عالمی امن کی نئی امیدیں اور پاکستان

اداریہ۔۔۔
عالمی امن کی نئی امیدیں اور پاکستان
امریکا اور ایران کی جانب سے دو روز کے دوران مثبت بیانات اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ پاکستان کی کوششیں رائیگاں نہیں بلکہ کامیاب ہوئی ہیں اور دونوں جانب سے مذاکرات کو فوقیت دی جارہی ہے۔ امریکی صدر جہاں پاکستان اور فیلڈ مارشل کے کردار کو سراہا رہے ہیں، وہیں ایران بھی اگلے بدھ کو پاکستان میں مذاکرات کا متمنی نظر آتا ہے۔ بلاشبہ دنیا اس وقت جس سیاسی، عسکری اور سفارتی پیچیدگی سے گزر رہی ہے، اس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال خاص طور پر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک نہایت حساس اور تشویش ناک معاملہ بنی ہوئی ہے۔ عالمی امن مسلسل دبائو میں ہے اور مختلف خطوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی دنیا کو ایک بے یقینی صورت حال کی طرف دھکیل رہی ہے۔ ایسے نازک وقت میں حالیہ مثبت پیش رفت، جس میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوبارہ آغاز اور پاکستان کے ذریعے مسلسل سفارتی رابطوں کا تسلسل سامنے آیا ہے، نہ صرف ایک امید افزا قدم ہے بلکہ عالمی امن کے لیے ایک نئی راہ بھی متعین کر رہا ہے۔ یہ امر انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے دوسرے دور کی متوقع میزبانی پھر پاکستان کے حصے میں آنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی برادری پاکستان کی سفارتی صلاحیتوں اور غیر جانبدار کردار پر مکمل اعتماد رکھتی ہے۔ پاکستان کا بطور ثالث کردار نہ صرف اس کی خارجہ پالیسی کی کامیابی ہے، بلکہ یہ اس کے ذمے دار ریاستی رویے اور امن کے لیے مسلسل کوششوں کا عملی اظہار بھی ہے۔ پاکستان نے گزشتہ کئی برسوں میں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کے لیے مسلسل مثبت کردار ادا کیا ہے۔ یہ کردار کسی وقتی ردعمل کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے، متوازن اور دور اندیش سفارتی وژن کا حصہ ہے، جس کا مقصد خطے کو تنازعات سے نکال کر استحکام اور ترقی کی راہ پر ڈالنا ہے۔ اس پورے عمل میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کا کردار نمایاں طور پر سامنے آیا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے خطے میں امن و استحکام کے لیے جو حکمت عملی اپنائی ہے، وہ نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔ ان کی متوازن، حقیقت پسندانہ اور سفارتی بصیرت پر مبنی پالیسیوں نے پاکستان کی ساکھ کو مزید مضبوط کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی رہنما اور تجزیہ کار پاکستان کے کردار کو ایک مثبت اور مثر قوت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اسی طرح وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات، سفارت کاری اور امن کو ترجیح دی ہے۔ موجودہ عالمی حالات میں پاکستان نے یہ ثابت کیا کہ وہ تنازعات کا حصہ بننے کے بجائے ان کے حل کے لیے پل کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ حکومتِ پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی نے عالمی برادری کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان امن، استحکام اور ترقی کے لیے سنجیدہ اور پرعزم ہے۔ یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ اور مذاکرات کی پیش رفت اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان ایک قابلِ اعتماد اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر ابھر چکا ہے۔ یہ کردار نہ صرف خطے کے لیے بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی اہمیت کو مزید بڑھا رہا ہے۔ آج پاکستان کو محض ایک علاقائی طاقت نہیں بلکہ ایک ذمہ دار عالمی شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں پاکستان کے اس کردار کو مثبت انداز میں سراہا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کسی حد تک کشیدگی میں کمی واقع ہوئی ہے تو اس میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کا بنیادی کردار ہے۔ یہ ایک ایسا وقت ہے جب دنیا کو تقسیم نہیں بلکہ اتحاد، مکالمہ اور امن کی ضرورت ہے، اور پاکستان اسی ضرورت کو پورا کرنے میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ ایران کی جانب سے یہ موقف کہ وہ جوہری ہتھیاروں میں دلچسپی نہیں رکھتا اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کو ترجیح دیتا ہے، ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اسی طرح امریکا کی جانب سے بھی مذاکرات کی طرف پیش رفت اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں فریقین جنگ کے بجائے سفارت کاری کے راستے کو اپنانا چاہتے ہیں۔ اس پورے عمل میں پاکستان کا کردار ایک سہولت کار، ثالث اور اعتماد کی علامت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ پاکستان کی اس سفارتی کامیابی کو کسی وقتی پیش رفت کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ ایک طویل المدتی اور مربوط خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔ اس پالیسی میں بنیادی زور امن، علاقائی استحکام اور عالمی تعاون پر دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان آج عالمی سطح پر ایک اہم اور ذمے دار ریاست کے طور پر پہچانا جا رہا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کی اس کامیابی میں اس کی سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی ایک اہم عنصر ہے۔ جب ریاست کے تمام ادارے ایک مشترکہ مقصد کے لیے کام کریں تو نتائج نہایت مثبت اور دیرپا ہوتے ہیں۔ یہی ہم آہنگی آج پاکستان کو ایک مضبوط اور با اعتماد سفارتی طاقت کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ مزید برآں، پاکستان کی سفارتی کوششوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ چھوٹے اور ترقی پذیر ممالک بھی اگر متوازن پالیسی اپنائیں تو عالمی سیاست میں موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستان نے یہ واضح کیا ہے کہ طاقت صرف عسکری نہیں ہوتی بلکہ سفارت کاری، اعتماد اور توازن بھی عالمی طاقت کے اہم ستون ہیں۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان اس وقت عالمی امن کے لیے ایک امید کی کرن کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی پیش رفت میں پاکستان کا کردار نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ اگر یہ سلسلہ اسی تسلسل سے جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب مشرقِ وسطیٰ سمیت دنیا کے دیگر خطوں میں بھی پائیدار امن قائم ہوسکے گا۔ پاکستان کا یہ کردار پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔ آج پاکستان نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی امن کی آواز بن کر سامنے آیا ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
شذرہ۔۔
سندھ: ایچ آئی وی کیسز میں اضافہ
سندھ میں 2026ء کے دوران ایچ آئی وی کیسز کی مجموعی تعداد کا 894تک پہنچ جانا، جس میں 329بچے بھی شامل ہیں، ایک انتہائی تشویش ناک صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف محکمہ صحت بلکہ پوری ریاستی مشینری کے لیے ایک سنگین وارننگ ہیں کہ عوامی صحت کا نظام کس حد تک دبائو کا شکار ہے۔ خاص طور پر بچوں میں اس وائرس کی موجودگی اس بحران کی شدت کو مزید بڑھا دیتی ہے اور فوری توجہ کا تقاضا کرتی ہے۔ محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق کیسز میں تیزی سے اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ روک تھام کے موجودہ اقدامات ناکافی ثابت ہورہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق غیر محفوظ طبی طریقے، استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال اور غیر تربیت یافتہ معالجین یعنی اتائیوں کی غفلت اس وائرس کے پھیلائو کی بنیادی وجوہ ہیں۔ یہ عوامل ایک ایسے نظام کی عکاسی کرتے ہیں جس میں احتیاطی اصولوں پر مکمل عمل درآمد نہیں ہورہا۔2019 ء کے رتوڈیرو اسکینڈل کے اثرات کا آج تک محسوس ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس مسئلے کو وقتی اقدامات سے حل نہیں کیا جاسکا۔ بدقسمتی سے اس طرح کے واقعات کے بعد پیدا ہونے والی آگاہی بھی دیرپا ثابت نہیں ہوسکی، جس کے نتیجے میں وائرس دوبارہ پھیل رہا ہے۔ بالغ افراد میں بڑھتے ہوئے کیسز بھی اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ مسئلہ اب محدود نہیں رہا بلکہ وسیع تر ہوتا جارہا ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ جب تک طبی مراکز میں اسٹرلائزیشن کے اصولوں پر سختی سے عمل نہیں کیا جاتا، اس بیماری پر قابو پانا ممکن نہیں ہوگا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بنیادی طبی احتیاطی تدابیر کی خلاف ورزی پورے معاشرے کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ ایسے میں حکومت، نجی اسپتالوں اور مقامی کلینکس کی مشترکہ ذمے داری ہے کہ وہ صحت کے معیار کو بہتر بنائیں۔ محکمہ صحت سندھ کی جانب سے اسکریننگ اور آگاہی مہم کا آغاز ایک مثبت قدم ہے، تاہم اس کی رفتار اور اثر انگیزی میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ عوامی سطح پر آگاہی بڑھانا بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ لوگ خوف کے بجائے بروقت تشخیص اور علاج کی طرف آئیں۔ جدید طبی سہولتوں کی موجودگی میں ایچ آئی وی اب ایک قابلِ کنٹرول بیماری ہے، لیکن اس کے لیے بروقت تشخیص اور مستقل علاج ضروری ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت غیر قانونی اور غیر تربیت یافتہ معالجین کے خلاف سخت کارروائی کرے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہوسکے۔ صحت کے نظام میں اصلاحات، نگرانی کے موثر نظام اور طبی عملے کی تربیت اس بحران کے حل کے لیے ناگزیر ہیں۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ سندھ میں ایچ آئی وی کیسز میں اضافہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ اگر فوری، مربوط اور سخت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔







