بدترین لوڈشیڈنگ: ایک قومی المیہ
بدترین لوڈشیڈنگ: ایک قومی المیہ
شہر خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری۔۔۔
بجلی جدید دنیا کی بنیادی ضرورت ہے۔ یہ صرف روشنی کا ذریعہ نہیں بلکہ معیشت، صنعت، تعلیم، صحت، زراعت اور روزمرہ زندگی کی دھڑکن ہے۔ جب بجلی غائب ہوتی ہے تو صرف بلب نہیں بجھتے بلکہ زندگی کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔ بدترین لوڈشیڈنگ اسی بحران کا نام ہے جب بجلی کی کمی وقتی مسئلہ نہ رہے بلکہ مسلسل، غیر یقینی اور تکلیف دہ حقیقت بن جائے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں لوڈشیڈنگ صرف تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی، سماجی، نفسیاتی اور اخلاقی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
لوڈشیڈنگ: صرف بجلی کی کمی نہیں
لوڈشیڈنگ کو عام طور پر بجلی کی کمی سمجھ لیا جاتا ہے، مگر حقیقت میں یہ کئی مسائل کا مجموعہ ہے۔ اس میں پیداوار کی کمی، ترسیل کا ناقص نظام، چوری، لائن لاسز، ناقص منصوبہ بندی، مہنگا ایندھن، گردشی قرضہ، اور موسمی عوامل سب شامل ہوتے ہیں۔ جب یہ تمام عوامل ایک ساتھ اثر انداز ہوں تو صورتحال بدترین لوڈشیڈنگ کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ یہ بدترین لوڈشیڈنگ صرف شہروں تک محدود نہیں رہتی بلکہ دیہاتوں میں اس کی شدت کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ بعض علاقوں میں 10سے 16گھنٹے تک بجلی غائب رہتی ہے۔ رات کی لوڈشیڈنگ زندگی کو مزید مشکل بنا دیتی ہے، کیونکہ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب لوگ آرام کرنا چاہتے ہیں۔ بدترین لوڈشیڈنگ کا سب سے بڑا نقصان معیشت کو ہوتا ہے۔ صنعتیں بجلی پر چلتی ہیں، فیکٹریاں مشینوں پر چلتی ہیں اور مشینیں بجلی پر۔ جب بجلی بند ہو جائے تو پیداوار رک جاتی ہے۔ صنعت کار مجبوراً جنریٹر استعمال کرتے ہیں جو مہنگا ایندھن مانگتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مصنوعات مہنگی ہو جاتی ہیں، برآمدات کم ہو جاتی ہیں اور کاروبار سست پڑ جاتا ہے۔ چھوٹی صنعتیں سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ درزی، ویلڈر، مکینک، فوٹو سٹیٹ کی دکانیں، پرنٹنگ پریس، آٹا چکی، سب بجلی پر منحصر ہیں۔ لوڈشیڈنگ کے باعث ان کی آمدنی کم ہو جاتی ہے۔ مزدور بے روزگار ہو جاتے ہیں۔ یوں لوڈشیڈنگ غربت میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ زرعی شعبہ بھی اس سے متاثر ہوتا ہے۔ ٹیوب ویل بند ہونے سے فصلیں متاثر ہوتی ہیں۔ کسان ڈیزل استعمال کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، جس سے لاگت بڑھ جاتی ہے۔ اس کا اثر براہ راست خوراک کی قیمتوں پر پڑتا ہے ۔
گھریلو زندگی پر اثرات
بدترین لوڈشیڈنگ گھریلو زندگی کو اذیت بنا دیتی ہے۔ گرمی کے موسم میں پنکھے اور اے سی بند ہو جائیں تو گھروں میں رہنا مشکل ہو جاتا ہی۔ بچے سو نہیں پاتے، بزرگ بیمار ہو جاتے ہیں، خواتین کے گھریلو کام متاثر ہوتے ہیں۔رات کی لوڈشیڈنگ خاص طور پر تکلیف دہ ہوتی ہے۔ لوگ اندھیرے میں جاگتے رہتے ہیں۔ نیند پوری نہیں ہوتی۔ اگلے دن کام کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ یوں لوڈشیڈنگ انسان کی جسمانی اور ذہنی صحت کو بھی متاثر کرتی ہے۔خوراک بھی متاثر ہوتی ہے۔ فریج بند ہونے سے اشیاء خراب ہو جاتی ہیں۔ دودھ، گوشت، سبزیاں ضائع ہو جاتی ہیں۔ یہ نہ صرف مالی نقصان ہے بلکہ خوراک کی قلت کا بھی باعث بنتا ہے۔ بدترین لوڈشیڈنگ طلبہ کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ امتحانات کے دنوں میں بجلی نہ ہو تو پڑھائی متاثر ہوتی ہے۔ دیہاتوں میں تو کئی طلبہ رات کو موم بتی یا لالٹین میں پڑھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ آن لائن تعلیم کے دور میں بجلی کا نہ ہونا مزید نقصان دہ ہے۔ انٹرنیٹ، موبائل، لیپ ٹاپ سب بجلی پر چلتے ہیں۔ بجلی نہ ہو تو طلبہ جدید تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اس طرح لوڈشیڈنگ تعلیمی عدم مساوات کو بڑھا دیتی ہے۔ ہسپتالوں میں بجلی کی مسلسل فراہمی ضروری ہوتی ہے۔ آپریشن تھیٹر، آئی سی یو، لیبارٹری، سب بجلی پر چلتے ہیں۔ بدترین لوڈشیڈنگ مریضوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اگرچہ بڑے ہسپتالوں میں جنریٹر ہوتے ہیں، مگر چھوٹے کلینک اور دیہی مراکز صحت میں یہ سہولت نہیں ہوتی۔ ویکسین خراب ہو جاتی ہیں، مشینیں بند ہو جاتی ہیں، مریضوں کی جان کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ بدترین لوڈشیڈنگ معاشرتی رویوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔ گرمی، اندھیرا اور بے چینی لوگوں کو چڑچڑا بنا دیتی ہے۔ گھریلو جھگڑے بڑھ جاتے ہیں۔ جرائم میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ اندھیرے میں نگرانی کم ہو جاتی ہے۔ لوگ رات کو باہر نکلنے سے گھبراتے ہیں۔ بازار جلد بند ہو جاتے ہیں۔ سماجی زندگی محدود ہو جاتی ہے۔ یوں لوڈشیڈنگ معاشرے کو سکڑنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ مسلسل لوڈشیڈنگ ذہنی دبائو کا باعث بنتی ہے۔ غیر یقینی صورتحال انسان کو پریشان کرتی ہے۔ کب بجلی آئے گی، کب جائے گی، یہ سوال روزمرہ زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہ اضطراب، تھکن اور بے چینی پیدا کرتا ہے۔ بچوں پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔ نیند کی کمی، گرمی، شور، سب مل کر ذہنی سکون کو ختم کر دیتے ہیں۔
بدترین لوڈشیڈنگ کی بنیادی وجوہات
بدترین لوڈشیڈنگ کی کئی وجوہات ہیں: بجلی کی پیداوار میں کمی، پرانا ترسیلی نظام، لائن لاسز اور چوری، گردشی قرضہ، مہنگا ایندھن، ناقص منصوبہ بندی، موسمی عوامل، پن بجلی پر زیادہ انحصار، جب پانی کم ہو جائے تو پن بجلی کم ہو جاتی ہے۔ جب ایندھن مہنگا ہو جائے تو تھرمل بجلی کم پیدا ہوتی ہے۔ جب نظام پرانا ہو تو بجلی ضائع ہوتی ہے۔ یہ سب عوامل مل کر بحران پیدا کرتے ہیں۔
