Column

ذیابیطس ہماری بنیادیں کھوکھلی کر رہی ہے

ذیابیطس ہماری بنیادیں کھوکھلی کر رہی ہے
تحریر: رفیع صحرائی
پاکستان اس وقت ایک ایسے دشمن کے نرغے میں ہے جو کسی شور و غل کے بغیر، خاموشی سے ہماری دہلیز عبور کر چکا ہے۔ یہ دشمن کوئی سرحد پار سے آنے والا حملہ آور نہیں بلکہ وہ ’’ خاموش وبا‘‘ ہے جسے طبی اصطلاح میں ذیابیطس کہا جاتا ہے۔ کبھی یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہ خوشحال طبقے کی بیماری ہے لیکن آج یہ مرض طبقوں کی قید سے آزاد ہو کر ہر دوسرے گھر میں ڈیرے ڈال چکا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جس رفتار سے یہ بیماری پھیل رہی ہے، ہمارا شعور اس کے مقابلے میں انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم اس بیماری کی تہہ تک پہنچنا ہی نہیں چاہتے۔
عالمی نقشے پر اگر پاکستان کی صورتحال دیکھیں تو اعداد و شمار دل دہلا دینے والے ہیں۔ پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہونے لگا ہے جہاں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں ہوش ربا اضافہ ہوا ہے۔ سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ لاکھوں افراد ایسے ہیں جو اس مرض میں مبتلا تو ہیں مگر وہ اس سے سرے سے لاعلم ہیں۔ یہی لاعلمی ذیابیطس کو ایک ’’ خاموش قاتل‘‘ بنا دیتی ہے۔ جب تک مریض کو اپنی حالت کا ادراک ہوتا ہے، تب تک یہ مرض خاموشی سے دل، گردوں، آنکھوں کی بصارت اور اعصابی نظام پر وار کر کے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا چکا ہوتا ہے۔ وجہ صرف ہماری خود سے لاپرواہی ہے۔ ہم میں یہ کلچر پنپ ہی نہیں پایا کہ تندرستی کی حالت میں اپنی صحت کی فکر کرتے ہوئے ضروری جسمانی ٹیسٹ کروا لیا کریں اور کسی دستک دیتی ہوئی بیماری سے باخبر ہو سکیں۔ ہم تو وہ قوم ہیں کہ اگر ڈاکٹر کی ہدایت پر کوئی جسمانی ٹیسٹ کروا لیں اور بیماری نہ نکلے تو ہمیں ٹیسٹ کرانے کی رقم ضائع جانے کا افسوس ہونے لگتا ہے۔
یاد رکھیے! ذیابیطس محض ایک موروثی یا طبی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے بدلتے ہوئے طرزِ زندگی کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ ہم نے جدیدیت کے نام پر جس طرزِ عمل کو اپنایا ہے، وہ ہمیں بیماریوں کی دلدل میں دھکیل رہا ہے۔ اس میں خوراک کی بے اعتدالی سرِ فہرست ہے۔ فاسٹ فوڈ، پروسیسڈ غذائیں اور چینی سے بھرپور مشروبات ہماری روزمرہ خوراک کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ بلکہ مہمان نوازی کے بھی ضروری لوازمات میں ان کا شمار ہونے لگا ہے۔
دوسری بڑی وجہ سائنسی ترقی کی بدولت ٹیکنالوجی کا بے بہا اور اندھا دھند استعمال ہے۔ ٹیکنالوجی کی سہولت نے ہمیں سست بنا دیا ہے۔ پیدل چلنے کا رواج ختم ہو رہا ہے۔ چند قدم بھی جانا ہو تو موٹر سائیکل نکالا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ روزانہ کی ورزش ہماری ترجیحات میں شامل نہیں رہی۔
شہری زندگی کی مصنوعی دوڑ دھوپ نے اعصاب کو ہر وقت تنائو کی حالت میں رکھا ہوا ہے جو خون میں شوگر کی سطح بگڑنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ آگاہی کا فقدان بھی بیماری میں مبتلا ہونے کی ایک اہم وجہ ہی۔ ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ طبی لاپروائی ہے۔ ہم تب تک معالج کے پاس نہیں جاتے جب تک تکلیف برداشت سے باہر نہ ہو جائے۔ دیہی علاقوں میں تو صورتحال مزید ابتر ہے جہاں نہ صرف بنیادی صحت کی سہولیات کا فقدان ہے بلکہ توہم پرستی اور آگاہی کی کمی نے اس مرض کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ لوگ پراپر علاج نہیں کرواتے، علامات کو نظر انداز کرتے ہیں اور ٹوٹکوں میں علاج ڈھونڈتے ہیں۔ جب لاپرواہی کے سبب مرض شدت اختیار کر لیتا ہے تو پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔
شوگر یعنی ذیابیطس سے بچائو کا سب سے موثر راستہ احتیاط ہے۔ ذیابیطس کو جڑ سے ختم کرنا شاید ابھی ممکن نہیں ہے لیکن اسے کنٹرول کرنا مکمل طور پر ہمارے بس میں ہے۔ ایک متوازن طرزِ زندگی ہی اس کا واحد توڑ ہے۔ اس کے لیے ہمیں غذا میں توازن رکھنے کی بے حد ضرورت ہے۔ چینی اور نشاستہ دار اشیاء کا کم سے کم استعمال کرنا فائدہ مند ہی۔ باقاعدگی سے ورزش کرنا بھی ضروری ہے۔ روزانہ کم از کم 30منٹ کی واک شوگر لیول کو قابو میں رکھنے کا بہترین نسخہ ہے۔ وزن پر قابو پانا بھی بہت اہم ہے۔ بڑھتا ہوا وزن ذیابیطس کی دعوت ہے۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ آپ کا قد جتنے انچ ہو آپ کا وزن اتنے کلوگرام ہونا چاہیے۔ اس میں پانچ سات کلوگرام کی گنجائش نکالی جا سکتی ہے۔ ذہنی تنائو سے دوری اور بھرپور نیند صحت کی ضمانت ہے۔ رات کو جلدی سونا اور آٹھ گھنٹے کی نیند لینا شوگر سے بچا میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ رات دیر تک جاگنا شوگر کے مرض میں اضافہ کرتا ہے۔
شوگر کے خلاف جنگ صرف ایک فرد کی نہیں ہے بلکہ یہ ایک قومی چیلنج ہے۔ حکومت وقت کو چاہیے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر قومی سطح پر آگاہی مہمات کا آغاز کرے۔ تعلیمی نصاب میں صحت مند زندگی کے اصولوں کو شامل کیا جائے اور عوامی مقامات پر ورزش اور پیدل چلنے کے ٹریکس فراہم کیے جائیں۔ جنک فوڈ اور میٹھے مشروبات پر بھاری ٹیکسز کا نفاذ بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ذیابیطس صرف ایک فرد کو بیمار نہیں کرتی بلکہ یہ پورے خاندان کے معاشی اور سماجی ڈھانچے کو متاثر کرتی ہے۔ اگر ہم نے آج اپنی عادات پر نظرِ ثانی نہ کی تو آنے والے برسوں میں یہ وبا ہماری معیشت اور انسانی وسائل کو مفلوج کر دے گی۔
’’ صحت مند معاشرہ ہی مضبوط قوم کی بنیاد ہوتا ہے اور اس بنیاد کو نظر انداز کرنا خود اپنے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے‘‘۔
اب بھی وقت ہے کہ ہم ہوش کے ناخن لیں اور ایک صحت مند پاکستان کی بنیاد رکھیں۔ یاد رکھیے! انتخاب ہمارا ہے۔ آج کی تھوڑی سی احتیاط کرنی ہے یا کل کی عمر بھر کی معذوری کو گلے لگانا ہے۔

جواب دیں

Back to top button