حدود میں دفاعِ وطن کے عزم کو پوری قوت سے برقرار رکھا۔ دشمن کو یہ بخوبی معلوم تھا کہ پاکستان کی بحری طاقت ہر ممکن جارحیت کا مثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسی لئے بحری سرحدوں پر ہر لمحہ مکمل نگرانی اور تیاری جاری رہی۔ پاک بحریہ کے افسران اور جوانوں نے سمندر میں دفاعی حصار قائم رکھا تاکہ دشمن کسی بھی قسم کی مہم جوئی کی ہمت نہ کر سکے۔ ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور دفاعی حکمتِ عملی نے ثابت کیا کہ پاکستان کی تینوں افواج ایک دوسرے کے ساتھ مکمل ہم آہنگی اور اتحاد کے ساتھ کام کرتی ہیں۔
اس جنگی ماحول میں پاکستانی میڈیا نے بھی نہایت اہم اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔ جدید دور میں جنگیں صرف میدانوں میں نہیں بلکہ اطلاعات اور بیانیے کی سطح پر بھی لڑی جاتی ہیں۔ دشمن کی جانب سے جھوٹا پروپیگنڈا، جعلی خبریں اور گمراہ کن اطلاعات پھیلانے کی کوشش کی گئی، مگر پاکستانی میڈیا نے حقائق، ذمہ داری اور قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے ان تمام سازشوں کا موثر جواب دیا۔ پاکستانی صحافیوں اور اینکرز نے نہ صرف قوم کا حوصلہ بلند رکھا بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کا موقف مضبوط انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے دنیا کو بتایا کہ پاکستان امن پسند ملک ہے، مگر اپنے دفاع پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ سوشل میڈیا پر بھی پاکستانی نوجوانوں نے بھرپور کردار ادا کیا اور قومی بیانیے کو طاقتور انداز میں دنیا تک پہنچایا۔
سفارتی میدان میں بھی پاکستان نے دانشمندی، تحمل اور موثر حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا۔ دنیا بھر میں پاکستانی سفارتکاروں نے متحرک کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان کا موقف عالمی برادری تک پہنچایا۔ بھارت کو سفارتی سطح پر شدید دبائو اور سبکی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ عالمی طاقتوں نے صورتحال کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا۔ پاکستان نے ہمیشہ امن، مذاکرات اور خطے کے استحکام کی بات کی جبکہ دشمن کی جارحانہ پالیسی دنیا کے سامنے بے نقاب ہوتی گئی۔ عالمی برادری نے پاکستان کے موقف کو سنجیدگی سے سنا اور اس بات کا اعتراف کیا کہ جنوبی ایشیا میں امن کیلئے ذمہ دارانہ رویہ ناگزیر ہے۔ اس سفارتی کامیابی نے ثابت کیا کہ پاکستان نہ صرف عسکری بلکہ سیاسی اور سفارتی سطح پر بھی مضبوط اور باوقار ملک ہے۔
آج ایک سال گزرنے کے بعد پوری قوم اپنے شہدائ، غازیوں اور محافظوں کو سلام پیش کرتی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی اور امن کسی تحفے کا نام نہیں بلکہ یہ قربانیوں، جدوجہد اور مسلسل بیداری کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ شہداء نے اپنی جانیں دے کر آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا۔ ان مائوں کو سلام جنہوں نے اپنے بیٹوں کو وطن پر قربان کیا۔
پاکستانی عوام نے بھی ہر آزمائش میں ثابت کیا کہ وہ اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ مشکل حالات، جنگی دبائو اور معاشی چیلنجز کے باوجود قوم کے حوصلے بلند رہے۔ عوام نے اتحاد، صبر اور حب الوطنی کا ایسا مظاہرہ کیا جس نے دشمن کی تمام امیدیں خاک میں ملا دیں۔ یہی قومی اتحاد پاکستان کی اصل طاقت ہے۔ دشمن ہمیشہ یہ کوشش کرتا ہے کہ پاکستانی قوم کو تقسیم کیا جائے، مگر ہر بحران میں یہ قوم پہلے سے زیادہ متحد ہو کر سامنے آتی ہے۔
پاکستان آج بھی مضبوط ہے، متحد ہے اور اپنی افواج کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہمارے دشمن یہ حقیقت اچھی طرح جان چکے ہیں کہ پاکستان کو کمزور سمجھنا ان کی سب سے بڑی غلطی ہو گی۔ یہ ملک صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ کروڑوں لوگوں کے خوابوں، قربانیوں اور امیدوں کا مرکز ہے۔ ہماری افواج، ہمارے شہدائ، ہمارا میڈیا، ہماری نوجوان نسل اور ہماری عوام سب مل کر اس وطن کی طاقت ہیں۔ اگر قوم متحد رہے، اپنے اداروں پر اعتماد قائم رکھے اور وطن سے محبت کو اپنی پہچان بنائے تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
آپریشن بنیان مرصوص صرف ایک فوجی کامیابی نہیں تھا بلکہ یہ قومی اتحاد، ایمان، حوصلے اور قربانی کی ایک عظیم مثال تھا۔ اس نے ثابت کیا کہ پاکستان ایک زندہ قوم ہے جو ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آج بھی پاکستانی قوم یہ عہد دہراتی ہے کہ وطنِ عزیز کی سلامتی، خودمختاری اور عزت پر کبھی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔ پاکستان ہمیشہ قائم رہے گا، مضبوط رہے گا اور اپنے محافظوں کے ساتھ مل کر ترقی و استحکام کی نئی منزلیں طے کرتا رہے گا۔







