ٹیکنالوجی، شہری تحفظ اور بدلتا ہوا پاکستان

جدید ٹیکنالوجی، شہری تحفظ اور بدلتا ہوا پاکستان
تحریر : رفیع صحرائی
خبر ہے کہ لاہور پولیس اور آن لائن ٹیکسی کمپنیز کے درمیان ایک معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت جرائم پیشہ افراد ٹیکسی نہیں چلا سکیں گے۔ کمپنیز میں نئی بھرتیوں سے پہلے ہر ڈرائیور کے لیے پولیس تصدیق لازمی قرار دے دی گئی ہے۔ تمام آن لائن ٹیکسی ڈرائیورز کا مکمل ڈیٹا پولیس کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے۔ پولیس کی جانب سے ٹیکسی کمپنیز کو نئی سیکورٹی پالیسی پر عمل درآمد کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔
دنیا تیزی سے ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں ریاستوں کی طاقت صرف اسلحے، بلند و بالا عمارتوں یا معاشی اعدادوشمار سے نہیں ناپی جاتی بلکہ اس بات سے جانچی جاتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو کس حد تک محفوظ، باوقار اور پُراعتماد زندگی فراہم کرتی ہیں۔ ترقی یافتہ معاشروں میں قانون کی عملداری محض نعروں تک محدود نہیں رہتی بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ہر اس راستے کو بند کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جہاں سے جرم، بدعنوانی یا ظلم جنم لے سکتا ہو۔ بدقسمتی سے پاکستان طویل عرصے تک ایسے نظام سے محروم رہا جہاں انصاف کا دارومدار ثبوت پر ہو نہ کہ سفارش، اثر و رسوخ یا قیاس آرائیوں پر مبنی ہو۔ اب حالات بتدریج بدلتے دکھائی دے رہے ہیں۔ لاہور پولیس اور آن لائن ٹیکسی کمپنیوں کے درمیان حالیہ معاہدہ اسی تبدیلی کی ایک اہم جھلک ہے۔ اس اقدام کے تحت شہریوں کے سفر کو زیادہ محفوظ بنانے، جرائم کی روک تھام اور شفاف تحقیقات کے لیے جدید ڈیجیٹل نگرانی اور ریکارڈنگ کے نظام کو موثر بنایا جا رہا ہے۔ بظاہر یہ ایک انتظامی معاہدہ محسوس ہوتا ہے مگر درحقیقت یہ پاکستان میں ڈیجیٹل قانون کے نفاذ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
آج آن لائن ٹیکسی سروسز شہری زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہیں۔ دفاتر جانے والے ملازمین ہوں، جامعات کے طلبہ، خریداری کے لیے نکلنے والی خواتین، بیمار بزرگ یا رات گئے سفر کرنے والے شہری، سبھی ان سہولیات پر انحصار کرتے ہیں۔ ان سروسز نے یقیناً سفر کو آسان اور تیز بنایا، لیکن وقتاً فوقتاً ہراسگی، ڈکیتی، اغوا، فراڈ اور قتل جیسے واقعات نے عوام میں خوف اور بے یقینی بھی پیدا کی۔ ایسے میں ریاستی اداروں اور نجی کمپنیوں کا اشتراک ناگزیر ہو چکا تھا۔اس نظام کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اب ہر سفر کا مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ محفوظ ہوگا۔ مسافر کہاں سے سوار ہوا؟ کس مقام پر اترا؟ گاڑی کا نمبر کیا تھا؟ ڈرائیور کون تھا؟ سفر کتنے وقت پر شروع اور ختم ہوا؟ یہ تمام معلومات فوری دستیاب ہوں گی۔ یوں اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو تفتیش اندازوں، سنی سنائی باتوں یا ’’ حکایتوں‘‘ پر نہیں بلکہ ٹھوس شواہد پر ہوگی۔ یہی وہ تبدیلی ہے جس کی ایک مہذب معاشرے کو ضرورت ہوتی ہے، جہاں حقیقتیں بولتی ہیں اور انصاف ثبوت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں نگرانی کے جدید نظام نے جرائم کی شرح کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ برطانیہ، چین، متحدہ عرب امارات اور سنگاپور جیسے ممالک میں سیف سٹی کیمرے، ڈیجیٹل ٹریکنگ اور ڈیٹا انٹیگریشن نے پولیسنگ کے روایتی طریقوں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ مجرم جانتے ہیں کہ ان کی نقل و حرکت محفوظ ہو رہی ہے، اس لیے جرائم کرنے سے پہلے کئی بار سوچتے ہیں۔ پاکستان میں بھی اگر یہ نظام دیانت داری، تسلسل اور غیر سیاسی انداز میں نافذ کیا جائے تو جرائم میں نمایاں کمی ممکن ہے۔ یہ اقدام خواتین کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں خواتین خصوصاً رات کے اوقات میں سفر کے دوران عدم تحفظ محسوس کرتی ہیں۔ آئے روز پیش آنے والے واقعات نے والدین اور خاندانوں کو خوفزدہ کر رکھا ہے۔ اگر ایک خاتون کو یہ یقین حاصل ہو کہ اس کے سفر کی مکمل نگرانی موجود ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری مدد مل سکتی ہے تو اس کا اعتماد بحال ہوگا۔ یہی احساسِ تحفظ دراصل ایک مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔
اس نظام کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ یہ ایماندار ڈرائیورز کے حقوق کا محافظ بن سکتا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مسافروں اور ڈرائیورز کے درمیان جھگڑے پیدا ہو جاتے ہیں یا کسی ایک فریق پر جھوٹا الزام لگا دیا جاتا ہے۔ مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ اور شواہد کی موجودگی میں سچ اور جھوٹ الگ کرنا آسان ہوگا۔ یوں انصاف صرف طاقتور کے حق میں نہیں بلکہ سچائی کے حق میں ہوگا۔ تاہم اس سارے منظرنامے میں ایک نہایت اہم سوال ’’ پرائیویسی‘‘ کا بھی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی جتنی فائدہ مند ہے، اتنی ہی حساس بھی ہے۔ شہریوں کے ذاتی ڈیٹا، لوکیشن اور معلومات کا تحفظ یقینی بنانا ریاست اور متعلقہ کمپنیوں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر یہ معلومات غیر متعلقہ افراد یا تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہوئیں تو اعتماد مجروح ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ واضح قوانین، سخت نگرانی اور شفاف پالیسیوں کے ذریعے شہریوں کی نجی زندگی کا احترام یقینی بنایا جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اب اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں صرف روایتی پولیسنگ سے معاملات نہیں چل سکتے۔ جرائم کی نوعیت بدل چکی ہے، لہٰذا ریاستی نظام کو بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ ٹیکنالوجی اب محض سہولت نہیں بلکہ قومی ضرورت بن چکی ہے۔ اگر اسے دیانت داری، قانون کی بالادستی اور عوامی فلاح کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ معاشرے میں حقیقی تبدیلی لا سکتی ہے۔
لاہور پولیس اور آن لائن ٹیکسی کمپنیوں کے درمیان یہ معاہدہ ایک امید افزا آغاز ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ماڈل کو پورے ملک میں وسعت دی جائے، سیف سٹی منصوبوں کو فعال بنایا جائے، پولیس کو جدید تربیت دی جائے اور قانون کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک رکھا جائے کیونکہ وہی معاشرے ترقی کرتے ہیں جہاں انصاف اندھی افواہوں پر نہیں بلکہ واضح شواہد پر قائم ہو اور جہاں حکایتوں کے بجائے حقیقتیں بولتی ہوں۔