توانائی کا بڑھتا ہوا مطالبہ
آبادی میں اضافہ بجلی کی طلب کو بڑھا رہا ہے۔ نئے گھر، نئے کاروبار، نئی صنعتیں، سب کو بجلی چاہیے۔ مگر پیداوار اسی رفتار سے نہیں بڑھ رہی۔ نتیجہ لوڈشیڈنگ کی صورت میں نکلتا ہے۔ گرمی کے موسم میں اے سی اور کولر کے استعمال سے طلب اچانک بڑھ جاتی ہے۔ یہی وقت ہوتا ہے جب لوڈشیڈنگ شدید ہو جاتی ہے۔
بدترین لوڈشیڈنگ کا حل متبادل توانائی میں پوشیدہ ہے۔ شمسی توانائی، ہوا سے بجلی، پن بجلی کے چھوٹے منصوبے، یہ سب قابل عمل حل ہیں۔ شمسی توانائی خاص طور پر پاکستان کے لیے موزوں ہے کیونکہ یہاں دھوپ وافر ہے۔ گھروں، سکولوں اور دفاتر میں سولر سسٹم لگانے سے بجلی کے نظام پر دبائو کم ہو سکتا ہے۔
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ طویل مدتی منصوبہ بندی کرے۔ نئے پاور پلانٹس، ترسیلی نظام کی بہتری، چوری کا خاتمہ، گردشی قرضے کا حل، یہ سب ضروری اقدامات ہیں۔ صرف وقتی بیانات اور معذرتیں مسئلے کا حل نہیں۔ عوام کو عملی اقدامات چاہیے۔
عوام بھی بجلی کے محتاط استعمال سے صورتحال بہتر بنا سکتے ہیں۔ غیر ضروری لائٹس بند کرنا، توانائی بچانے والے بلب استعمال کرنا، پیک آورز میں استعمال کم کرنا، یہ چھوٹے اقدامات بڑا فرق پیدا کر سکتے ہیں۔
بدترین لوڈشیڈنگ صرف تکنیکی بحران نہیں بلکہ قومی احساس کا امتحان ہے۔ یہ سوال اٹھاتی ہے کہ ہم ترقی کی کس منزل پر کھڑے ہیں۔ کیا جدید دور میں بھی بنیادی سہولتیں میسر نہیں؟
یہ بحران ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ترقی صرف عمارتوں سے نہیں ہوتی بلکہ مضبوط نظام سے ہوتی ہے۔
نتیجہ
بدترین لوڈشیڈنگ ایک ایسا مسئلہ ہے جو زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کرتا ہے۔ یہ معیشت کو کمزور کرتی ہے، تعلیم کو متاثر کرتی ہے، صحت کو خطرے میں ڈالتی ہے، سماج کو بے چین کرتی ہے اور انسان کے ذہنی سکون کو چھین لیتی ہے۔ اس کا حل صرف پیداوار بڑھانے میں نہیں بلکہ جامع پالیسی، بہتر منصوبہ بندی، متبادل توانائی، اور عوامی شعور میں ہے۔ جب تک یہ اقدامات نہیں کیے جاتی، لوڈشیڈنگ صرف بجلی کی بندش نہیں بلکہ امیدوں کی بندش بنی رہے گی۔بجلی کی روشنی صرف گھروں کو روشن نہیں کرتی بلکہ قوموں کے مستقبل کو روشن کرتی ہے۔ اگر یہ روشنی بار بار بجھتی رہے تو ترقی کا سفر بھی اندھیرے میں گم ہو جاتا ہے۔
آخر میں ایک گزارش ہے کہ بجائے ساری رات عوام کو ذلیل کرنے کے رات شام پانچ سے رات ساڑھے دس بجے تک جتنی لوڈشیڈنگ کرنی ہے کر لیں۔ اس کے بعد صبح پانچ بجے تک کوئی لوڈ شیڈنگ نہ کی جائے تاکہ لوگ چند گھنٹے سکون سے سو سکیں۔
یہ تبھی ممکن ہے جب بجلی کی آنیاں جانیاں ختم ہوں گی۔







