ColumnTajamul Hussain Hashmi

دنیا سہم گئی

دنیا سہم گئی
تجمّل حسین ہاشمی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمارے حق میں بیانات اور وزیراعظم شہباز شریف و فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریفوں پر ہم سب بہت خوش ہیں۔ دنیا بھر میں ہمارا نام لیا جا رہا ہے۔ آخر دنیا کا طاقتور ترین چودھری ٹرمپ پاکستانی قیادت کا کئی بار مشکور ہو چکا ہے۔ ویسے دنیا بھر کے تجزیہ نگاروں کے مطابق ٹرمپ اپنے بیانات کی وجہ سے ایک غیر متوازن شخصیت کے حامل سمجھے جا رہے ہیں۔ حالیہ چند دنوں کے دوران ٹرمپ کے بیانات نے کاروباری منڈیوں کو غیر متوازن بنا دیا ہے، غیر متوازن بیانات نے پوری دنیا کو سکتے میں ڈالا ہوا ہے۔ یہ بیانات کسی کے لیے منافع بخش بھی قرار دئیے جا رہے ہیں۔
بظاہر امریکہ کا اصل مقصد ایران کے قدرتی وسائل پر قبضہ اور چین کو تیل کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنا ہے، کیونکہ چین اس وقت ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ امریکہ کا اتحادی اسرائیل ایران کو مکمل طور پر تباہ کر کے وہاں خانہ جنگی کرانا اور ایران کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے۔ اسرائیل کا مرکزی ہدف سمجھا جا رہا ہے۔ امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنی کم عقلی سے پیدا کردہ صورتحال سے باہر نکلنا چاہتا ہے، مگر اسرائیل ایسا نہیں کرنے دے گا۔ جب تک مغربی ایشیا میں اسرائیلی بالادستی قائم نہ ہو جائے اس وقت تک اسرائیل پیچھے نہیں ہٹے گا اور نہ امریکہ کو پیچھے ہٹنے دے گا اور ایران اس بالادستی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
امریکہ کی معیشت اور عالمی مالیاتی طاقت کا انحصار پیٹرو ڈالر کے نظام پر ہے ، جو کہ 1974ء میں قائم ہوا۔ اس کے نظام کے تحت تیل کی خرید و فروخت صرف امریکی ڈالر میں ہوتی ہے۔ اب ایران اپنا تیل چینی اور ایرانی کرنسی میں فروخت کر کے اس نظام کو کمزور کر رہا ہے۔ کرنسی کا ایک متبادل نظام دنیا بھر میں تیار ہو رہا ہے۔ چین اور روس BRICS کے ذریعے متبادل کرنسی کا نظام بنا رہے ہیں، تاکہ ڈالر کی بالادستی ختم ہو۔ سپر پاور ڈالر کے نظام کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی بھر پور کوشش کر رہا ہے۔ موجودہ عالمی عسکری، اقتصادی اور سیاسی تنازعات میں امریکہ اور اسرائیل کے سٹیک بہت بڑے ہیں۔ امریکہ پاکستان کو صلح اور امن کا کریڈٹ دینے کے لیے شاید تیار ہے، لیکن اسرائیل اپنے مفادات سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
پاکستان کی جانب سے امن قائم کرنے کی کوششوں کو دنیا تسلیم کر رہی ہے، پاکستان اسلامی ممالک کا مرکز بن چکا ہے۔ راضی نامے پر دستخط ہوں یا نہ ہوں، پاکستان کو جو حاصل کرنا تھا کر لیا۔ بظاہر اس ڈائیلاگ سے امریکہ امن کے نام پر ایران کو بے بس کرنا چاہتا ہے اور ساتھ ہی ایران پر دوبارہ حملوں یا حکومت کی تبدیلی کے لیے وقت بھی حاصل کرنے کی پلاننگ کر رہا ہو گا، معاملے کو ایسے نہیں چھوڑے گا۔ عرب حکمران بھی ایران کو کاروباری رقیب سمجھتے ہیں۔ ایران ایک بڑا ملک، بڑی فوجی طاقت اور علمی و تہذیبی اعتبار سے بھی عرب ریاستوں سے زیادہ مضبوط ہے۔ اس لیے ان کے حکمران ایران سے خوفزدہ ضرور ہوں گے، لیکن اس دفعہ صورتحال میں تبدیلی ہے۔ تیل اور گیس کے بڑے سپلائر کے طور پر ایران کے مکمل فعال ہونے میں ایران مخالف ریاستیں کو مشکل ہو گی، لیکن ایک بڑی تبدیلی کے لیے ان کو خاموش رہنا پڑے گا، ایران 47سالہ پابندیوں کے باوجود مال کما رہا ہے۔ ایران کے اس وقت معلوم قدرتی وسائل کی مالیت تقریباً 27.3ٹریلین ڈالر کے قریب ہے، جبکہ سعودی عرب کے قدرتی وسائل کی مالیت 34ٹریلین ڈالر ہے۔ سعودی عرب کے پاس 267بلین بیرل سے زیادہ تیل کے ذخائر ہیں جبکہ ایران کے 208.6بلین بیرل (OPECکے مطابق 2025-26ڈیٹا) ہیں۔ دنیا میں دریافت شدہ قدرتی گیس کے 17فیصد ذخائر ایران میں ہیں۔ جنوبی ایران میں فارس (South Pars)گیس فیلڈ قطر تک پھیلی ہوئی ہے۔ ایران میں دیگر قدرتی معدنیات کی مالیت 100بلین ڈالر سے زیادہ ہے۔
آج ایران کے خلاف جو کچھ ہو رہا ہے، وہ بالکل ویسا ہی ہے جو 73سال پہلے برطانیہ اور امریکہ نے کیا تھا۔ اگست 1953 ء میں ایران کے مقبول منتخب وزیراعظم ڈاکٹر محمد مصدق کی حکومت کو برطانیہ اور امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں نے آپریشن ایجکس ( برطانیہ نے آپریشن بوٹ کہا) کے ذریعے ختم کر دیا۔ مقصد ایران کے تیل اور وسائل پر قبضہ تھا۔ سینئر کالم نگار شیراز پراچہ کے مطابق ’’ مغرب گزشتہ 115سال سے ایران کے تیل، گیس اور معدنیات پر تسلط چاہتا ہے۔ 1913ء میں برطانیہ نے ایران کی تیل کمپنی میں 51فیصد حصص حاصل کیی۔ 1933ء میں رضا شاہ پہلوی نے مزید رعایتیں دیں اور برطانیہ کو ایرانی تیل کے 95فیصد پر کنٹرول مل گیا۔1951ء میں ڈاکٹر مصدق وزیراعظم بنے۔ انہوں نے زرعی اصلاحات، جاگیرداروں پر ٹیکس، کسانوں اور مزدوروں کی فلاح کے اقدامات کیے اور تیل کے ذخائر کو قومی تحویل میں لے کر برٹش پٹرولیم کو نکال باہر کیا۔ برطانیہ سیخ پا ہوا، ایران کا بحری محاصرہ کیا اور پھر امریکن اور برطانوی انٹیلیجنس نے مل کر مصدق کی حکومت کو ختم کرایا ۔ شاہ رضا پہلوی اٹلی بھاگ گئے، مگر واپس آ کر جنرل فضل اللہ زیدی کو وزیراعظم بنایا اور تیل امریکی و برطانوی کمپنیوں کے حوالے کر دیا۔ اگلے 26سال شاہ نے آہنی ہاتھ سے حکومت کی۔ 1979ء کے اسلامی انقلاب نے شاہ کا تختہ الٹ دیا۔ تب سے امریکہ اور ایران کے درمیان کشمکش جاری ہے‘‘۔
امریکہ نے اقتصادی پابندیاں، عراق کے ذریعے 8سالہ جنگ، فرقہ وارانہ پروپیگنڈا اور دیگر حربے استعمال کیے۔ ایران نے فلسطین کی حمایت کی، حزب اللہ کی مدد کی اور اسرائیل کو نمبر ایک دشمن قرار دیا۔ 28فروری 2026ء کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر بڑا حملہ کیا، مگر ایران نے اپنی دفاعی صلاحیت سے حملہ آوروں کو حیران کر دیا۔ اب ایران میں امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ کے بہت سے ایجنٹ بے نقاب اور گرفتار ہو چکے ہیں۔ ایران کے میزائلوں اور ڈرونز نے دشمن کے مفادات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کو تھوڑا وقفہ درکار ہے، تاکہ اپنی صفیں درست کریں، بظاہر وہ ایران کے خلاف جنگ ختم نہیں کریں گے۔ بڑی طاقتیں اپنے سٹریٹجک مفادات سے پیچھے نہیں ہٹتیں۔ امن کی توقعات صرف اس وقت درست ہوں گی جب حقیقی توازن قائم ہو لیکن یہ ایسی دوڑ ہے جس میں منزل قریب بھی نظر آ رہی ہے اور دور بھی نظر آ رہی ہے، دنیا موجودہ صورتحال سے کافی پریشان ہے، دونوں اطراف اپنے اپنے مفادات کو مضبوط کرنے اور زیادہ فائدے کا حصول ہے۔

جواب دیں

Back to top button